13/07/2026
Free, Fair and Fastest remedy against Maladministration in Federal Government Departments and Organization.
پی ٹی وی:۔
آج میں پاکستان کے ایک نہایت اہم اور معتبر ادارے، وفاقی محتسب، میں موجود ہوں۔ آج کی نشست میں جس شخصیت سے میں آپ کی ملاقات کروانے جا رہی ہوں، انہوں نے مارچ 2026 میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ آپ نویں وفاقی محتسب ہیں۔
اگر میں ان کے بارے میں کچھ تفصیلات شیئر کروں تو ان کی کامیابیوں اور پیشہ ورانہ سفر کی ایک طویل داستان ہے، جس کے بارے میں میں چاہوں گی کہ آج کے انٹرویو میں ہم ضرور بات کریں۔
تاہم، ان کی شخصیت کے حوالے سے چند اہم باتیں یہ ہیں کہ آپ نے اعلیٰ تعلیم برطانیہ (UK) اور امریکہ (USA) سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے مختلف ٹریننگ کورسز، کانفرنسز، ورکشاپس اور سیمینارز میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے ہیں۔
اپنے تجربات اور حاصل شدہ علم سے آپ نے وفاقی اور صوبائی سطح پر پاکستانی عوام کو بھرپور فائدہ پہنچایا۔ آپ مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر بھی آپ نے خدمات انجام دی ہیں۔ آپ ایشین اومبڈسمین ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے ہیں، اور اس سے متعلق دیگر تنظیموں کے بھی فعال رکن ہیں۔
یہ چند مختصر باتیں تھیں جو میں نے آپ کے بارے میں پیش کیں۔
جناب نوید کامران بلوچ صاحب، بہت شکریہ۔
وفاقی محتسب:’’ بہت شکریہ، آپ نے مدعو کیا اور عزت بخشی، بہت مہربانی
پی ٹی وی: سب سے پہلے، اس سے پہلے کہ ہم اس پر آئیں کہ وفاقی محتسب کس انداز میں کام کرتا ہے، آپ کا روڈ میپ کیا ہے، آپ کا وژن کیا ہے، اور آپ اس ادارے کو کس شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں، میں یہ ضرور جاننا چاہوں گی کہ آپ نے زندگی میں اتنی کامیابیاں کیسے سمیٹیں۔ اگر اس کا احاطہ نہ کریں تو گفتگو کا لطف ادھورا رہے گا۔ آپ کیا کہیں گے؟
وفاقی محتسب: جی، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ حقیقت میں میں اس قابل نہیں تھا۔
اگر دیکھا جائے تو میں نے 22 اکتوبر 1985 کو اکیڈمی جوائن کی تھی، اور اس کے بعد زندگی نے جس طرف بھی سفر کیا، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہی ممکن ہوا۔
جو کچھ بھی حاصل کیا، اس میں والدین کی دعائیں، خاص طور پر والدہ کی دعائیں شامل رہیں۔ محنت بھی کی، غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی دی، توبہ کی، اور پھر یہاں تک پہنچایا۔
اگر حقیقت دیکھی جائے تو میری قابلیت اتنی نہیں تھی، البتہ محنت ضرور کی۔ اور اگر کہیں سرمایہ کاری ہوئی تو وہ انسانی تعلقات (Human Relations) میں ہوئی، جس کی وجہ سے، میرا خیال ہے، صدرِ پاکستان نے مجھے اس عہدے پر تعینات کیا۔ یہ ان کی عزت افزائی ہے۔
پھر وزیراعظم صاحب نے بھی مجھے اس ذمہ داری کے قابل سمجھا، انہوں نے میری سفارش کی، اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ ایک موقع عطا فرمایا۔
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیے لنگ کر پر کلک کریں:
https://www.youtube.com/watch?v=gB7VoSoxohk&t=2s
https://youtu.be/jYjYVLwRz7k