Sheikh-ul-Hind Library

Sheikh-ul-Hind Library Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sheikh-ul-Hind Library, Library, Kanju.

The Library’s mission is to enable the youth and students of our community to engage optimally with the ever changing information environment in order to succeed in their research, learning, understanding, awakening and teaching goals

مولانا ابوالکلام آزاد 22 فروری 1958 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی وفات بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ہوئی اور انہی...
31/01/2026

مولانا ابوالکلام آزاد 22 فروری 1958 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی وفات بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ہوئی اور انہیں وہیں جامع مسجد کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے جنازے اور ان کی زندگی سے کچھ تصاویر۔۔

افغانستان کی تاریخی دولتوں اور تہذیبوں کا ایک زندہ ثبوت، صوبہ پروان میں واقع "بڈھا اسٹوپہ" یا مشہور نام سے "توپ درہ استو...
20/01/2026

افغانستان کی تاریخی دولتوں اور تہذیبوں کا ایک زندہ ثبوت، صوبہ پروان میں واقع "بڈھا اسٹوپہ" یا مشہور نام سے "توپ درہ استوپہ" (Topdara Stupa)، آج بھی اپنی عظمت اور راز آلود ساخت کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ مقام، جو چاریکار شہر کے جنوب مغرب میں توپ درہ نامی گاؤں کے قریب واقع ہے، افغانستان کے سب سے بڑے اور بہترین حالت میں محفوظ بودھ مت کے باقی ماندہ آثار میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔

یہ گنبد نما تعمیر تقریباً 1800 سے 2000 سال پرانی ہے اور ماہرین اسے کوشانی دور (دوسری سے پانچویں صدی عیسوی) سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد کا قطر تقریباً ۷۰ میٹر اور بلندی 20 سے 33 میٹر تک بتائی جاتی ہے۔ انگریز محقق چارلس میسن نے 19ویں صدی میں اسے "ان علاقوں کا سب سے مکمل اور خوبصورت استوپہ" قرار دیا تھا۔ سفید پلاسٹر سے ملبوس یہ ڈھانچہ دور سے ایک تاج کی مانند نظر آتا ہے، جو کوہِ صافی کے دامن میں کھڑا، آس پاس کے باغات اور کھیتوں کے درمیان ایک الگ ہی منظر پیش کرتا ہے۔

تاریخی تناظر میں یہ علاقہ قدیم زمانے میں کاپیسا (Kapisa) نامی شہر کا حصہ تھا، جو آج بگرام کے قریب ہے۔ بگرام نہ صرف اپنے ایئر بیس بلکہ بودھ مت کے عروج کے دور میں بدھائی آرٹ اور ثقافت کا ایک بڑا مرکز رہا۔ توپ درہ استوپہ اسی دور کی یادگار ہے جب یہاں بدھ مت کی عبادت گاہیں اور وِہار (monasteries) آباد تھے۔ بعض مقامی روایات اور دستاویزات میں اسے آتش پرستی (زرتشتی) اور بت پرستی کے مراکز سے بھی جوڑا جاتا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ علاقہ مختلف ادوار میں مذہبی تنوع کا گڑھ رہا ہے۔ فارسی اور پشتو تاریخی تحریروں میں بھی پروان کے اس قدیم ورثے کا تذکرہ ملتا ہے۔

حال ہی کے برسوں میں افغان کلچرل ہیریٹیج کنسلٹنگ آرگنائزیشن (ACHCO) نے 2016 سے اس استوپہ کی بحالی اور حفاظت کا کام شروع کیا، جس کے نتیجے میں اس کی شان و شوکت کو کافی حد تک بحال کیا گیا۔ 2022 میں یونسکو نے بھی اسے علاقائی ثقافتی ورثے کی فہرست میں نمایاں مقام دیا۔ تاہم، غیر قانونی کھدائی اور قدرتی عوامل اب بھی اس کی حفاظت کے لیے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔

پروان صوبہ، جو کابل کے شمال میں واقع ہے، تاریخی اعتبار سے امیر خطہ ہے۔ یہاں بگرام کے قدیم شہر کے آثار، بودھائی موناسٹریاں، اور توپ درہ جیسے عظیم استوپے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین صدیوں تک مختلف تہذیبوں—یونانی، کوشانی، بودھائی اور بعد میں اسلامی—کا سنگم رہی ہے۔

