02/05/2026
وضاحتی و تردیدی بیان از قلم مرزا محمد عدنان یعقوب
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو بیان میں الزام لگانے والے شخص، نعمان صفدر، نے حقائق کو جس طرح توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے، وہ انتہائی گمراہ کن ہے۔ نعمان صفدر نے اپنی ویڈیو میں مرزا عدنان کے پولیس ملازم ہونے کو تو بار بار ہائی لائٹ کیا، لیکن اس اہم حقیقت کو دانستہ طور پر چھپایا کہ ان کا اپنا سگا بھائی، مرزا فیصل رحمان، بھی پولیس میں اے ایس آئی (ASI) کے عہدے پر فائز ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولیس کا اثر و رسوخ صرف ایک طرفہ ہوتا ہے؟
یہ معاملہ خالصتاً ایک گھریلو اختلاف کا جھگڑا ہے جسے "پولیس گردی" کا رنگ دے کر عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے۔ نعمان صفدر جس مرزا عدنان کس زکر کر رہا ہے، وہ حقیقت میں اس کا اپنا بہنوئی ہے۔ اسی طرح محمد ثوبان ، وہ نعمان صفدر کا سگا بھانجا ہے جو اپنی والدہ کو لینے کی نیت سے اپنے ماموں (نعمان صفدر) کے گھر گیا تھا۔ وہاں ماموں کی جانب سے بھانجے پر بدترین تشدد کیا گیا پھر معاملات لڑائی جھگڑے کا رخ اختیار کر گئے ۔۔جو بعد میں فریقین کی ہاتھا پائی ہوئی اور زخمی ہونے والے فریقین کا باقاعدہ میڈیکل کروایا گیا ہے۔ اب جبکہ میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ قانونی کارروائی اور ایف آئی آر کا اندراج ہو چکا ہے، تو قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے یہ سارا جذباتی ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔
قرآن پاک اٹھا کر حلف لینا ایک انتہائی جذباتی عمل ہے، لیکن قانون جذباتی بیانات پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد اور میرٹ پر چلتا ہے۔ ایف آئی آر عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے اور اس کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کر کے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی اس معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کریں۔ اس بات کی بھی جانچ کی جائے کہ کیا الزام لگانے والا فریق اپنے بھائی (اے ایس آئی فیصل رحمان) کے ذریعے اثر و رسوخ استعمال کر کے ایک حاضر سروس ملازم کو بلیک میل کر رہا ہے
قانون سب کے لیے برابر ہے۔ محض پولیس افسر ہونے کی وجہ سے کسی کو آسان ہدف بنانا اور اپنے گھر میں موجود پولیس افسر، خونی رشتوں کی حقیقت اور اپنے تشدد کے نتیجے میں ہونے والے میڈیکل ثبوتوں کو چھپانا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ مہم حقائق پر نہیں بلکہ ذاتی بغض اور قانونی کارروائی سے بچنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