16/04/2024
مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش
تصنیف: مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی
مبصر: ایم آئی حقانی
____________ کتاب شناسی ____________
دین حق کے خلاف آغاز اسلام سے ہی باطل قوتیں طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا دفاع کرنے والے نابغہ روزگار عبقری شخصیات اور رجال کار بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں، ہر عہد میں کئی مشاہیر اسلام نے باطل افکار و نظریات کا نہ صرف علمی انداز میں ٹھوس نقد پیش کیا بلکہ غیر اسلامی افکار و نظریات کا اسلامی محاسبہ اور محاکمہ کرتے ہوئے مضبوط نقلی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ وہ ناقص، بودے، کھوکھلے اور انسانیت کےلئے زہر قاتل ہیں، نیز انہوں نے اسلام کی حقانیت اور آفاقیت کو دلائل اور براہین سے روز روشن کی طرح واضح کیا، انہیں علماء اور مفکرین میں ایک ممتاز نام مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا بھی ہے جو علمی اور فکری کے حلقوں میں محتاج تعارف نہیں،ان کی علمی اور انقلابی نگارشات سینکڑوں کی تعداد میں منظر عام پر آچکے ہیں اور دنیا علم کے زعماء اور مفکرین سے داد تحسین وصول کر چکے ہیں _____
موصوف کی معروف اور مشہور کتاب الصراع بین الفکرۃ الاسلامیه و الفکرۃ الغربیه فی الاقطار الاسلامیہ بھی اپنے موضوع پر قیمتی کاوش ہے جس کا اردو ترجمہ ”مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش“ کے نام سے برصغیر میں متداول کتاب ہے، اس کتاب میں انہوں نے وقت کے سب سے بڑے چیلنج مغربی تہذیب کی کامل پیروی، یعنی مغربیت اور جدیدیت پسندی کا پردہ چاک کیا ہے اور اس بات کی بھی خوب وضاحت کی ہے کہ دنیائے اسلام نے مغربیت کو کس طرح قبول کیا اور مختلف اسلامی ممالک نے اس کے متعلق کیا کیا موقف اختیار کیے اور عالم اسلام کے لیے اس بارے میں صحیح راہ کیا ہے ؟ اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ کون کون کس طرح جدیدیت کی راہ پر چل نکلیں اور عالم اسلام کی جدید تاریخ کا نیا اور اہم باب اسلامیت اورمغربیت کی کشمکش کی عبرت انگیز داستان اور احیاء اسلام کی جدید تحریکوں پر سیر حاصل بحث کی ہے ____
مولانا علی میاں نے جب ترکی کی تاریخ پڑھی تو انہیں احساس ہوا کہ مغرب سے مرعوبیت اور ان کی تہذیب کو بلا کسی تنقید کے پورے طور پر اپنانے کا مرض ترکی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ پورا عالم اسلام اس سے دوچار ہے تو انہوں نے ایک مضمون لکھا الموقف الحضاری تجاه الغرب پھر جب وہ لندن تشریف لے گئے تو بچشمِ خود وہاں کے حالات کا مشاہدہ کیا اور مغربی تہذیب کی اثر انگیزی اور جادوگری کو بہت قریب سے دیکھا، جب انکا احساس بہت بڑھ گیا اور اس کے حساس دماغ میں اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ اس جانب توجہ کرنے کی بہت اشد ضرورت ہے اور عالم اسلام کی صحیح رہنمائی اور اس کو مشورہ دینا ہمارا فرض بنتا ہے، وہیں پہ انہوں نے ایک ادارے میں ایک بلیغ تقریر کی جو بہت موثر ثابت ہوئی، اور عالم عرب میں اس عظیم ہندی اسکالر کا یہ جملہ بہت مشہور ہوگیا تھا الشرق شرق و الغرب غرب، و بینهما برزخ لا یلتقیان یعنی مشرق اور مغرب کے درمیان اس کی طبیعت اور مزاج کے درمیان ایک دیوار ہے، دونوں کبھی ایک ہو نہیں سکتے، اس کے بعد انہوں الصراع بین الفکرة الاسلامية والفكرة الغربية جیسا فکر انگیز کتاب لکھی، اس میں انگریزی اور دیگرزبانوں کی کتابوں کے بہت سے حوالے ہیں _____
