Jamat-E-Islami Kallar Syedan

Jamat-E-Islami Kallar Syedan اقامت دین this page i make for intriduice jamat islami kallar syedan
in all pakistan and all world

بنو قابل کلرسیداں میں تیسرے سیشن کی رجسٹریشن سٹارٹ ہے ۔۔۔الحمدللہ دو بیچ اس وقت تک مکمل ہوچکے ہیں جن میں ایک ہزار کے لگ ...
02/09/2026

بنو قابل کلرسیداں میں تیسرے سیشن کی رجسٹریشن سٹارٹ ہے ۔۔۔
الحمدللہ دو بیچ اس وقت تک مکمل ہوچکے ہیں جن میں ایک ہزار کے لگ بھگ طلبہ و طالبات نے فری آئی ٹی کورسز مکمل کیے ۔۔۔
اور اس وقت ان میں سے کافی سارے طلبہ و طالبات اپنے کام کا آغاز کرچکے ہیں ۔۔
لہذا اپنے بچوں کا مستقبل روشن بنائیں ان کو کمپیوٹر سکلز سکھائیں اور بنو قابل میں رجسٹر کروائیں ۔۔
شکریہ

لیاقت باغ میں ایک اور آواز✍️ : شہزاد حنیف سجاول راولپنڈی کے لیاقت باغ میں آج بہت سے لوگ جمع تھے۔بظاہر یہ ایک جلسہ تھا۔ ا...
30/08/2026

لیاقت باغ میں ایک اور آواز

✍️ : شہزاد حنیف سجاول

راولپنڈی کے لیاقت باغ میں آج بہت سے لوگ جمع تھے۔

بظاہر یہ ایک جلسہ تھا۔ ایک جماعت کے کارکن، جھنڈے، نعرے، اسٹیج، تقریریں اور مطالبات۔ مگر تاریخ کبھی صرف ظاہری منظر نہیں ہوتی۔ بعض میدان اپنے اندر اتنی صدیاں، اتنے حادثے اور اتنی آوازیں محفوظ رکھتے ہیں کہ وہاں ہونے والا ہر نیا اجتماع ماضی کے کسی نہ کسی دروازے پر دستک دیتا ہے۔

آج لیاقت باغ میں جماعت اسلامی کے کارکن موجود تھے۔

اور لیاقت باغ خاموشی سے سن رہا تھا۔

یہ وہی جگہ ہے جسے کبھی کمپنی باغ کہا جاتا تھا۔ برطانوی عہد کی یادگار، پھر آزادی کے بعد پاکستانی سیاست کا ایک اہم میدان، اور 1951ء کے بعد لیاقت علی خان کی شہادت کی نسبت سے لیاقت باغ۔ 16 اکتوبر 1951ء کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اسی مقام پر ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گولی کا نشانہ بنے۔ بعد میں اسی میدان کا نام ان کے نام پر رکھا گیا۔

شاید باغوں کے بھی مقدر ہوتے ہیں۔

کسی باغ کے مقدر میں پھول آتے ہیں، کسی کے حصے میں سایہ، کسی کے حصے میں بچوں کی ہنسی؛ اور کسی باغ کے مقدر میں قوموں کی تاریخ لکھی جاتی ہے۔

لیاقت باغ کے مقدر میں سیاست آئی۔

یہاں کبھی آزادی کے متوالے جمع ہوئے، بڑے سیاسی رہنماؤں نے خطاب کیا، اور پھر پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی میں یہ مقام ایک ایسے حادثے کا گواہ بن گیا جس کے سوال آج بھی تاریخ کی کتابوں میں زندہ ہیں۔

لیاقت علی خان کے بعد یہ باغ پھر خاموش نہیں ہوا۔

27 دسمبر 2007ء کو اسی میدان میں بے نظیر بھٹو نے اپنے سیاسی سفر کا آخری جلسہ کیا۔ جلسے کے بعد واپسی کے وقت ان پر حملہ ہوا اور وہ جان سے گئیں۔ یوں پاکستان کے دو وزرائے اعظم—لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو—کی سیاسی زندگیوں کے آخری ابواب اس ایک مقام سے وابستہ ہوگئے۔

