02/06/2026
یہ کہانی ہے جوہرآباد مین بازار کی، جہاں مدینہ ڈھوڈا ہاؤس کا گٹر اس وقت شہر کا سب سے بڑا "سیاسی اور سماجی" مسئلہ بن چکا ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ گٹر نہیں، ایک "لاوارث بچہ" ہے جس کے ڈی این اے ٹیسٹ سے دونوں محکمے بھاگ رہے ہیں!
اصل ماجرا کچھ یوں ہے:
ویسے تو یہ گٹر قانونی طور پر پی ٹی سی ایل کی ملکیت ہے۔ مگر پی ٹی سی ایل والے ہر تھوڑے دن بعد اس گٹر کی "ٹوکری" اٹھاتے ہیں اور چپکے سے واسا (WASA) خوشاب کے دروازے پر رکھ کر گھنٹی بجا کر بھاگ جاتے ہیں کہ "بھائی، اسے گود لے لو!"
واسا والے بھی کھرے نکلے۔ وہ فوراً گٹر واپس پی ٹی سی ایل کے دفتر لاتے ہیں اور دوٹوک مشورہ دیتے ہیں: "میاں! اپنی اولاد ہے، خود ہی پالو! ہم دوسروں کے پاپ دھونے کے لیے نہیں بیٹھے۔"
اب گٹر پی ٹی سی ایل کا ہے، اور ذمہ داری بھی انہی کی بنتی ہے۔ مگر عوام کا معصومانہ حال دیکھیے! گٹر ابلتا ہے تو وہ غصے میں واسا خوشاب کا گریبان پکڑ لیتے ہیں، جبکہ معصوم واسا والے کونے میں کھڑے ہو کر سوچتے ہیں کہ "قصورِ عِشق" کسی اور کا تھا اور سزا ہمیں مل رہی ہے!
> جب تک پی ٹی سی ایل اپنی اس "ایجاد" کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور واسا اپنی بے گناہی کا سرٹیفکیٹ بازار میں نہیں لگا دیتا، تب تک مین بازار کے تاجر اور گاہک اسی "شاہی گٹر" کے پانی سے وضو اور غسلِ صحت کرتے رہیں گے۔
PTCL WASA Khushab