Mukhtar Muhammadi

Mukhtar Muhammadi We are either winning or losing because losing is against our will. I am Mukhtar Muhammadi from Karachi, the city of lights.

I am interested in politics only because I want to serve the creatures of Allah and become the favorite servant of my Lord. We believe in the politics of the welfare of humanity, beyond linguistic-free sectarianism.

کراچی ون یونٹ اور 1972 کا لسانی تنازعہ *حقائق کی روشنی میں *سوشل میڈیا پر اکثر ایک پوسٹ گردش کرتی ہے جس میں دعویٰ کیا جا...
25/08/2026

کراچی ون یونٹ اور 1972 کا لسانی تنازعہ
*حقائق کی روشنی میں *
سوشل میڈیا پر اکثر ایک پوسٹ گردش کرتی ہے جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "جنرل ایوب خان نے مہاجرین کے لیے الگ صوبہ پیش کیا تھا لیکن مہاجر رہنماؤں نے انکار کر دیا"۔ اس مضمون میں ہم صرف مستند تاریخی ریکارڈ کی روشنی میں یہ جاننے کی کوش کریں گے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔

*1. ون یونٹ کا قیام اور خاتمہ*
*14 اکتوبر 1955* کو مغربی پاکستان کی 4 صوبوں - پنجاب، سندھ، بلوچستان، سرحد - کو ملا کر "ون یونٹ" بنایا گیا۔ مقصد مشرقی پاکستان کی آبادی کے مقابلے میں توازن لانا تھا۔ یہ منصوبہ ایوب خان نے 1954 میں لندن میں تیار کیا تھا۔

*1 جولائی 1970* کو جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ ختم کر کے 4 صوبے بحال کیے۔ ایوب خان 1969 میں ہی اقتدار چھوڑ چکے تھے، اس لیے ون یونٹ کا خاتمہ ان کے دور میں نہیں ہوا۔

*2. کیا ایوب خان نے "مہاجر صوبہ" پیش کیا؟*
اس حوالے سے ایوب خان کی اپنی کتاب _Friends Not Masters_ یا کسی سرکاری ریکارڈ میں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
البتہ تاریخی طور پر کراچی کو الگ رکھنے کا مطالبہ سب سے پہلے *1954* میں کمیونسٹ رہنما *مہمودالحق عثمانی* نے کیا تھا۔ اور پھر *1969* میں جب ون یونٹ ٹوٹا تو یہ مطالبہ دوبارہ زور پکڑ گیا۔

*23 فروری 1969* کو _روزنامہ ڈان_ نے رپورٹ کیا کہ کراچی میں "Jeay Karachi Committee" بنی جس کی قیادت NSF کے طلبہ کے پاس تھی۔ اس کمیٹی کا مطالبہ تھا: *"کراچی صوبہ" بنایا جائے*۔
اسی سال "مہاجر محاذ - MM" بھی بنی۔

یعنی ریکارڈ کے مطابق 1969-1970 میں کراچی کے سیاسی اور طلبہ گروپس خود کراچی کو سندھ سے الگ رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے، نہ کہ اسے ٹھکرا رہے تھے۔

*3. کراچی سندھ میں کیوں شامل ہوا؟*
1960 میں دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا۔ 1970 میں ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد جب سندھ صوبہ بحال ہوا تو کراچی خود بخود سندھ کا حصہ بن گیا۔ اس وقت PPP نے 1970 کا الیکشن سندھ سے جیتا تھا۔ "مہاجر رہنماؤں کے ساتھ کوئی معاہدہ" والا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔

*4. 1972 کا سندھی لینگویج بل اور اس کے اثرات*

*3 جولائی 1972* کو سندھ اسمبلی میں "The Sindh Teaching, Promotion and Use of Sindhi Language Bill, 1972" پیش ہوا۔
بل کے "Statement of Objects" میں لکھا تھا کہ یہ *"اردو کے استعمال پر اثر انداز نہیں ہوگا"*۔

