Soil conservation kahuta kallersydan

Soil conservation  kahuta kallersydan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Soil conservation kahuta kallersydan, Government Organization, Kahuta.

our soil our proud join us to stop land erosion and construct mini dam and ponds to save 💧 water maximum use of runoff water built structure to stop land erosion

Conducting feald visit at kaller sydan area with DDO soil conservation kahuta
10/09/2026

Conducting feald visit at kaller sydan area with DDO soil conservation kahuta

07/09/2026

تربیلا ڈیم کی سلٹ اور سواں ڈیم-ڈیلٹا کی نئی امید
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت تربیلا ڈیم میں تقریباً 8 ارب ٹن مٹی (سلٹ) جمع ہو چکی ہے؟یہ وہ قدرتی مٹی ہے جو دریا کے ساتھ ہمالیہ سے سفر کر کے ڈیلٹا تک جانی چاہیے تھی،لیکن اب ڈیم کے پیچھے قید ہے۔
اگر ہم اس 8 ٹن سلٹ میں سے صرف 2 ارب ٹن سلٹ ڈیلٹا تک پہنچا دیں،تو یہ ایسے ہوگا جیسے ہر پاکستانی یعنی 24 کروڑ عوام آٹھ ٹن مٹی کا ایک ڈمپر لے جا کر وہاں ڈال دے۔اس مقدار کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ یہ دس ارب ٹن پانچ بڑے فلڈز کے برابر فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ زمین بچائے، زرخیزی بڑھائے، اور سمندر کے آگے ڈھال بن جائے۔
لیکن رکیں یہ مٹی پہنچے گی کیسے ؟ تو اس کا علاج صرف سواں ڈیم کی شکل میں ہے ۔
اگر سواں ڈیم بن جائے تو ہر سال 15 کروڑ ٹن سلٹ قدرتی طور پر ڈیلٹا تک پہنچے گی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سلٹ کے نکلنے سے تربیلا کا بوجھ کم ہوگا اور ڈیلٹا کو نئی زندگی ملے گی۔
تربیلہ جیسا عظیم ڈیم ایک بار پھر قوم کو بطور تحفہ کے میسر آئے گا اور سواں ڈیم قوم کے ایک ہزار سال تک پانی کا ہر مسلہ حل کرتا رہے گا۔ سلٹ ڈیلٹا تک پہنچتی رہے گی اور پانی کا مسلہ حل رہے گا۔
یہ صرف ڈیلٹا کی کہانی نہیں، یہ زمین، زرخیزی، اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کی کہانی ہے۔ اگر ہم قدرتی بہاؤ کو منظم طریقے سے بحال کریں، تو ہمارا ڈیلٹا کہے گا:
"سب اچھا ہے!"
تحریر: مظہر بھٹی بہاولپور
تحقیق : انجنئیر انعام الرحمٰن صاحب(امریکہ)

04/09/2026

نالہ لئی : اسلام آباد اور راولپنڈی کا قدرتی برساتی نالہ
مکمل معلومات کے ساتھ
نالہ لئی (Lai Nullah) ایک قدرتی، بارش سے تغذیہ پانے والا برساتی نالہ ہے جو مارگلہ کی پہاڑیوں سے آنے والے پانی کو جمع کرتے ہوئے اسلام آباد سے راولپنڈی کی طرف بہتا ہے اور بالآخر دریائے سواں میں جا گرتا ہے۔ مون سون کے دوران اس کے کیچمنٹ ایریا میں ہونے والی شدید بارش کے باعث نالہ لئی میں اچانک پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ جاتا یے۔

نالہ لئی کے پورے کیچمنٹ کا رقبہ تقریباً 234.8 مربع کلومیٹر ہے، جو اسلام آباد اور راولپنڈی دونوں کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ حالیہ سرکاری منصوبہ بندی کی دستاویزات میں بھی اس کا رقبہ تقریباً 234.9 مربع کلومیٹر بیان کیا گیا ہے۔

