04/09/2026
نسب تبدیل کرنے پر وراد شدہ وعیدیں
عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ"
رواه البخاري ومسلم حضرت سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم معلم و مقصود کائنات صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم کو فرماتے سنا آپ نے فرمایا جس نے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کو اپنا باپ بنانے کا دعوی کیا اور وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں تو جنت اس پر حرام ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :
"لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ معلم و مقصود کائنات صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم نے فرمایا اپنے ماں باپ سے مت پھرو جس نے اپنے باپ سے اپنا نسبی تعلق کاٹا وہ کافر ہے
رواه البخاري ومسلم
عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ:
خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ : مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ قَالَ وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ فَقَدْ كَذَبَ......... إلى أن قال :
"وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا"
رواه مسلم
جس نے کسی دوسرے کی طرف باپ ہونے کا دعوی کیا یا ایسے مالک کی موالی کی نسبت جن کا وہ مملوک نہیں اس پر اللہ فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور اس کی طرف سے قیامت کی بارگاہ الہی میں کچھ بھی قبول نہیں ہوگا
قال النووي في شرحه على مسلم:
"... وَأَمَّا قَوْله صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( فِيمَنْ اِدَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَم أَنَّهُ غَيْر أَبِيهِ ، كَفَرَ )
فَقِيلَ : فِيهِ تَأْوِيلَانِ :
أَحَدُهُمَا أَنَّهُ فِي حَقّ الْمُسْتَحِلِّ .
وَالثَّانِي : أَنَّهُ كُفْر النِّعْمَة وَالْإِحْسَان وَحَقّ اللَّه تَعَالَى ، وَحَقّ أَبِيهِ ، وَلَيْسَ الْمُرَاد الْكُفْر الَّذِي يُخْرِجهُ مِنْ مِلَّة الْإِسْلَام . محدث امام نووی نے صحیح المسلم شریف کی شرح میں اس روایت کی شرح میں لکھا ہے کہ جو کسی دوسرے کی طرف دعوی کرے باپ ہونے کا جو اس کا باپ نہ ہو تو اس نی کفر کیا اس کا معنی ہے اگر اس نے ایسا حلال جانتے ہوئے کیا تو کفر لازم آئے گا کہ ایسا کرنا چاہنا حرام ہے اور کسی حرام کو بطور حلال چاہنا کرنا کفر ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر حلال جان کر نہ کیا بلکہ نفس پرستی ہوا ہوس کی وجہ سے کیا تو بھی برا ہے کہ نعمت الہی کا انکار ہوا احسان الہی کا اور حق خداوندی کا انکار ہوا جو نہایت برا مگر اس درجہ کا برا نہ ہوگا جس کفر سے بندہ ملت اسلام سے خارج ہوجائے
وقال :
"...قَوْله صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( اِثْنَتَانِ فِي النَّاس هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ : الطَّعْنُ فِي النَّسَب ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ بنی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں دو چیزیں جو ان میں عموماً پائی جاتی ہیں کفر ہیں نسب میں گالی نسب کو گھٹیا جاننا اور میت پر نوحہ زنی کرنا
قال علیه السلام (كفر بالله من انتفی من نسبه وإن دق او ادعی نسبا لا یعرف).. رواه ابن ماجه
ومما جاء في الشرح أيضاً:
"....قَوْله صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( وَمَنْ اِدَّعَى إِلَى غَيْر أَبِيهِ أَوْ اِنْتَمَى إِلَى غَيْر مَوَالِيه فَعَلَيْهِ لَعْنَة اللَّه وَالْمَلَائِكَة وَالنَّاس أَجْمَعِينَ )
هَذَا صَرِيح فِي غِلَظ تَحْرِيم اِنْتِمَاء الْإِنْسَان إِلَى غَيْر أَبِيهِ ، أَوْ اِنْتِمَاء الْعَتِيق إِلَى وَلَاء غَيْر مَوَالِيه ؛ لِمَا فِيهِ مِنْ كُفْر النِّعْمَة وَتَضْيِيع حُقُوق الْإِرْث وَالْوَلَاء وَالْعَقْل وَغَيْر ذَلِكَ ، مَعَ مَا فِيهِ مِنْ قَطِيعَة الرَّحِم وَالْعُقُوق ..."یہ بات نہایت واضح ہے کہ کہ کسی انسان کا اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا انتہائی حرام ہے غلام کو غیر مالک کی طرف منسوب کرنا نعمت کا کفر ہے حقوق وراثت و ولاء و عقل کو ضائع کرنا ہے یہی تو قطع رحم ہے اور سخت نافرمانی
ریاض الصالحین میں ہے
1802- عن سعد بن أبي وقاص رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
1805- وعن أبي ذر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أنه سمع رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يقول: (ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر، ومن ادعى ما ليس له فليس منا وليتبوأ مقعده من النار، ومن دعا رجلاً بالكفر أو قال عدو اللَّه وليس كذلك إلا حار عليه) مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.