*اہم نکات:*
1. سندھی کو سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں بتدریج نافذ کرنا
2. سندھی کو چوتھی کلاس سے 12ویں تک لازمی مضمون بنانا

*7 جولائی 1972* کو اسمبلی نے 62 میں سے 50 ووٹوں سے بل پاس کیا۔ اس کے فوراً بعد کراچی میں احتجاج شروع ہو گیا۔

_ڈان_ کے مطابق *7 جولائی* تک 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہو چکے تھے۔ _روزنامہ جنگ_ نے فرنٹ پیج پر کالے بارڈر کے ساتھ شائع کیا: *"اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے"*۔

کراچی یونیورسٹی کے طلبہ نے سندھی ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ جلا دیے۔ 3 دن میں 22 افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہوئے۔ حیدرآباد، میرپورخاص، نوابشاہ، سکھر میں بھی فسادات پھیل گئے۔ فوج طلب کر کے کرفیو لگانا پڑا۔

ماہرین نے لکھا کہ یہ صرف زبان کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ "نئی نسلی صورتحال کا سماجی و معاشی تنازعہ" تھا۔

*5. بھٹو کا حل: 16 جولائی 1972 کا آرڈیننس*
صورتحال قابو سے باہر دیکھ کر *ذوالفقار علی بھٹو* نے مداخلت کی۔ *16 جولائی 1972* کو آرڈیننس کے ذریعے *سندھی کے ساتھ اردو کو بھی سندھ کی سرکاری زبان* قرار دیا گیا۔ سرکاری ملازمین کو 12 سال تک سندھی نہ سیکھنے پر نوکری سے نہ نکالنے کی ضمانت بھی دی گئی۔

اسی دوران *MTMK - متحدہ طلبہ محاذ کراچی* بنی جس نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس اردو میں کروائیں۔ *1974* میں دوبارہ "کراچی صوبہ موومنٹ" چلی لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہو سکی۔

*نتیجہ: حقائق کیا کہتے ہیں؟*

1. *ون یونٹ* ایوب خان نے بنایا، یحییٰ خان نے 1970 میں توڑا۔
2. *کراچی صوبے کا مطالبہ* 1954 سے اور پھر 1969 کے بعد کراچی کے گروپس خود کر رہے تھے۔
3. *کوٹہ سسٹم اور لسانی مسئلہ* 1972 کے PPP دور میں شدت اختیار کر گیا، جو بعد میں 1978 میں APMSO اور پھر MQM کی بنیاد بنا۔
4. اس لیے یہ کہنا کہ "مہاجر رہنماؤں نے ایوب سے صوبہ لینے سے انکار کر دیا تھا" تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ فیصلے جذبات سے نہیں، دستاویزات سے کیے جاتے ہیں۔

---

*حوالہ جات:*
1. The Express Tribune, "Remembering One Unit", 1 July 2020
2. Dawn, "SMOKERS’ CORNER: THE EVOLUTION OF MOHAJIR CONSCIOUSNESS"
3. Dawn, "A leaf from history: Language frenzy in Sindh"
4. Dawn, "Urdu: The language of defiance"


تقریباً چار سال پہلے کی بات ہے...نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی کے میں بجلی کا نظام بہت عجیب چل رہا تھا 🙄ایک طرف بنگلوں اور گھ...
18/08/2026

تقریباً چار سال پہلے کی بات ہے...

نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی کے میں بجلی کا نظام بہت عجیب چل رہا تھا 🙄
ایک طرف بنگلوں اور گھروں میں رہنے والے ہر مہینے باقاعدہ بل جمع کرواتے تھے، اور دوسری طرف سڑک کے اس پار کٹی پہاڑی کی کچی بستی تھی جہاں "کنڈا سسٹم" پورے زور و شور سے چل رہا تھا 😱

دونوں علاقوں کا ٹرانسفارمر ایک ہی تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بلاک ڈی والے بل بھی پورا دیں اور ساتھ میں روزانہ 10-10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ بھی سہتے رہے ۔

