25/08/2026
کراچی ون یونٹ اور 1972 کا لسانی تنازعہ
*حقائق کی روشنی میں *
سوشل میڈیا پر اکثر ایک پوسٹ گردش کرتی ہے جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "جنرل ایوب خان نے مہاجرین کے لیے الگ صوبہ پیش کیا تھا لیکن مہاجر رہنماؤں نے انکار کر دیا"۔ اس مضمون میں ہم صرف مستند تاریخی ریکارڈ کی روشنی میں یہ جاننے کی کوش کریں گے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔
*1. ون یونٹ کا قیام اور خاتمہ*
*14 اکتوبر 1955* کو مغربی پاکستان کی 4 صوبوں - پنجاب، سندھ، بلوچستان، سرحد - کو ملا کر "ون یونٹ" بنایا گیا۔ مقصد مشرقی پاکستان کی آبادی کے مقابلے میں توازن لانا تھا۔ یہ منصوبہ ایوب خان نے 1954 میں لندن میں تیار کیا تھا۔
*1 جولائی 1970* کو جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ ختم کر کے 4 صوبے بحال کیے۔ ایوب خان 1969 میں ہی اقتدار چھوڑ چکے تھے، اس لیے ون یونٹ کا خاتمہ ان کے دور میں نہیں ہوا۔
*2. کیا ایوب خان نے "مہاجر صوبہ" پیش کیا؟*
اس حوالے سے ایوب خان کی اپنی کتاب _Friends Not Masters_ یا کسی سرکاری ریکارڈ میں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
البتہ تاریخی طور پر کراچی کو الگ رکھنے کا مطالبہ سب سے پہلے *1954* میں کمیونسٹ رہنما *مہمودالحق عثمانی* نے کیا تھا۔ اور پھر *1969* میں جب ون یونٹ ٹوٹا تو یہ مطالبہ دوبارہ زور پکڑ گیا۔
*23 فروری 1969* کو _روزنامہ ڈان_ نے رپورٹ کیا کہ کراچی میں "Jeay Karachi Committee" بنی جس کی قیادت NSF کے طلبہ کے پاس تھی۔ اس کمیٹی کا مطالبہ تھا: *"کراچی صوبہ" بنایا جائے*۔
اسی سال "مہاجر محاذ - MM" بھی بنی۔
یعنی ریکارڈ کے مطابق 1969-1970 میں کراچی کے سیاسی اور طلبہ گروپس خود کراچی کو سندھ سے الگ رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے، نہ کہ اسے ٹھکرا رہے تھے۔
*3. کراچی سندھ میں کیوں شامل ہوا؟*
1960 میں دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا۔ 1970 میں ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد جب سندھ صوبہ بحال ہوا تو کراچی خود بخود سندھ کا حصہ بن گیا۔ اس وقت PPP نے 1970 کا الیکشن سندھ سے جیتا تھا۔ "مہاجر رہنماؤں کے ساتھ کوئی معاہدہ" والا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔
*4. 1972 کا سندھی لینگویج بل اور اس کے اثرات*
*3 جولائی 1972* کو سندھ اسمبلی میں "The Sindh Teaching, Promotion and Use of Sindhi Language Bill, 1972" پیش ہوا۔
بل کے "Statement of Objects" میں لکھا تھا کہ یہ *"اردو کے استعمال پر اثر انداز نہیں ہوگا"*۔
*اہم نکات:*
1. سندھی کو سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں بتدریج نافذ کرنا
2. سندھی کو چوتھی کلاس سے 12ویں تک لازمی مضمون بنانا
*7 جولائی 1972* کو اسمبلی نے 62 میں سے 50 ووٹوں سے بل پاس کیا۔ اس کے فوراً بعد کراچی میں احتجاج شروع ہو گیا۔
_ڈان_ کے مطابق *7 جولائی* تک 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہو چکے تھے۔ _روزنامہ جنگ_ نے فرنٹ پیج پر کالے بارڈر کے ساتھ شائع کیا: *"اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے"*۔
کراچی یونیورسٹی کے طلبہ نے سندھی ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ جلا دیے۔ 3 دن میں 22 افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہوئے۔ حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ، سکھر میں بھی فسادات پھیل گئے۔ فوج طلب کر کے کرفیو لگانا پڑا۔
ماہرین نے لکھا کہ یہ صرف زبان کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ "نئی نسلی صورتحال کا سماجی و معاشی تنازعہ" تھا۔
*5. بھٹو کا حل: 16 جولائی 1972 کا آرڈیننس*
صورتحال قابو سے باہر دیکھ کر *ذوالفقار علی بھٹو* نے مداخلت کی۔ *16 جولائی 1972* کو آرڈیننس کے ذریعے *سندھی کے ساتھ اردو کو بھی سندھ کی سرکاری زبان* قرار دیا گیا۔ سرکاری ملازمین کو 12 سال تک سندھی نہ سیکھنے پر نوکری سے نہ نکالنے کی ضمانت بھی دی گئی۔
اسی دوران *MTMK - متحدہ طلبہ محاذ کراچی* بنی جس نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس اردو میں کروائیں۔ *1974* میں دوبارہ "کراچی صوبہ موومنٹ" چلی لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہو سکی۔
*نتیجہ: حقائق کیا کہتے ہیں؟*
1. *ون یونٹ* ایوب خان نے بنایا، یحییٰ خان نے 1970 میں توڑا۔
2. *کراچی صوبے کا مطالبہ* 1954 سے اور پھر 1969 کے بعد کراچی کے گروپس خود کر رہے تھے۔
3. *کوٹہ سسٹم اور لسانی مسئلہ* 1972 کے PPP دور میں شدت اختیار کر گیا، جو بعد میں 1978 میں APMSO اور پھر MQM کی بنیاد بنا۔
4. اس لیے یہ کہنا کہ "مہاجر رہنماؤں نے ایوب سے صوبہ لینے سے انکار کر دیا تھا" تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ فیصلے جذبات سے نہیں، دستاویزات سے کیے جاتے ہیں۔
---
*حوالہ جات:*
1. The Express Tribune, "Remembering One Unit", 1 July 2020
2. Dawn, "SMOKERS’ CORNER: THE EVOLUTION OF MOHAJIR CONSCIOUSNESS"
3. Dawn, "A leaf from history: Language frenzy in Sindh"
4. Dawn, "Urdu: The language of defiance"