نالہ لئی کہاں سے آتا ہے؟

اسلام آباد کے مارگلہ ہلز سے آنے والے اہم برساتی نالوں میں سیدپور کاس، تنوالی کاس اور بدراولی کاس شامل ہیں۔ یہ نالے اسلام آباد سے پانی لاتے ہوئے کٹاریان پل کے قریب مرکزی نالہ لئی سے ملتے ہیں۔ کٹاریان پل کے بعد نالہ لئی راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوتا ہے، جہاں نکی لئی، پیر ودھائی کاس اور ڈھوک رٹہ نالہ سمیت مزید نکاسی آب کے راستے اس میں شامل ہوتے ہیں۔

RDA کی دستاویزات کے مطابق نالہ لئی میں دیگر متعدد نالے اور نکاسی آب کے چینلز بھی شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بارش کے دوران اس کا مجموعی پانی تیزی سے بڑھ جاتا ہے ۔

نالہ لئی کا سب سے بڑا سیلاب

23 جولائی 2001 نالہ لئی کی تاریخ کا سب سے تباہ کن سیلابی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس روز اسلام آباد میں تقریباً 620 ملی میٹر بارش صرف 10 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ ہوئی۔ شدید بارش کے باعث نالہ لئی اور اس سے ملنے والے نالوں میں پانی کی سطح انتہائی تیزی سے بلند ہوئی اور راولپنڈی کے نشیبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

اس سانحے میں 74 افراد جاں بحق ہوئے، تقریباً 4 لاکھ افراد متاثر ہوئے، جبکہ تقریباً 3 ہزار مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ مختلف سرکاری و تکنیکی رپورٹس میں املاک، بنیادی ڈھانچے اور دیگر نقصانات کا تخمینہ اربوں روپے میں لگایا گیا ہے۔

نالہ لئی خطرناک کیوں ہے؟

نالہ لئی کا مسئلہ صرف اس کے پانی کی مقدار نہیں بلکہ اس کے پورے کیچمنٹ، شہری پھیلاؤ اور نشیبی علاقوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں میں ہونے والی شدید بارش کا پانی نسبتاً کم وقت میں نیچے آتا ہے، جبکہ راولپنڈی کے گنجان آباد اور نشیبی علاقوں میں نالے کے اطراف شہری آبادی موجود ہے۔

اسی وجہ سے شدید بارش کے دوران نالہ لئی میں پانی کی سطح بہت تیزی سے بڑھ سکتی ہے اور بعض علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے لیے طویل بارش کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ تحقیقی مطالعات میں بھی راولپنڈی کے نچلے علاقوں کو نالہ لئی کے سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

ایک اہم حقیقت

نالہ لئی کو صرف ایک عام شہری نالے کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔ یہ دراصل ایک قدرتی برساتی نکاسی آب کا نظام ہے، جس کا پورا کیچمنٹ مارگلہ ہلز سے لے کر راولپنڈی میں دریائے سواں تک پھیلا ہوا ہے۔

اس کے راستے میں آنے والے نالے، برساتی پانی کے قدرتی راستے اور شہری نکاسی آب کا نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے کیچمنٹ میں ہونے والی شدید بارش کا اثر کچھ ہی دیر بعد راولپنڈی کے نچلے علاقوں میں ظاہر ہو سکتا ہے۔

نالہ لئی کو سمجھنا دراصل اسلام آباد اور راولپنڈی کے اربن فلڈ کے پورے نظام کو سمجھنا ہے۔

Soil conservation kahuta kaller sydan
01/09/2026

Soil conservation kahuta kaller sydan

01/09/2026
Under Project of Transformation of Agriculture in potohar region 2026- 2027A successfull draw was made for eligible appl...
31/08/2026

Under Project of Transformation of Agriculture in potohar region 2026- 2027

A successfull draw was made for eligible applications in District Rawalpindi on 31.08.2026.