"بڈھا اسٹوپہ" محض ایک پتھر کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ ایک زندہ تاریخ ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ زمین کبھی امن، علم اور مذہبی ہم آہنگی کا گہوارہ رہی ہے۔ آج کے دور میں جب افغانستان نئی شروعات کی تلاش میں ہے، ایسے مقامات ہمیں اپنے ماضی سے سبق لینے اور مستقبل کے لیے ثقافتی ورثے کی حفاظت کی اہمیت سکھاتے ہیں۔

اگر ہم اپنے ان پرانے ستونوں کو سنبھال لیں تو شاید یہ ہمیں ایک نئی راہ بھی دکھا سکیں۔

1984.85 کے یادیں...... دیر خاص میں اب موجود دور میں یہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تعمیر کیا گیا ہےسالوں پہلے یہاں ایک گر...
16/01/2026

1984.85 کے یادیں......
دیر خاص میں اب موجود دور میں یہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تعمیر کیا گیا ہے
سالوں پہلے یہاں ایک گراونڈ تھا جس کا نام شالیمار گراونڈ تھا
سٹیج پر کھڑا شخص صوبہ سرحد موجوده خیبر بختونخوا کا گورنر لیفٹیننٹ جنرل فضل حق ہے ۔
سامنے نواب دیر کا قلعہ بھی نمایاں ہے
اور یہاں ایک ہیلی پیڈ بھی تھا
دیر خاص کا ایک تاریخی عکس.
كافي دیر رائل فیملی اف اخون خیل

سقوط ڈھاکہ ۔۔کہانی زبانیایک بار کی بات ہے، ایک بڑا سا گھر تھا۔ یہ گھر عجیب تھا، اس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ یہاں تھا اور د...
21/12/2025

سقوط ڈھاکہ ۔۔کہانی زبانی

ایک بار کی بات ہے، ایک بڑا سا گھر تھا۔ یہ گھر عجیب تھا، اس کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ یہاں تھا اور دوسرا کافی دور۔ درمیان میں سمندر تھا، راستے لمبے تھے، مگر نام ایک تھا اور پہچان بھی ایک۔ کہنے کو یہ ایک ہی گھر تھا، مگر فاصلے بہت زیادہ تھے۔

دونوں حصوں کے لوگ خود کو ایک ہی گھر کا فرد کہتے تھے، مگر ایک حصے کی بات اکثر ان سنی رہ جاتی تھی۔ پیچھے والے حصے کے بچوں نے کئی بار کہا کہ ہمیں بھی وہی حق چاہیے، وہی عزت اور وہی سنا جانا۔ سامنے والے حصے کے بڑوں نے بات سنی ضرور، مگر دل سے نہیں۔ وہ ہر بار یہی کہتے رہے: ابھی نہیں، بعد میں۔

وقت گزرتا گیا۔ شکایتیں بڑھتی گئیں اور خاموشی گہری ہوتی چلی گئی۔ اور خاموشی وہ چیز ہے جو آہستہ آہستہ رشتوں میں دراڑ ڈال دیتی ہے۔ جب بات ختم ہو جائے تو دل دور ہونے لگتے ہیں، اور فاصلے بڑھتے بڑھتے دیوار بن جاتے ہیں۔
پھر ایک رات آئی، شور اور آنسوؤں سے بھری ہوئی رات۔ اس رات نے سب کچھ بدل دیا۔ صبح ہوئی تو وہ گھر، جو کبھی ایک تھا، اب ایک نہیں رہا تھا۔ ایک حصہ الگ کھڑا تھا، جیسے دیوار سے اینٹ ٹوٹ کر الگ ہو جائے۔ سب رو رہے تھے، کیونکہ جو ٹوٹتا ہے وہ صرف اینٹ یا دیوار نہیں ہوتی، دل بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔
یہ کہانی کسی عام گھر کی نہیں تھی۔ ایسا ہی پاکستان کی ہے۔ اس کے بھی دو حصے تھے: مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان۔ بات نہ سننے، ناانصافیوں اور غلط فیصلوں کی وجہ سے دلوں کے فاصلے بڑھتے گئے۔ آخرکار 1971 میں مشرقی پاکستان الگ ہو گیا اور بنگلہ دیش بن گیا۔ تاریخ میں اس واقعے کو سقوطِ ڈھاکہ کہا جاتا ہے۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ملک صرف زمین کا نام نہیں ہوتا۔ وہ انصاف، بات چیت اور ایک دوسرے کو سننے سے جڑے رہتے ہیں۔ جب یہ چیزیں ختم ہو جائیں تو بڑے بڑے ملک بھی ٹوٹ جاتے ہیں—جیسے ٹوٹا۔
16 december سقوط ڈھاکہ