تاریخ بعض اوقات عجیب مصنف ہوتی ہے۔

وہ ایک ہی جگہ پر مختلف زمانوں کے کردار لا کر کھڑے کر دیتی ہے۔

آج اسی لیاقت باغ میں جماعت اسلامی کھڑی تھی۔

جماعت اسلامی کی داستان بھی کسی ایک انتخابی موسم کی داستان نہیں۔

26 اگست 1941ء کو لاہور میں ایک نسبتاً مختصر اجتماع سے ایک ایسی تحریک کا آغاز ہوا جس کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے۔ ابتدائی اجتماع میں 75 افراد شریک ہوئے۔ وہ تعداد جو آج کے کسی بڑے جلسے کے مقابلے میں ایک معمولی عدد معلوم ہوتی ہے، اس وقت ایک ایسے سفر کا نقطۂ آغاز تھی جس کا مقصد صرف حکومت حاصل کرنا نہیں بلکہ معاشرے، سیاست اور ریاست کے بارے میں ایک مخصوص اسلامی تصور پیش کرنا تھا۔

پچہتر آدمی۔

تاریخ کے بڑے سفر اکثر بڑے ہجوم سے شروع نہیں ہوتے۔

کبھی ایک خیال چند آدمیوں کے سینوں میں جگہ بناتا ہے، پھر وہ خیال ایک جماعت بنتا ہے، جماعت ایک تحریک بنتی ہے، اور تحریک وقت کے سینے پر اپنے نشان چھوڑتی ہے۔

جماعت اسلامی کی تاریخ میں اقتدار سے زیادہ تنظیم اہم رہی۔ انتخابات آئے، ناکامیاں آئیں، کامیابیاں آئیں، گرفتاریاں ہوئیں، پابندیاں آئیں، مختلف ادوار میں آمریت اور جمہوریت دونوں سے اختلاف کے مرحلے آئے، مگر جماعت کا بنیادی ڈھانچہ قائم رہا۔

اس کے ہاں قیادت خاندان سے نہیں، تنظیم سے پیدا ہونے کا دعویٰ ہمیشہ نمایاں رہا۔ امارت کی ذمہ داری مختلف شخصیات تک منتقل ہوتی رہی۔ خود جماعت اپنے تعارف میں اسے شورائیت اور غیر موروثی قیادت کی خصوصیت قرار دیتی ہے۔

یہ جماعت پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب کردار رکھتی ہے۔

یہ اقتدار کی سب سے بڑی دعوے دار جماعت کبھی نہیں رہی، مگر سیاست سے کبھی باہر بھی نہیں ہوئی۔

یہ انتخاب لڑتی رہی، پارلیمان میں پہنچتی رہی، حکومتوں کا حصہ بھی بنی، حکومتوں کی مخالفت بھی کی؛ مگر اس کی اصل طاقت ہمیشہ اس کے کارکن کی تنظیم اور اس کے نظریاتی ڈھانچے میں رہی۔

شاید اسی لیے جماعت اسلامی کے جلسے کو صرف جلسہ کہنا اس کی پوری تصویر نہیں۔

یہ ایک تنظیم کا اپنے کارکن کو میدان میں لانے کا عمل بھی ہے۔

حالیہ برسوں میں جماعت اسلامی کی سیاست نے ایک اور رخ نمایاں کیا ہے۔

بجلی کے بھاری بل، مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، ٹیکسوں کا بوجھ اور عام آدمی کی معاشی مشکلات۔

یہ وہ مسائل ہیں جنہیں نظریاتی مباحث کی زبان میں بیان کرنا مشکل نہیں، مگر جن کا اصل چہرہ گھر کے بجٹ میں نظر آتا ہے۔ ایک بل میز پر رکھا ہوتا ہے اور اس کے سامنے ایک تنخواہ۔ دونوں کے درمیان جو فاصلہ ہوتا ہے، وہی آج کے پاکستانی گھرانے کی بہت سی پریشانیوں کا خلاصہ ہے۔

