23/06/2026
کیا سندھ پولیس جیالوں کی جاگیر بن چکی ہے؟ ایک ہی وقت میں کونسلر بھی اور سندھ پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپیکٹر (ASI) بھی!
ملیر ٹاؤن کے عوام اور اعلیٰ حکام کے لیے ایک بڑا انکشاف!
یہ صاحب عدنان ہیں، جو یوسی 1 (ملیر ٹاؤن) کے یوتھ کونسلر ہیں۔ یہ کوئی عام کارکن نہیں، بلکہ پیپلز پارٹی کےMPA سلیم بلوچ اور MNA حکیم بلوچ کے انتہائی خاص آدمی ہیں۔
انہی سیاسی تعلقات اور اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، انہیں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے حال ہی میں سندھ پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) بھرتی کروا دیا گیا ہے۔
عوام کے ٹیکس کے پیسے پر ڈبل ڈاکہ:
* ایک طرف یہ موصوف یونین کونسل سے بطور کونسلر ماہانہ 15,000 روپے کا اعزازیہ/بھتہ وصول کر رہے ہیں۔
* دوسری طرف سندھ پولیس سے بطور سب انسپکٹر سرکاری تنخواہ اور مراعات بھی بٹور رہے ہیں۔
یہی وہ سیاسی بھرتیاں ہیں جن کی وجہ سے آج سندھ پولیس کی کارکردگی تباہ ہو چکی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ یہی جیا لے الیکشن کے وقت اپنے سیاسی آقاوں کو جتوانے کے لیے پولیس کی وردی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دھاندلی کرواتے ہیں۔
ہمارا قانون اور آئین کیا کہتا ہے؟
سندھ پولیس میں بھرتی ہوتے وقت ہر فرد یہ بیانِ حلفی (Affidavit) جمع کرواتا ہے کہ وہ کسی دوسرے سرکاری یا عوامی عہدے پر فائز نہیں ہے۔ تو پھر عدنان صاحب نے یہ نوکری کیسے حاصل کی؟ کیا یہ صریحاً قانون کا مذاق اور فراڈ نہیں ہے؟
اعلیٰ حکام سے فوری مطالبہ:
ہم حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ پولیس، اینٹی کرپشن سندھ، سندھ پبلک سروس کمیشن اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) سے پرزور گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں اور اس سنگین معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائیں۔
اب یہ آئی جی سندھ پولیس اور ایس ایس پی ملیر کا کڑا امتحان ہے کہ:
کیا وہ ایسے کرپٹ اور ناجائز طریقے سے نوکری حاصل کرنے والے شخص کو برقرار رکھ کر سندھ پولیس کے لیے مزید شرمندگی کا باعث بنیں گے، یا اس کے خلاف فوری قانونی کارروائی (Dismissal from service) کر کے محکمہ پولیس میں بہتری اور غیر جانبداری کا ثبوت دیں گے؟
Sindh Police Karachi Police - KPO SSU Sindh Police Election Commission Of Pakistan - ECP