صوبہ سرحد  صوبہ پختونخواہ کا پرانا سکول کتاب
18/12/2025

صوبہ سرحد
صوبہ پختونخواہ کا پرانا سکول کتاب

یہ سال 1960 ہے۔ پاکستان میں ایوب خان فیلڈ مارشل سے صدر کے عہدے پر مننتقل ہو چکے ہیں۔  اس سال ان کی کامیابیوں کو خصوصی طو...
18/12/2025

یہ سال 1960 ہے۔ پاکستان میں ایوب خان فیلڈ مارشل سے صدر کے عہدے پر مننتقل ہو چکے ہیں۔ اس سال ان کی کامیابیوں کو خصوصی طور منایا گیا۔ اور ثابت کیا گیا وہ ملک کے مقبول ترین لیڈر بن چکے ہیں اور عوام ان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بے چین نظر اتی ہے۔۔ پاکستان تو پاکستان پوری دنیا میں وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔

برما جسے اب میانمار کہتے ہیں، 31 مارچ 1937ء تک ہندوستان کا ایک صوبہ ہوتا تھا۔ یکم اپریل 1937ء کو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1...
07/12/2025

برما جسے اب میانمار کہتے ہیں، 31 مارچ 1937ء تک ہندوستان کا ایک صوبہ ہوتا تھا۔ یکم اپریل 1937ء کو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کا نفاذ ہوا تو برما ایک صوبے سے ملک بن گیا۔
ذیل میں برما / میانمار کی تاریخ، 1935ء کے ایکٹ اور 1937ء میں ہندوستان سے علیحدگی کے موضوع پر ایک جامع اور منظم مضمون پیش کیا جا رہا ہے:
میانمار (برما) اور 1937ء میں ہندوستان سے علیحدگی — ایک تاریخی جائزہ

برما جسے آج میانمار (Myanmar) کہا جاتا ہے، تاریخ کے مختلف ادوار میں بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ 19ویں صدی میں برطانوی استعمار کے ہاتھوں شکست کے بعد یہ ریاست برطانوی ہندوستان میں شامل ہوئی اور ایک صوبے کی حیثیت اختیار کر گئی۔ تاہم 1937ء میں برما کو باقاعدہ طور پر ہندوستان سے الگ کر کے ایک خود مختار ڈومینین ملک کے طور پر تشکیل دے دیا گیا۔ اس علیحدگی کا پس منظر، قانونی پہلو اور سیاسی اثرات تاریخ کے صفحات میں واضح طور پر موجود ہیں۔

برما کی ہندوستان کے ساتھ وابستگی

1824ء سے 1886ء تک برما تین جنگوں کے بعد مکمل طور پر برطانوی قبضے میں آیا۔

اسے ابتدا میں برطانوی ہندوستان کے ایک صوبے کی حیثیت دی گئی۔

برما کی انتظامیہ، عدلیہ، فوج اور تجارت براہ راست ہندوستانی گورنر جنرل کے تابع تھی۔

ہندوستان کے باشندے بڑی تعداد میں برما آ کر تجارت، صنعت اور ملازمت میں حصہ لیتے تھے، خصوصاً کلکتہ، بنگال اور بہار کے لوگ۔

---

1935ء کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ

Government of India Act 1935 برطانوی پارلیمنٹ کی ایک بڑی آئینی قانون سازی تھی جس نے ہندوستان کے انتظامی ڈھانچے میں کئی بڑی تبدیلیاں کیں، جن میں ایک اہم شق برما کی علیحدگی سے متعلق تھی۔

اہم نکات:

1. برما کو ہندوستان سے الگ کرنے کی سفارش شامل تھی۔

2. برما کے لیے الگ آئینی ڈھانچہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

3. برما میں خود حکمرانی کا نظام قائم کیا گیا جو نائب بادشاہ (Viceroy) کے بجائے برمایی گورنر کے تحت چلتا تھا۔

4. آئینی تقسیم کا مقصد برما کے وسائل، ثقافت اور سیاسی حالات کے مطابق انتظام تھا۔
1937ء میں برما کی علیحدگی