جماعت اسلامی نے اسی معاشی اضطراب کو اپنی احتجاجی سیاست کا مرکزی موضوع بنایا۔

2023ء میں بجلی کے بلوں اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوا۔ 2024ء میں جماعت نے اسلام آباد میں بجلی کی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف طویل دھرنا دیا۔

اور اب 2026ء میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عوامی ریلیف کا سوال دوبارہ سڑک پر آگیا ہے۔

یہاں ایک اہم تبدیلی بھی محسوس ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کی روایتی سیاسی زبان میں "نظام" ایک مرکزی لفظ رہا ہے۔ مگر حالیہ تحریک میں نظام کی بحث کے ساتھ ساتھ روٹی، بجلی، پٹرول اور ٹیکس عام آدمی کی روزمرہ لغت کا حصہ بن گئے ہیں۔

یہ سیاست کے لیے معمولی تبدیلی نہیں۔

کیونکہ نظریہ انسان کو سمت دیتا ہے، مگر قیمت انسان کو مجبور کرتی ہے۔

اور جب نظریہ اور روزمرہ کی تکلیف ایک جگہ مل جائیں تو تحریک کو نئی توانائی مل سکتی ہے۔

لیاقت باغ کا حالیہ جلسہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔

جلسے سے پہلے انتظامیہ اور جماعت کے درمیان اجازت کے مسئلے پر اختلاف پیدا ہوا۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے اعلان کیا کہ اگر جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو راولپنڈی اور اسلام آباد کی سڑکیں احتجاج کا میدان بنیں گی۔ اگلے روز جلسہ منعقد ہوا اور جماعت کی قیادت نے اسے انتظامی رکاوٹوں کے مقابلے میں کارکنوں کی کامیابی قرار دیا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں کو عوام کو ریلیف دینے میں ناکام قرار دیا، مہنگائی، بجلی اور پٹرولیم قیمتوں پر تنقید کی اور کہا کہ جماعت کی جدوجہد پرامن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں اور مطالبات نہ مانے گئے تو لانگ مارچ کی طرف جایا جا سکتا ہے۔

یہ تقریر اپنی جگہ۔

مگر اس جلسے کا اصل منظر تقریر نہیں تھا۔

اصل منظر کارکن تھا۔

وہ کارکن جو کسی انتخابی مہم کے نتیجے کا انتظار کیے بغیر جلسہ گاہ میں پہنچتا ہے۔ جو جھنڈا اٹھاتا ہے، راستہ طے کرتا ہے، نعرہ لگاتا ہے، دیر تک کھڑا رہتا ہے اور پھر گھر واپس چلا جاتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی اصل قوت کبھی کبھی ان کے انتخابی نتائج سے زیادہ ان کارکنوں میں چھپی ہوتی ہے جو شکست کے بعد بھی تنظیم سے وابستہ رہتے ہیں۔

جماعت اسلامی کی سب سے بڑی تاریخی قوت شاید یہی کارکن ہے۔

لیاقت باغ میں آج دو زمانے ایک دوسرے کے سامنے تھے۔

ایک طرف وہ باغ تھا جس نے لیاقت علی خان کو دیکھا تھا۔

پھر اس نے بے نظیر بھٹو کو دیکھا۔

اور آج اس نے حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو دیکھا۔

تین مختلف ادوار۔

تین مختلف سیاسی زبانیں۔

تین مختلف پاکستان۔

مگر عوام کا سوال شاید بہت مختلف نہیں تھا:

ریاست کس کے لیے ہے؟

حکومت کس کے لیے ہے؟

معیشت کس کے لیے ہے؟

اور اقتدار کا آخری مصرف کیا ہے؟

یہ سوال نئے نہیں ہوتے۔

حکومتیں نئی ہوتی ہیں۔

نعرے نئے ہوتے ہیں۔

چہرے بدل جاتے ہیں۔

مگر عام آدمی کی ضرورتیں بہت پرانی ہوتی ہیں۔

اسے امن چاہیے، روزگار چاہیے، سستی بجلی چاہیے، مناسب قیمت پر ایندھن چاہیے، عزت کے ساتھ جینے کا حق چاہیے۔

