میرا ہمسفر میری زندگی

میرا ہمسفر میری زندگی نہ خواہشیں نہ جستجـــو پس آئینہ میرے روبــــرو
تیرے واسطــــے میں کچـــھ نہیں میرے واسطے بس تو ہی تــو

ایک دوسرے کے ہمسفر، میں اور میری آوارگی
نا آشنا ہر رہگزر، نہ مہرباں ہر اک نظر
جائیں تو اب جائیں کدھر، میں اور میری آوارگی
ہم بھی کبھی آباد تھے ، ایسے کہاں برباد تھے
بےفکر تھے، آزاد تھے، مسرور تھے، دلشاد تھے
وہ چال ایسی چل گیا ، ہم بجھ گئے دل جل گیا
نکلے جلا کے اپنا گھر، میں اور میری آوارگی
جینا بہت آساں تھا ، اک شخص کا احسان تھا
ہم کو بھی اک ارمان تھا ، جو خواب کا سامان تھا
اب خواب ہے نہ آرزو ، ار

مان ہے نہ جستجو
یوں بھی چلو خوش ہیں مگر ، میں اور میری آوارگی
وہ مہوش وہ ماہ رو ، وہ ماہِ کامل ہوبہو
تھیں جسکی باتیں کوبہ کو، اس سے عجب تھی گفتگو
پھر یوں ہوا وہ کھو گئی ، تو مجھ کو ضِد سی ہوگئی
لائیں گے اسکو ڈھونڈ کر ، میں اور میری آوارگی
یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا ، وہ بات ایسی کہہ گیا
کہنے کو پھر کیا رہ گیا، اشکوں کا دریا بہہ گیا
جب کہہ کے وہ دلبر گیا ، ترے لئیے میں مر گیا
روتے ہیں اسکو رات بھر، میں اور میری آوارگی
اب غم اٹھائیں کس کے لئیے، آنسو بہائیں کس کے لئیے
یہ دل جلائیں کس کے لئیے، یوں جان گنوائیں کس کے لئیے
پیشہ نہ ہو جسکا ستم ، ڈھونڈیں گے اب ایسا صنم
ہوں گے کہیں تو کارگر ، میں اور میری آوارگی
آثار ہیں سب کھوٹ کے، امکان ہیں سب چھوٹ کے
گھر بند ہیں سب گھٹ کے، اب ختم ہیں سب ٹوٹ کے
قسمت کا سب یہ پھیر ہے ، اندھیر ہے اندھیر ہے
ایسے ہوئے ہیں بےآثار ، میں اور میری آوارگی
جب ہمدم و ہمراز تھا ، تب اور ہی انداز تھا
اب سوز ہے تب ساز تھا ، اب شرم ہے تب ناز تھا
اب مجھ سے ہو تو ہو بھی کیا ، ساتھ ہو وہ تو وہ بھی کیا
ایک بے ہنر، اک بےثمر، میں اور میری آوارگی

Address

G-8/1
Islamabad
46000

Telephone

921234567890

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when میرا ہمسفر میری زندگی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share