31 مارچ 1937ء برما کا ہندوستان کے صوبے کے طور پر آخری دن تھا۔

1 اپریل 1937ء برما ایک نئے ملک کے طور پر سامنے آیا۔

اسے مکمل خودمختاری تو نہیں ملی، لیکن اسے برطانوی تاج کے تحت ایک الگ نوآبادیاتی ملک (Crown Colony) کا درجہ ملا۔

برطانیہ نے وہاں گورنر جنرل برائے برما تعینات کیا۔

تاریخی حقیقت:

> یکم اپریل 1937ء برما کی سرکاری پیدائش کی تاریخ ہے بطور الگ ملک۔
ہندوستان اور برما کے تعلقات میں کمی

برما کی علیحدگی کے بعد:

تجارت کے راستے بدل گئے۔

ہندوستانیوں کے لیے جاب مارکیٹ محدود ہوئی۔

برما کے تاجر اور جاگیردار خودمختار بن گئے۔

برما کے ہندوستانی باشندوں کو نوکریوں اور شہریت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
علیحدگی کی وجوہات

1. انتظامی مسائل:
ہندوستان سے برما اتنا دور تھا کہ نظم و نسق مشکل تھا۔

2. ثقافتی و مذہبی فرق:
برما میں بدھ مت کے پیروکار اکثریت میں تھے۔
ہندوستان کے مسائل ان سے مختلف تھے۔

3. سیاسی حالات:
ہندوستان میں آزادی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی، جبکہ برما میں یہ تحریک کمزور تھی۔

4. برطانیہ کی حکمتِ عملی:
برطانوی حکومت چاہتی تھی کہ برما کو الگ کر کے اسے ایشیا میں ایک فوجی اور معاشی اڈے کے طور پر استعمال کیا جائے۔
برما کی علیحدگی کے بعد کی صورتِ حال

برما کی سیاست براہِ راست لندن کے زیرِ اثر رہی۔

دوسری جنگِ عظیم میں برما بڑی جنگی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔

1948ء میں برما نے مکمل آزادی حاصل کی۔

میانمار کی موجودہ حیثیت

1989ء میں فوجی حکومت نے ملک کا نام Burma سے Myanmar کر دیا۔

آج یہ جنوب مشرقی ایشیا کا اہم ملک ہے۔

تجارتی، جغرافیائی، ثقافتی اور عسکری لحاظ سے اس کا مقام نمایاں ہے۔--
نتیجہ
برما کا ہندوستان سے 1937ء میں علیحدہ ہونا ایشیائی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے۔ اگرچہ یہ علیحدگی بظاہر انتظامی اور آئینی بنیاد پر ہوئی، مگر اس کے سیاسی، سماجی اور معاشی اثرات انتہائی گہرے تھے۔ برما کا ہندوستان کے صوبے سے ملک بن جانا دراصل استعمار کی منصوبہ بندی کا حصہ بھی تھا اور قوموں کے مقدر کے نئے موڑ کا آغاز بھی

مصنف صرف آدھا خالق ہے۔ قاری اس کا دوسرا نصف ہے جو ڈرافٹس (خام مسودوں) کو وجود میں ڈھالتا ہے اور ہر بار نیا پڑھنا کتاب کو...
07/12/2025

مصنف صرف آدھا خالق ہے۔ قاری اس کا دوسرا نصف ہے جو ڈرافٹس (خام مسودوں) کو وجود میں ڈھالتا ہے اور ہر بار نیا پڑھنا کتاب کو دوبارہ تخلیق کرنا یعنی نئے مفہوم دریافت کرنا ہے۔"

یعنی "ہر قاری، جب وہ پڑھ رہا ہوتا ہے دراصل خود اپنا ہی پڑھنا پڑھ رہا ہوتا ہے۔ مصنف کا کام محض ایک قسم کی بصری آلہ فراہم کرنا ہےتاکہ قاری اس کے ذریعے اپنے اندر وہ چیزیں دیکھ سکے جو بصورت دیگر وہ شاید خود نہ دیکھ پاتا۔"یہی وہ مرکزی خیال ہے جسے آپ کے سامنے رکھے گئے اقوال میں انتہائی خوبصورتی اور اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ "مصنف آدھا خالق ہے اور قاری دوسرا آدھا"___🌿🌸

