16/07/2026
"خان بابا! ہجرت میں اپنے چار بیٹے اس ملک کےلیے قربان کر دیے اپ نے۔ بھلا کیا ملا اس ملک سے اپ کو۔"
میر ہمدان نے یوں ہی بیٹھے بیٹھے خان بابا سے سوال کر دیا تھا اس دن۔
خان بابا نے اپنا جھریوں سے بھرا ہاتھ اپنی تھوڑی پہ ٹکایا، سانس ہموار کی، شاید چار جوان بیٹوں کی شہادت کی یاد نے دھڑکن پہ اثر کیا تھا۔
فضا میں نا معلوم سمت گھورتے ہوئے خان بابا گویا ہوئے، خان بابا کا جواب تاریخ کے در و دیوار اور زمانے کے ایوان ہلا گیا۔
میر ہمدان غور سے سن، اور وجود کی ساری حسیات کانوں میں سمیٹ کرسن۔
"چار تھے نا چاروں اس ملک پہ قربان کر دیے، چار اور بھی ہوتے خدا کی قسم اس ملک پہ قربان کر دیتا اف تک نہ کرتا، اور اس ملک سے کچھ بھی نہ مانگتا۔ قربانیاں صلے کی تمنا میں دی جانے لگیں تو اخلاص جہان سے اٹھ جائے۔ یہ لا الہ اللہ کی بنیاد پہ بنا ملک تھا۔ میں نے چار بیٹے لا الہ الا اللہ پہ قربان کیے۔ بھلا لا الہ الا اللہ پہ قربان ہونے کا بھی کوئی صلہ طلب کرتا ہے؟"
میرِ کارواں ہم تھے روحِ کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے اصل داستان تم ہو
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سر بلند ہی رکھنا
Super Power Pakistan