مسلمانوں میں مغربیت کی فروغ اور اشاعت اور مشرقی خطوں میں جدیدیت کی آمد وغیرہ مباحث پر یہ ایک بہترین تفہیمی کتاب ہے اس اہم موضوع کے متعلق بہتریں مواد اس پائے جاتے ہے، اس کتاب کے لئے انہوں بہت سے انگریزی، عربی، فارسی اور اردو کتابوں سے بہت استفادہ کیا ہے، لیکن زیادہ تر استفادہ انہوں نے مولانا ابو الاعلی مودودی مرحوم کی اہم ترین کتاب تنقیحات سے کیا گیا ہے اور مولانا علی میاں نے اس بات کا عتراف بھی کیا ہے کہ میرا اصلی ماخذ تنقیحات ہے، اس کے علاوہ علامہ محمد اسد مرحوم بھی اسکے استفادہ کا مرجع ہے، اس لئے بعض نقادان فکر و فلسفہ مغرب فرماتے ہیں کہ مولانا علی میاں کی یہ کتاب اس موضوع پر کمزور تریں کتاب ہے، اس لئے کہ چونکہ موصوف کا مرجع علامہ اسد مرحوم تھے اور علامہ اسد مرحوم خود بھی فکر مغرب سے نا آشنا تھے
بہر حال! الصراع میں مغربیت سے مقابلے کےلئے بھر پور مواد موجود ہے اور اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کا اردو کے علاوہ دیگر مختلف زبانوں میں بڑے پیمانے پر ترجمے ہوئے ہیں (واللہ اعلم بالصواب) ____
مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش
تصنیف: مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی
مبصر: ایم آئی حقانی
دین حق کے خلاف آغاز اسلام سے ہی باطل قوتیں طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا دفاع کرنے والے نابغہ روزگار عبقری شخصیات اور رجال کار بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں، ہر عہد میں کئی مشاہیر اسلام نے باطل افکار و نظریات کا نہ صرف علمی انداز میں ٹھوس نقد پیش کیا بلکہ غیر اسلامی افکار و نظریات کا اسلامی محاسبہ اور محاکمہ کرتے ہوئے مضبوط نقلی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ وہ ناقص، بودے، کھوکھلے اور انسانیت کےلئے زہر قاتل ہیں، نیز انہوں نے اسلام کی حقانیت اور آفاقیت کو دلائل اور براہین سے روز روشن کی طرح واضح کیا، انہیں علماء اور مفکرین میں ایک ممتاز نام مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا بھی ہے جو علمی اور فکری کے حلقوں میں محتاج تعارف نہیں،ان کی علمی اور انقلابی نگارشات سینکڑوں کی تعداد میں منظر عام پر آچکے ہیں اور دنیا علم کے زعماء اور مفکرین سے داد تحسین وصول کر چکے ہیں _____
