14/07/2026
کراچی رینجرز پر حملے میں ملوث ماسٹر مائنڈ قاری بشیر اور دہشتگردوں کی سہلوتکاری میں ملوث دہشتگرد کے دوران تفتیش انکشافات
حملے میں ملوث تین دہشتگرد افغانی تھے
دہشتگردوں کو اسلحہ فراہم کرنے والے خارجی کا وڈیو بیان جبکہ حملے سے قبل دہشتگردوں کی وڈیو بھی مارخور نے گرفتار سہلوتکاروں کے موبائلز سے برآمد کر لی
حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی چار مراحل میں کی گئی، جس میں افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورک اور پاکستان میں سہولت کاروں نے اہم کردار ادا کیا
حملے کا پہلا مرحلہ افغانستان میں منصوبہ بندی پر مشتمل تھا، دوسرے مرحلے میں دہشت گردوں کو پاکستان منتقل کیا گیا، تیسرے مرحلے میں مقامی سہولت کار گروپ نے معاونت فراہم کی، جبکہ آخری مرحلے میں حملہ آوروں کو اسلحہ اور خودکش جیکٹس مہیا کی گئیں
حملے میں شامل ایک خودکش بمبار جانان افغانستان کا شہری تھا، جبکہ دوسرا حملہ آور ضلع باجوڑ کا رہائشی تھا جو افغانستان میں ۲۰ برس سے مقیم تھا تیسرا دہشت گرد عمر فاروق افغانستان کے صوبہ کنڑ کا رہائشی تھا، جبکہ چوتھا دہشت گرد، جو زندہ گرفتار ہوا، افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے تعلق رکھتا ہے
حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر تھا، جسے پاکستان سے افغانستان بلا کر یہ ذمہ داری سونپی گئی بعد ازاں فورسز نے ایک کارروائی کے دوران قاری بشیر کو گرفتار کر لیا
قاری بشیر نے دورانِ تفتیش حملے کی منصوبہ بندی اور اس سے متعلق دیگر جرائم میں اپنے کردار کا اعتراف کیا ہے
Pakistani Forces Lover Information and Guidance PAF Navy Army Induction