شیخ الہند لائبریری تحصل کبل کانجو مختلف کتابوں رسالوں کا واحد مرکز ہے ناپید کتابیں مطالعے کےلیے دستیاب ہے پشتو اردو انگل...
05/12/2025

شیخ الہند لائبریری تحصل کبل کانجو
مختلف کتابوں رسالوں کا واحد مرکز ہے
ناپید کتابیں مطالعے کےلیے دستیاب ہے
پشتو اردو انگلش سیاسی مذہبی ودیگر کتابوں کےلیے لائبریری کا وزٹ کیجئے
ادارہ

خان شهيد/ عبدالصمد خان اڅکزی:عبد الصمد خان اچکزئی 1907کو جنوبی پختونخوا کی تحصیل گلستان گائوں، عنایت اﷲ کاریز کے اس وطن ...
01/12/2025

خان شهيد/ عبدالصمد خان اڅکزی:
عبد الصمد خان اچکزئی 1907کو جنوبی پختونخوا کی تحصیل گلستان گائوں، عنایت اﷲ کاریز کے اس وطن دوست حمید زئی قبیلہ کے جلوزئی شاخ برخوردار کے گھر پیدا ہوئے۔ اس کے والد کا نام نور محمد خان تھا۔
خان شہید کے پردادا برخوردار خان اچکزئی پانی پت کی تیسری لڑائی میں احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ایک کمانڈر کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے اور انھوںنے تاریخی فتح حاصل کرکے اپنا کردار نہایت دلیری سے ادا کیا تھا۔ عبدالصمد خان نے ابتدائی تعلیم گلستان میں حاصل کی اور اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پشتو، عربی، فارسی زبانیں سیکھ لیں اور فقہ، احادیث اور تفصیل کا مطالعہ کیا۔ یہی وہ دور تھا جب پشتونوں نے اپنے وطن کے خلاف سازشوں کی مخالفت کی، اس تحریک کی حمایت میں 1918 میں عبدالصمد اچکزئی نے گلستان میں اسکول کے طالب علموں کے ایک جلوس کی قیادت کی اس وقت اس کی عمر صرف 11سال تھی، عبدالصمد خان اچکزئی نے اپنے سیاسی سفر کا انداز، فرنگی سامراج کے خلاف شروع کیا۔ عبدالصمد خان اچکزئی نے برطانوی سامراج سے وطن کی آزادی کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ کیوںکہ خان شہید سمجھ رہے تھے کہ اگر ہم نے فکری و نظریاتی سیاست سے قوم کو بیدار نہیںکیا تو ہم ہمیشہ کے لیے غلامی کی آغوش میں چلے جائیںگے۔ لہٰذا وہ بہت کم عمری میں عظیم سیاسی مجاہد کا علم تھام کر اور ان جابر اور ظالم قوتوں کے خلاف عملی طورپر میدان میں آگئے۔
انھوں نے اندازہ کرلیا کہ ایک ایسی سیاسی جماعت کے تحت کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ جس میں بے لوث خدمت کرنے والے نہ ہوں۔ لاہور سے واپسی پر اور سیاسی کام کے آغاز کے ساتھ ہی عبدالصمد خان اچکزئی اور ان کے بڑے بھائی حاجی عبدالسلام خان اچکزئی، محمد ایوب خان اور عیسیٰ خان کو گرفتار کرکے کوئٹہ لے جایاگیا۔ اس وقت ایک وطن دوست رہنما میر یوسف خان مگسی کو بھی اسی الزام کے تحت گرفتار کرکے مستونگ جیل میں رکھا گیا۔ انھوںنے بھی لاہور کانگریس میں شرکت کی تھی۔ یوسف مگسی کو جب عبدالصمد اچکزئی اور ان کے رفقاء کی گرفتاری کا عمل ہوا تو وہ بھی ان کے رفقاء کی طرح بہت خوش ہوئے اور اس واقعے پر ایک پرجوش نظم بھی لکھی۔ خان شہید اور ان کے ساتھیوں کا کیس جس جرگے کے سپرد ہوا وہ سب شاہی جرگے کے اراکین تھے۔ جرگے نے انھیں دو، دو سال قید کی سزا سنائی، سزا سنانے کے بعد انھیں کوئٹہ جیل لاکر جیل میں ٹاٹ نما کپڑے اور بیڑیاں پہنائی گئی۔ جیل میں قیدیوں سے توہین آمیز سلوک پر خان شہید نے کھانا کھانے سے انکار کیا، جیل سے رہا ہوتے ہی آپ بمبئی چلے گئے اور لندن گول میز کانفرنس میں شمولیت کے لیے جانے والے رہنمائوں سے ملاقاتیں کی اور جنوبی پختونخوا کے مسائل اور اصلاحات کے متعلق وہ کتابچہ تقسیم کیا جسے انھوںنے لکھا اور بمبئی سے واپسی کے بعد زور و شور سے سیاسی کام میں مشغول ہوگئے۔
