24/08/2026
ایک جبر کا ماحول ہے اور ہم اس ماحول کے اندر وقت گزار رہے ہیں۔اسلام میں جبر کی کوئی اجازت نہیں ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابُ الدَّعْوَةِ،
(چھ اشخاص ایسے ہیں جن پر میں نے لعنت کی، اللہ نے بھی ان پر لعنت کی، اور ہر وہ نبی جس کی دعا قبول ہوتی ہے، اس نے بھی ان پر لعنت کی)
ان چھے میں ایک ہے:
الْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوتِ، يُعِزُّ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ، وَيُذِلُّ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ۔
(طاقت کے ذریعہ غلبہ حاصل کرنے والا تاکہ اس کے ذریعہ اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے، اور اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت بخشی ہے)
جو طاقت کی بنیاد پر مسلط ہوتا ہے، قوم کی مرضی نہیں ہے، طاقت کی بنیاد پر جو قوم پر مسلط ہوگا اور عزت والوں کو بے عزت کرے گا، جیسے ابھی دو چار روز پہلے بلوچستان سے معززین بلائے گئے اور یہاں پر جو ہماری مقتدرہ نے ان سے خطاب کیا اور گفتگو کی، جو انتہائی توہین آمیز تھی۔ تم باعزت لوگوں کو ذلیل کرو گے اور جو دو ٹکے کے لوگ نہیں ہیں، وہ ہمارے وزراء اور منسٹر ہم پر حکومت کریں گے۔ جو آپ کے وفادار ہو سکتے ہیں، وہ قابلِ انعام ہیں، اگر پاکستان کا وفادار ہے تو وہ غدار ہے۔
تو یہی سیاست تو انگریز کی تھی کہ انگریز کے وفادار کو وفادار کہا جاتا تھا، ہندوستان کے وفادار کو غدار کہا جاتا تھا۔ آج وہی رویے ہمارے ملک کے اندر ہم دیکھ رہے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پشاور میں خطاب