وہ فلسفہ بھی سن لیتا ہے اور منشور بھی؛ مگر آخر میں اپنے گھر کا حساب دیکھتا ہے۔

جماعت اسلامی کے لیے بھی یہ لمحہ آسان نہیں۔

ایک بڑی تحریک صرف جلسے کے ہجوم سے نہیں بنتی۔

ہجوم آغاز ہوسکتا ہے، انجام نہیں۔

جلسہ طاقت کا مظاہرہ کرسکتا ہے، مگر پالیسی نہیں بناتا۔ نعرہ دل کو گرماتا ہے، مگر معیشت نہیں چلاتا۔ احتجاج حکومت کو متوجہ کرسکتا ہے، مگر مستقل سیاسی متبادل بنانے کے لیے تنظیم، قیادت، پروگرام اور عوامی اعتماد سب درکار ہوتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جماعت اسلامی کی موجودہ تحریک کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

کیا وہ عوامی غصے کو منظم سیاسی شعور میں بدل سکتی ہے؟

کیا وہ بجلی اور پٹرول کے مسئلے کو ایک جامع معاشی تصور سے جوڑ سکتی ہے؟

کیا وہ احتجاج کے بعد متبادل حکمرانی کا قابلِ عمل نقشہ عوام کے سامنے رکھ سکتی ہے؟

اور سب سے بڑھ کر:

کیا لیاقت باغ کا آج کا ہجوم کل کے سیاسی اعتماد میں تبدیل ہوسکتا ہے؟

ان سوالوں کا جواب وقت دے گا۔

رات کی تاریکی گہری ہونے لگی ہوگی۔

جلسہ ختم ہوگیا ہوگا۔

جھنڈے لپیٹ دیے گئے ہوں گے۔

کرسیوں کی قطاریں ہٹا دی گئی ہوں گی۔

مائیک خاموش ہوگیا ہوگا۔

کارکن اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے ہوں گے۔

لیاقت باغ پھر ویسا ہی دکھائی دینے لگا ہوگا۔

مگر تاریخ میں کچھ آوازیں جلسہ ختم ہونے کے بعد بھی باقی رہتی ہیں۔

لیاقت باغ نے بہت سے نعرے سنے ہیں۔

کچھ نعرے وقت کے ساتھ مٹ گئے۔

کچھ نام تاریخ کے حاشیے میں چلے گئے۔

کچھ خون کے ساتھ یاد رہ گئے۔

اور کچھ مطالبے ایسے ہیں جو ہر دور میں نئے الفاظ کے ساتھ واپس آتے ہیں۔

آج جماعت اسلامی نے بھی اپنی آواز اسی باغ میں رکھ دی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ آواز صرف لیاقت باغ کی چار دیواری تک رہتی ہے یا راولپنڈی کی سڑکوں سے نکل کر اسلام آباد کے ایوانوں تک پہنچتی ہے۔

تاریخ کا عجیب دستور ہے۔

وہ جلسے کی حاضری نہیں گنتی۔

وہ یہ دیکھتی ہے کہ جلسے کے بعد کیا بدلا۔

اور شاید لیاقت باغ بھی آج یہی سوال اپنے درختوں، اپنی گھاس اور اپنی خاموش دیواروں سے پوچھ رہا ہو:

آج یہاں کتنے لوگ آئے تھے؟

نہیں۔

اصل سوال یہ ہے:

آج یہاں سے کتنی امید واپس گئی ہیں ؟؟؟

السلام علیکم و رحمتہ اللہ!اس سال رمضان المبارک کی پرنور ساعتوں میں مسجد قرطبہ، کلرسیداں آپ کے لیے ایک منفرد فکری نشست کا...
16/02/2026