Additional Director General
Soil Conservation Rawalpindi
Director soil conservation
Assistant Director
Regional Manager Project Management unit
Assistant Director Soil Conservation Rawalpindi
Field Assistants Soil Conservation Rawalpindi
Clerical Staff
Farmers Community of District Rawalpindi

30/08/2026

یاددہانی
کل مورخہ 31.08.2026 بروز سوموار بمقام ایگریکلچر کمپلیکس راولپنڈی میں ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن سکیم کے تحت منی ڈیمز کی قرا اندازی ھوگی آپ سب کو دعوت دی جاتی ھے اس پروگرام میں شرکت فرمایے اور اس سکیم کی کامیابی کے لیے ھمارے دست و بازو بنے خصوصی طور پر وہ دوست جنھوں نے منی ڈیم کے لیے درخواستیں جمع کر وائی ھے ہم آپ کی آ مد کے منتظر ھو گے

منجانب
راجہ ذوالقرنین محمود بدھوال
محکمہ تحفظ اراضیات کہوٹہ کلر سیداں

29/08/2026

کلر سیداں اور کہوٹہ کا خطہ پنجاب کے سطح مرتفع پوٹھوہار میں گہری تاریخی جڑیں رکھتا ہے۔ یہ دونوں علاقے طویل عرصے تک انتظامی اور ثقافتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے رہے ہیں۔مشترکہ آغاز اور تعلق کہوٹہ کی تحصیل: کلر سیداں پہلے تحصیل کہوٹہ کا ہی ایک حصہ ہوا کرتا تھا۔علیحدگی: یکم جولائی 2004 کو کلر سیداں کو کہوٹہ سے الگ کر کے راولپنڈی کی ایک خود مختار تحصیل بنا دیا گیا۔نام کی وجہ: "کلر" مقامی زبان میں شور زدہ مٹی یا پانی کو کہتے ہیں، جبکہ "سیداں" کا لفظ یہاں سادات (سید گھرانوں) کی آمد اور رہائش کی وجہ سے شامل ہوا۔سکھ دور اور بیدی محل عروج کا دور: یہ خطہ سکھ سلطنت کے دور میں سیاسی اور تعمیراتی لحاظ سے بہت اہم بن گیا۔بیدی محل: بابا کھیم سنگھ بیدی نے 1860 میں کلر سیداں میں ایک عظیم الشان محل تعمیر کروایا، جو سکھ اور مغل طرزِ تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔مذہبی ہم آہنگی: تقسیمِ ہند سے پہلے یہاں ہندو، سکھ اور مسلمان صدیوں سے اکٹھے رہتے تھے، جس کے آثار آج بھی پرانے مندروں اور گردواروں کی شکل میں موجود ہیں۔قلعے اور تاریخی مقامات قلعہ سانگنی: یہ تاریخی قلعہ کلر سیداں کے علاقے میں واقع ہے، جو مغل اور سکھ دور کی دفاعی حکمتِ عملی کا گواہ ہے۔پھروالہ قلعہ: کہوٹہ اور کلر سیداں کے قریبی سرحد پر واقع یہ قلعہ گکھڑ خاندان کی عظمت کا نشان ہے۔قبائلی اور ثقافتی ساخت مشترکہ ثقافت: دونوں علاقوں کی زبان پوٹھوہاری ہے اور یہاں کے رہن سہن میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔بڑے قبائل: یہاں راجپوت (جنجوعہ، بھکرال، بنگیاڵ)، گکھڑ، گجر اور سید برادریاں آباد ہیں بابا کھیم سنگھ بیدی اور بیدی محل بیدی محل (جسے مقامی زبان میں "بابے دا محل" بھی کہا جاتا ہے) پوٹھوہار میں سکھ دور کی سب سے شاندار اور معروف عمارتی یادگار ہے۔بابا کھیم سنگھ بیدی کون تھے؟پیدائش اور نسل: بابا کھیم سنگھ بیدی 21 فروری 1832 کو کلر سیداں میں پیدا ہوئے۔ وہ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کی چودہویں نسل سے تھے اور سکھ برادری کے ایک مقتدر روحانی پیشوا مانے جاتے تھے۔