1932میں جیکب آباد کے مقام پر بلوچستان کانفرنس منعقد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس میں پشتون اور بلوچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ 1933میں بلوچستان کانفرنس کے سلسلے میں منعقدہ حیدرآباد کے سالانہ اجلاس میں بھی شرکت کی جس سے واپسی پر پھر گرفتار ہوئے اور جرگے کی سفارش پر تین سال قید کی سزا دی گئی۔ 1936میں جیل سے رہا ہوتے ہی استقلال اخبار کا اجرا کیا اور اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور یوسف علی خان مگسی کے نام پر عزیز پریس قائم کیا، اخبار کا اکثر کام رضا کارانہ ہوتا تھا۔ جس دن اخبار چھپتا تمام ساتھی پریس پہنچ کر اخبار لے جاتے، کچھ ڈاک کے ذریعے بھیج دیے جاتے اور جو شہر میں تقسیم کرنے ہوتے تھے وہ سائیکلوں پر سوار ہوکر ساتھی خود تقسیم کرآتے اور اس طرح صحافت کے میدان کو وطن کی آزادی کے لیے کام میں لائے۔ اس اخبار کو 1950میں حکومت نے بند کیا۔ 1938میں محب وطن نوجوانوں کی ایک سیاسی تنظیم انجمن وطن کے نام سے قائم کی اور وطن کی آزادی کے لیے برصغیر پاک و ہند کے دیگر آزادی پسندوں سے رابطہ قائم رکھا اور ان تمام تحریکوں میں حصہ لیا جن کا مقصد انگریزوں کو دیس سے باہر کرنا تھا۔ سیاسی جد وجہد میں پشتونوں نے بھرپور حصہ لیا اور ایسے کارنامے سر انجام دیے جن پر دنیا بھر کی آزادی پسند اقوام فخر کرسکتی ہے۔
عبدالصمد خان اچکزئی شہید نے پشاور، مچھ، ہری پور، لاہور کا شاہی قلعہ منٹگمری مالٹا اور جزائر انڈیمان (کالے پانی) کی صحبتیں بہادری اور جرأت سے برداشت کیں۔ 23اپیل 1930کو قصہ خوانی پشاور میں پشتون آزادی پسندوں پر گورے فوجیوں نے بے دریغ گولیاں چلائی اور سیکڑوں پشتون شہید اور زخمی ہوئے جن فوجیوں نے نہتے پشتونوں پر گولیاں چلانے سے انکار کیا انگریز سرکار نے ان کو گرفتار کرکے سخت ترین سزائیں دی۔ خیبر پختونخوا میں مردان، ٹکر، بنوں، ہاتھی خیل، کوہاٹ، پڑانگ، سپن تنگی اور کئی دیگر مقامات پر پشتونوں پر انتہائی تشدد کیا گیا اور ہزاروں پشتون شہید کردیے گئے لیکن آزادی وطن کی جد وجہد تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ ’’ہندوستان چھوڑدو‘‘ تحریک میں چودہ ہزار پشتون سیاسی کارکن قید ہوئے اور بابڑہ کے قصاب کے دور میں سیکڑوں پشتون شہید کیے گئے اور قیدی پشتونوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا۔ خان شہید چھ سال مسلسل قید وبند کے بعد 1954میں رہا ہوئے تو ’’ورورپشتون‘‘ کے نام سے سیاسی تنظیم قائم کی اور اس سے 1956میں نیشنل عوامی پارٹی میں ضم کیا گیا۔
آپ نے انجمن وطن اور ور ور پشتون سے لے کر نیپ پشتون خوا کے قیام تک جس اولوالعزمی سے عوامی تحریک کو منظم کرنے کے لیے انتھک کام کیا اور جس بلند حوصلے سے قید وبند کے کم و بیش 32سال گزارے وہ مظلوم اقوام کی تاریخ میں ہمیشہ باعث فخر رہیںگے۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی آزادی اور جمہوریت کے انتھک اور جانباز سپاہی تھے۔ دو دسمبر 1973کو صبح 4بجے جب وہ کوئٹہ میں شارع جمال الدین افغانی پر اپنے رہائش گاہ میں سورہے تھے۔ پشتون قوم کے ازلی دشمنوں بزدل قاتلوں نو آبادیاتی حکمرانوں کے ایجنٹوں نے ان پر سوتے میں دو دستی بم گرا کر ان کو شہید کیا گیا اور 3دسمبر کو اس خطہ کی تحریک آزادی کے بطل جلیل کو کم و بیش ساٹھ ہزار افراد نے ان کے آبائی گائوں غازیوں کی دھرتی انقلابی گلستان میں شہداء کے قبرستان میں سپرد خاک کیا ۔ آج پوری دنیا میں اس عظیم سیاسی اور قافلہ آزادی کے سالار کی برسی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان تمام معلوم و نامعلوم شہیدوں کو اس موقعے پر خراج عقیدت پیش کیے جائیںگے

