23/10/2025
میرے گھر کی دیواریں اب مجھ کو چاٹ رہی ہیں
سارے شہر کی مٹی میں جو میرا حصہ تھا
وہ بھی لوگوں میں تقسیم ہوا ہے اپنی اس کی قبر پر میری آنکھیں
اڑتی دھول کی
خوشبو تھامے لٹک کر لیٹ گئی ہیں
ایسے سمے اب کون آتا ہے
ٹیڑھی ترچھی انگلیوں میں سارے وفا کے دھاگے ہلکے ہلکے ٹوٹ رہے ہیں
ہڈیوں کے جلنے کی بو بستر کی شکنوں میں گھلنے لگی ہے
دروازوں کو بند کرو یا کھولو
ہوا میں شعلے مدھم مدھم راکھ کی صورت سوتے جاتے ہیں
اور ہم اکھڑی سانس کے وقفے میں لفظوں کے تعویذ گلے میں ڈالے
تصویروں سے پوچھتے ہیں تم آؤ گے
آؤ گے تو اپنی آوازوں کے سائے بھی لے جانا
سارے خواب اور پرچھائیں تمہاری سالگرہ کا تحفہ ہیں
#.......