تاریخی اثر و رسوخ: ان کی شہرت صرف برصغیر تک محدود نہیں تھی بلکہ انگلستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے کپڑے کے کارخانے اپنے تھانوں پر بابا کھیم سنگھ اور ان کے بیٹوں کی تصاویر چھاپا کرتے تھے۔انگریزوں سے تعلق: انہوں نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران گوگیرہ (اوکاڑہ) کے مقام پر مقامی بغاوت کو دبانے میں برطانوی حکومت کی مدد کی تھی۔ اس کے عوض انگریزوں نے انہیں مجسٹریٹ مقرر کیا، وائسرائے کونسل کا رکن بنایا اور نائٹ ہڈ (سر) کا خطاب دیا۔سماجی خدمات: وہ سکھ اصلاحی تحریک "سنگھ سبھا" کے بانیوں میں سے تھے اور انہوں نے خاص طور پر خواتین کی تعلیم کے لیے خطے میں بہت کام کیا۔محل کی بناوٹ اور فنِ تعمیر: یہ چار منزلہ محل 1850ء کی دہائی (کچھ ذرائع کے مطابق بنیاد 1836ء) میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ تقریباً 3 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔کمرے اور جھروکے: اس حویلی نما محل میں 45 کمرے، خوبصورت جھروکے، دریچے اور لکڑی کے منقش دروازے موجود ہیں۔نقاشی اور فن پارے: محل کی اندرونی دیواروں پر سکھ گروؤں اور ہندو مالا مالا کے کرداروں کے ساتھ ساتھ مختلف دور کے جنگجوؤں کی تصاویر اور خوبصورت فریسکو (نقاشی) بنی ہوئی ہے۔تقسیمِ ہند کا پناہ گزین: 1947ء میں جب پوٹھوہار میں فسادات پھوٹے تو کلر سیداں کے مسلمانوں نے بابا بیدی کے خاندان کے احترام میں یہاں کے غیر مسلموں کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اس محل نے اس وقت سینکڑوں سکھ اور ہندو خاندانوں کو پناہ دی تھی۔ بعد میں یہاں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قائم کر دیا گیا۔قلعہ سانگنی (سانگنی شریف)قلعہ سانگنی تحصیل کلر سیداں کے آخری گاؤں "سوئی چیمیاں" اور "تکل" کے قریب ایک اونچی پہاڑی (ٹیلے) پر واقع ہے۔تاریخی پس منظرمغلیہ دور کا آغاز: یہ قلعہ بنیادی طور پر مغلوں کے دورِ حکومت (تقریباً 1599ء سے 1649ء کے درمیان) میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد اس وقت پنجاب اور کشمیر کے سرہدی علاقے کو تحفظ دینا، ارد گرد کے علاقوں پر فوجی کنٹرول رکھنا اور ٹیکس جمع کرنا تھا۔سکھ دور کا قبضہ: مغلوں کے بعد یہ خطہ گکھڑوں اور پھر سکھ سلطنت کے زیرِ اثر آ گیا۔ 1814ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ہندو گورنر گلاب سنگھ ڈوگرا نے اس قلعے کی دوبارہ تعمیر و مرمت کروائی تھی۔انگریزوں کی جیل: برطانوی دورِ حکومت میں اس قلعے کی جنگی اہمیت ختم ہو گئی اور انگریز اسے باغیوں اور مجرموں کو قید کرنے کے لیے بطور جیل استعمال کرتے رہے۔ ......

Address

Kahuta

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923325398136

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Soil conservation kahuta kallersydan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Soil conservation kahuta kallersydan:

Shortcuts

Share