تاسو که په پښتونخوا کې يي او که د وطن نه بهر يي.
کتاب کور هر قسمه کتابونه ستاسو تر درشلې در رسوي.
که غواړئ چې کتاب په خپله اوګوري . هر درته هرکلی وايو.
ادارہ شیخ الہند لائبریری تحصل کبل سوات

مختصر کہانی اور بڑی عبرت:ایک بزرگ آدمی پہلے دن کی کلاس کے لیئے ادب کی فیکلٹی میں داخل ہوا۔ طلباء نے احتراماً کھڑے ہو کر ...
28/11/2025

مختصر کہانی اور بڑی عبرت:
ایک بزرگ آدمی پہلے دن کی کلاس کے لیئے ادب کی فیکلٹی میں داخل ہوا۔ طلباء نے احتراماً کھڑے ہو کر اسے استاد سمجھا، مگر وہ خاموشی سے ان کے درمیان بیٹھ گیا۔
کلاس کے بعد طلباء اس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور اس سے استفسار کیا کہ وہ کون ہے؟
اس نے کہا: "میں ایک موچی ہوں، جوتے مرمت کرتا ہوں۔ میرے سات بیٹے ہیں، جو سب ڈاکٹر، انجینئر، اور ایک افسر ہیں، اور میری ایک بیٹی فارماسسٹ ہے۔
ایک دن ہم سب خاندان کے ساتھ بیٹھے تھے اور میرے بچے کسی علمی موضوع پر بات کر رہے تھے۔ میں نے بھی اپنی رائے دی، تو میرے ایک بیٹے نے کہا: 'بابا، معاف کیجیے گا، ہم ایک علمی موضوع پر بات کر رہے ہیں اور آپ کو اس کا علم نہیں ہے۔'
بیٹے کے اس جواب نے مجھے بہت دکھ دیا، لیکن میں نے خاموشی اختیار کی۔
اگلے دن میں نے جاکر نویں جماعت کی نصابی کتابیں خریدیں اور انہیں اپنی دکان میں بغیر کسی کے علم کے پڑھنا شروع کر دیا۔ میں نے امتحان دیا اور کامیاب ہو گیا، اور یہ بات بھی کسی کو نہیں بتائی۔
پھر میں نے کالج کی کتابیں خریدیں اور تین سال تک انہیں پڑھا، یہاں تک کہ مجھے امتحان دینے کی اجازت مل گئی۔ میں نے امتحان دیا اور کامیاب ہو گیا، اور اب تک میرے گھر والوں کو کچھ معلوم نہیں۔
آج میں نے یونیورسٹی کی تعلیم کا آغاز کیا ہے، اور ان شاء اللہ جب میں گریجویٹ ہو جاؤں گا، تو اپنے بچوں کو بلا کر کہوں گا: 'یہ ڈگری اس موچی کی ہے جس نے آپ سب کو پالا، تعلیم دی، اور آپ کی شادیاں کیں، تاکہ وہ آپ کے ساتھ بات چیت میں شریک ہو سکے۔'"

Address

Kanju
19201

Telephone

+923408879801

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sheikh-ul-Hind Library posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sheikh-ul-Hind Library:

Share

Category