السلام علیکم و رحمتہ اللہ!
اس سال رمضان المبارک کی پرنور ساعتوں میں مسجد قرطبہ، کلرسیداں آپ کے لیے ایک منفرد فکری نشست کا اہتمام کر رہی ہے۔
موضوع: مطالعہ سورہ یوسف (ایک تزویراتی اور ابلاغی جائزہ)
(چاہِ کنعان سے غارِ ثور تک کے سفر کی ایمان افروز داستان)
عام طور پر سورہ یوسف کو ایک کہانی کے طور پر پڑھا جاتا ہے، لیکن اس نشست میں ہم ان پہلوؤں پر غور کریں گے جن کی طرف مفسرین کا دھیان کم گیا ہے:
✅ "نحن نقص" اور "لا تقصص" کے الفاظ میں چھپی ابلاغی حکمت کیا ہے؟
✅ کفارِ مکہ کی نفسیاتی کشمکش اور "اضغاث احلام" کا سیاسی پس منظر کیا تھا؟
✅ کنویں میں کی گئی وحی کس طرح زلیخا کے سامنے "برہانِ رب" بن کر ابھری؟
✅ حضرت یوسفؑ کا معاشی نظم اور میثاقِ مدینہ کے درمیان کیا مماثلت ہے؟
✅ "یلتقطہ" (کنویں سے اٹھایا جانا) سے "طلقاء" (فتحِ مکہ کی معافی) تک کا سفر کیسے مکمل ہوا؟
آئیے! اس رمضان میں قرآن کو ایک "زندہ معجزے" اور "کامیابی کے عالمی چارٹر" کے طور پر سمجھیں۔
🗓 وقت: روزانہ بعد از نمازِ تراویح
📍 مقام: مسجدِ قرطبہ، کلرسیداں
اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کو بھی اس علمی سفر میں شریک کریں تاکہ ہم مل کر فہمِ قرآن کی برکات سمیٹ سکیں۔
رابطہ و معلومات: [03005085835]
#کلرسیداں

کراچی میں جماعت اسلامی کے پرامن دھرنے پر سندھ حکومت کے بدترین تشدد اور لاٹھی چارج کے خلاف جماعت اسلامی کلر سیداں کی جانب...
15/02/2026

کراچی میں جماعت اسلامی کے پرامن دھرنے پر سندھ حکومت کے بدترین تشدد اور لاٹھی چارج کے خلاف جماعت اسلامی کلر سیداں کی جانب سے مین چوک میں بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے سندھ حکومت کی فسطائیت اور آمرانہ رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوامی حقوق کی آواز کو اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں دبایا جا سکتا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور نہتے کارکنوں پر تشدد سندھ حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، جماعت اسلامی کلر سیداں کراچی کے غیور عوام اور کارکنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور حق کی اس جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

استقبالِ رمضان اور ہماری ذمہ داریاں - ایک اہم فکری نشستجماعت اسلامی کلرسیداں کے شعبہ تعلیم و تربیت کے زیرِ اہتمام آج ایک...
14/02/2026

استقبالِ رمضان اور ہماری ذمہ داریاں - ایک اہم فکری نشست
جماعت اسلامی کلرسیداں کے شعبہ تعلیم و تربیت کے زیرِ اہتمام آج ایک پروقار درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا، جس کا مرکزی عنوان "استقبالِ رمضان اور ہماری ذمہ داریاں" تھا۔
نشست کے کلیدی مقرر جناب عثمان آکاش صاحب نے قرآن و سنت کی روشنی میں رمضان المبارک کے تقدس اور اس ماہِ مبارک سے بھرپور استفادہ کرنے کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے سامعین کو یاد دلایا کہ رمضان محض بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ اپنی اصلاح اور معاشرتی ذمہ داریوں کو پہچاننے کا مہینہ ہے۔
اس پروگرام میں سابق امیر جماعت اسلامی کلرسیداں جاوید اقبال صاحب، قیم جماعت اسلامی قاری قاسم الحق صاحب، نائب امراء، اراکینِ جماعت اور کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔

شعبہ تربیت جماعت اسلامی کلر سیداں

ان شاءاللہ تعالیٰ
09/02/2026

ان شاءاللہ تعالیٰ

08/02/2026

Address

Kallar Saidan
46553

Telephone

+923429309163

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamat-E-Islami Kallar Syedan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jamat-E-Islami Kallar Syedan:

Shortcuts

Share