03/09/2026
تیسرا آپشن!
بات بہت سادہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمن اور جماعتِ اسلامی کے پاس راستے کیا تھے؟
ایک بات تو آپ مانیں گے :
وہ اس موجودہ نظام کے Beneficiary نہیں ہیں۔
آپ الٹے بھی لٹک جائیں، اس کے باوجود اس بات کا کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کر سکتے کہ جماعتِ اسلامی نے اس نظام سے کوئی مالی یا سیاسی فائدہ حاصل کیا ہے۔
اس صورتحال میں ان کے سامنے تین راستے تھے:
━━━━━━━━━━
پہلا راستہ
اس نظام کا حصہ بن جاتے۔
جہاں ایم کیو ایم کو کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی 17 نشستیں مل گئیں، وہاں جماعتِ اسلامی کو تو اس سے دوگنی نشستیں مل جاتیں۔
وزارتیں ملتیں۔
اختیار ملتا۔
ریاستی وسائل
یعنی موجاں ہی موجاں
یہاں آپ سے سوال بنتا ہے کہ اگر وہ کرپٹ اور منافق ہیں تو یہ سیدھا ساراستہ اختیار کرلیتے. بھلا اتنا گھماؤ پھراؤ والا راستہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی...
کچھ کامن سینس تو ہوگی آپ کے پاس؟
━━━━━━━━━━
دوسرا راستہ
اس نظام کو گندا سمجھ کر اس سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لیتے۔
آخر تبلیغی جماعت اور تنظیم اسلامی یہ کام کر ہی رہی ہیں
دعوت و تبلیغ میں لگ جاتے
درس و تدریس کرتے۔
خدمت خلق کرتے۔ بنو قابل، وظیفے، پینے کا پانی جیسے منصوبے چلاتے۔
یقیناً یہ سب بہت قیمتی کام ہیں۔ اور وہ اب بھی کررہے ہیں. لیکن بس "صرف" یہی کرنے میں فائدہ یہ تھا
انگلی بھی نہ کٹتی
آرام بھی ہوتا۔
ہر طرف شاباش ملتی۔
“واہ واہ” کے ڈونگرے برستے۔
اور یقینا" کسی سے سیاسی ٹکراؤ بھی نہ ہوتا۔
━━━━━━━━━━
تیسرا راستہ
سب سے مشکل۔
سب سے طویل۔
اور سب سے خطرناک راستہ۔
عوام کے پاس جانا۔
جمع کرکے سڑکوں پر آنا۔
ان کو کسی بڑی جدوجہد کیلئے تیار کرنا
اپنی جتنی بھی قوت ہے، اسے سڑک پر لا کر کھڑا کرنا۔
اللہ پر توکل کرنا۔
عوام پر بھروسہ کرنا۔
اور ان کے اصل مسائل پر آواز اٹھانا۔
حافظ نعیم الرحمن اور جماعتِ اسلامی نے یہی راستہ منتخب کیا۔
یاد رکھیے:
نہ اس وقت الیکشن کا شور ہے۔
نہ وزارتیں بٹ رہی ہیں۔
نہ سفارتیں تقسیم ہو رہی ہیں۔
ایسے وقت میں طاقتور نظام کے سامنے کھڑے ہونا اور خالصتاً عوامی مسائل پر آواز اٹھانا آسان کام نہیں۔
یہ صرف سیاست نہیں۔
یہ دعوت بھی ہے۔
یہ تربیت بھی ہے۔
یہ عوام سے رابطہ بھی ہے۔
اور سنت بھی یہی ہے
اور اسی راستے کا انتخاب کیا گیا ہے۔
آپ کو حافظ نعیم الرحمن پر تنقید کا پورا حق ہے۔
ان کی حکمتِ عملی سے اختلاف کریں۔
ان کے فیصلوں پر سوال اٹھائیں۔
ان کی سیاست پر تنقید کریں۔
لیکن—
اختلاف اور کردار کشی میں فرق ہوتا ہے۔
تنقید اور نیت پر حملہ ایک چیز نہیں۔
کسی کو منافق قرار دینا دلیل نہیں ہوتا۔
اور جب دلیل ختم ہو جائے اور نیتوں کے سرٹیفکیٹ بٹنا شروع ہو جائیں—
تو پھر مسئلہ حافظ نعیم الرحمن کی سیاست نہیں،
آپ کے اپنے اخلاق اور تربیت کا ہوتا ہے۔
اختلاف کیجیے۔
سوال کیجیے۔
تنقید کیجیے۔
لیکن ذرا کوئی متبادل بھی تو بتائیے..
پہلے اپنا دیا تو جلائیے—
پھر روشنی پر اعتراض کیجیے۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دیا جلا کے ... سر عام رکھ دیا!