ادھر سڑک پار والے دوست مفت بجلی کے مزے لیں، پنکھے بھی چلیں، کولر بھی چلیں اور شاید ساتھ میں یہ دعا بھی ہو کہ "یا اللہ یہ ٹرانسفارمر سلامت رہے" 😂

آخر کار بلاک ڈی کے رہائشیوں نے بجلی کے دفتر جا کر شکایت کی :
"جناب ہم کنڈا بھی نہیں لگاتے اور بل بھی ٹائم پر ادا کرتے ہیں تو پھر سزا ہمیں کیوں مل رہی ہے؟"

کمپنی والوں نے رجسٹر کھولا، حساب دیکھا اور بولے :
"صاحب آپ کے ٹرانسفارمر پر ریکوری صرف 40 فیصد ہے، اس لیے لوڈشیڈنگ تو ہو گی۔"

مطلب مسئلہ بجلی کا نہیں تھا 🤷
مسئلہ بہتر اور کرپٹ صارف کی گنتی کا تھا! 🧐

آخر فیصلہ ہوا کہ نیا ٹرانسفارمر نصب کیا جائے گا۔ کٹی پہاڑی والوں کے لیے الگ اور بلاک ڈی والوں کے لیے الگ ۔
سیدھا اصول: *ادھر تم، ادھر ہم* 😂

جس دن بجلی والے اپنی گاڑی لے کر پہنچے کہ آج پہلی بار ٹرانسفارمر کی "تقسیم" ہو گی، تو بستی میں ہنگامہ مچ گیا 😆

نعرے لگنے لگے :
"نیا ٹرانسفارمر نہیں لگنے دیں گے!"
"یہ پرانا ٹرانسفارمر ہزاروں سال سے لگا ہوا ہے!"
"ہم تقسیم نہیں ہونے دیں گے!"

اب یہ الگ بات ہے کہ ہزاروں سال پہلے تو بلب بھی نہیں تھا، لیکن جذبات میں انسان تاریخ آگے پیچھے کر ہی دیتا ہے 😂

خیر احتجاج ہوا، ہنگامہ ہوا، مگر اس بار بات نہ بنی۔
محکمے والے پکا ارادہ کر کے آئے تھے کہ آج "ادھر تم ادھر ہم" کر کے ہی جانا ہے۔

آخر نئے ٹرانسفارمر لگ گئے۔

اور پھر وہ دن آیا جس کا بلاک ڈی والوں کو برسوں سے انتظار تھا۔
*24 گھنٹے بجلی!*
نہ 10 گھنٹے کی کٹوتی، نہ گرمی میں پنکھے کو گھورتے ہوئے آنسو، نہ بل دیکھ کر یہ سوال "بل دیا تھا کس لیے؟ " 😄

لوگوں نے سکون کا سانس لیا، پنکھے چلے، اے سی چلے، زندگی دوبارہ روٹین پر آ گئی ۔

اور اس سارے قصے سے ایک چھوٹا سا سبق بھی ملتا ہے :
جب ایک ہی ٹرانسفارمر پر دو مختلف طرح کے صارفین کا بوجھ ڈال دو تو آخر میں ٹرانسفارمر خود کہتا ہے : بھائی مجھے الگ کر دو ، میں یہ بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتا 😂

اور ہاں...
آج کل کراچی میں صوبے کی باتیں بھی چل رہی ہیں، تو مہربانی کر کے اس واقعے کو کسی علاقے، قوم یا سیاسی مطالبے سے نہ جوڑیئے گا۔
یہ صرف ایک پرانے ٹرانسفارمر کی کہانی ہے۔
اگر کسی کو اس میں کچھ اور نظر آ جائے تو وہ محض اتفاق ہے 😀😀

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 19:00 - 22:00
Tuesday 19:00 - 22:00
Wednesday 19:00 - 22:00
Thursday 19:00 - 22:00
Friday 19:00 - 22:00
Saturday 19:00 - 22:00
Sunday 19:00 - 22:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mukhtar Muhammadi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category