موصوف کی معروف اور مشہور کتاب الصراع بین الفکرۃ الاسلامیه و الفکرۃ الغربیه فی الاقطار الاسلامیہ بھی اپنے موضوع پر قیمتی کاوش ہے جس کا اردو ترجمہ ”مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش“ کے نام سے برصغیر میں متداول کتاب ہے، اس کتاب میں انہوں نے وقت کے سب سے بڑے چیلنج مغربی تہذیب کی کامل پیروی، یعنی مغربیت اور جدیدیت پسندی کا پردہ چاک کیا ہے اور اس بات کی بھی خوب وضاحت کی ہے کہ دنیائے اسلام نے مغربیت کو کس طرح قبول کیا اور مختلف اسلامی ممالک نے اس کے متعلق کیا کیا موقف اختیار کیے اور عالم اسلام کے لیے اس بارے میں صحیح راہ کیا ہے ؟ اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ کون کون کس طرح جدیدیت کی راہ پر چل نکلیں اور عالم اسلام کی جدید تاریخ کا نیا اور اہم باب اسلامیت اورمغربیت کی کشمکش کی عبرت انگیز داستان اور احیاء اسلام کی جدید تحریکوں پر سیر حاصل بحث کی ہے ____
مولانا علی میاں نے جب ترکی کی تاریخ پڑھی تو انہیں احساس ہوا کہ مغرب سے مرعوبیت اور ان کی تہذیب کو بلا کسی تنقید کے پورے طور پر اپنانے کا مرض ترکی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ پورا عالم اسلام اس سے دوچار ہے تو انہوں نے ایک مضمون لکھا الموقف الحضاری تجاه الغرب پھر جب وہ لندن تشریف لے گئے تو بچشمِ خود وہاں کے حالات کا مشاہدہ کیا اور مغربی تہذیب کی اثر انگیزی اور جادوگری کو بہت قریب سے دیکھا، جب انکا احساس بہت بڑھ گیا اور اس کے حساس دماغ میں اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ اس جانب توجہ کرنے کی بہت اشد ضرورت ہے اور عالم اسلام کی صحیح رہنمائی اور اس کو مشورہ دینا ہمارا فرض بنتا ہے، وہیں پہ انہوں نے ایک ادارے میں ایک بلیغ تقریر کی جو بہت موثر ثابت ہوئی، اور عالم عرب میں اس عظیم ہندی اسکالر کا یہ جملہ بہت مشہور ہوگیا تھا الشرق شرق و الغرب غرب، و بینهما برزخ لا یلتقیان یعنی مشرق اور مغرب کے درمیان اس کی طبیعت اور مزاج کے درمیان ایک دیوار ہے، دونوں کبھی ایک ہو نہیں سکتے، اس کے بعد انہوں الصراع بین الفکرة الاسلامية والفكرة الغربية جیسا فکر انگیز کتاب لکھی، اس میں انگریزی اور دیگرزبانوں کی کتابوں کے بہت سے حوالے ہیں _____
مسلمانوں میں مغربیت کی فروغ اور اشاعت اور مشرقی خطوں میں جدیدیت کی آمد وغیرہ مباحث پر یہ ایک بہترین تفہیمی کتاب ہے اس اہم موضوع کے متعلق بہتریں مواد اس پائے جاتے ہے، اس کتاب کے لئے انہوں بہت سے انگریزی، عربی، فارسی اور اردو کتابوں سے بہت استفادہ کیا ہے، لیکن زیادہ تر استفادہ انہوں نے مولانا ابو الاعلی مودودی مرحوم کی اہم ترین کتاب تنقیحات سے کیا گیا ہے اور مولانا علی میاں نے اس بات کا عتراف بھی کیا ہے کہ میرا اصلی ماخذ تنقیحات ہے، اس کے علاوہ علامہ محمد اسد مرحوم بھی اسکے استفادہ کا مرجع ہے، اس لئے بعض نقادان فکر و فلسفہ مغرب فرماتے ہیں کہ مولانا علی میاں کی یہ کتاب اس موضوع پر کمزور تریں کتاب ہے، اس لئے کہ چونکہ موصوف کا مرجع علامہ اسد مرحوم تھے اور علامہ اسد مرحوم خود بھی فکر مغرب سے نا آشنا تھے
بہر حال! الصراع میں مغربیت سے مقابلے کےلئے بھر پور مواد موجود ہے اور اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کا اردو کے علاوہ دیگر مختلف زبانوں میں بڑے پیمانے پر ترجمے ہوئے ہیں (واللہ اعلم بالصواب) ____