31/01/2018
تم غریب نہیں ہو
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسولَ اللہ! زیادہ مال رکھنے والے اجر و ثواب لے گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنی ضرورت سے زائد مالوں سے صدقہ کرتے ہیں (ہم نہیں کر سکتے)۔ فرمایا: کیا اللہ نے تمہارے لئے ایسی چیز نہیں بنائی جس سے تم صدقہ کر سکو؟ بے شک *ہر دفعہ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ الحمد للہ کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور بُرائی سے روکنا صدقہ ہے اور* (بیوی سے) *مباشرت کرنا صدقہ ہے*۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا اس میں بھی اجر ملتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ اگر وہ یہ (خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس کا گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے
*صحیح مسلم: 2329*