11/07/2025
پانی کی کمی کو حل کرنے کا واحد ذریعہ ڈیم نہیں ہیں۔
بھائی ڈیم بنانے میں ذیادہ پیسے لگتے ہیں تو فوری طور پر ڈیم مت بناو لیکن ہر بڑے قصبے اور چھوٹے شہر کے باہر بڑے بڑے کچے کھڈے ضرور بنا دو۔ انگریز کی بری باتیں اپنی جگہ لیکن وہ کمال کا معاملہ ساز تھا۔ ہر بڑے چھوٹے شہر میں اتنے بڑے بڑے تالاب اور جوہڑ بنائے کہ شہر کی آدھی سے ذیادہ آبادی کی ضروریات وہیں سے پوری ہوتی تھیں۔ یہ فائدہ کا ایک پہلو تھا۔ اس کا بہت بڑا مخفی پہلو یہ تھا کہ زمین کے اندر پانی۔کی سطح اتنی بلند رہتی تھی کہ بعض اوقات صرف دس فٹ پر پانی نکل آتا تھا۔ اب بھی ہمیں ہر شہر کے گردا گرد بڑے بڑے گڑھوں کی ضرورت ہے جو بارشی اور سیلابی پانی سے بھرے رہیں گے اور کاشتکاری کے کام آئیں گے۔ ان گڑھوں کی وجہ سے سیلاب روکنے میں مدد ملے گی اور زیرزمین پانی کی سطح بلند رہے گی۔ یی فضا میں گرمی کی شدت کو کم کرنے میں مدد دیں گے اور شدید گرمی کے موسم میں بادل بنانے میں مدد دیں گے۔ یہ ماحول کی شدت کو کم کریں گے اور بہہ جانے والے پانی کو روکنے میں معاون ہوں گے۔ اور انکا خرچہ چند ہزار روپے فی گڑھا سے ذیادہ نہیں ہو گا۔ اس پر کسی صوبے شہر آبادی کو کوئی اختلاف نہیں ہو گا۔ اس عمل سے گورنمنٹ کی زمین پر ناجائز قبضہ کو بھی روکا جا سکے گا۔ اس عمل سے آپ کے ماحول میں موجود پرندوں چرندوں کے لیے گھروں کی چھتوں پر برتن نہیں رکھنے پڑیں گے۔ جن علاقوں میں پانی کڑوا ہو رہا ہے وہاں پانی میٹھا ہو جائے گا۔
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئے تو اسکو پھیلا دیں تا کہ یہ کام شروع ہو سکے۔ ڈیم نہیں بن سکتا نا سہی علاقائی ذخیرے تو موجود ہوں گے۔