Sarhad

Sarhad Facts, Figures and What Locals Say

خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے پاڑہ چمکنی کے رہائشیوں نے جرگے میں فیصلہ کیا ہے کہ ممکنہ فوجی آپریشن کی صورت میں وہ اپ...
29/08/2026

خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے پاڑہ چمکنی کے رہائشیوں نے جرگے میں فیصلہ کیا ہے کہ ممکنہ فوجی آپریشن کی صورت میں وہ اپنا علاقہ خالی نہیں کریں گے۔ جرگے کے شرکاء نے حکومتی سطح پر علاقے میں ممکنہ آپریشن کی مخالفت کا بھی اعلان کیا ہے۔

جرگے کے اعلامیے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ علاقے کے لوگوں کو گھروں سے نقل مکانی اور ممکنہ آپریشن سے متعلق معلومات کس ذریعے سے پہنچیں۔ صوبائی حکومت یا فوجی حکام کی جانب سے بھی پاڑہ چمکنی میں کسی بڑے فوجی آپریشن کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ تاہم مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں مختلف ذرائع سے آگاہ کیا گیا کہ علاقے میں آپریشن کیا جا سکتا ہے اور انہیں نقل مکانی کرنی چاہیے۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مقامی رہنما مفتی نور بادشاہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پاڑہ چمکنی میں بمباری کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے، جن کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اپنے آئینی، قانونی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت شہریوں کے حقوق اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

مفتی نور بادشاہ کا کہنا تھا کہ علاقے میں نہ پہلے اسلحہ ساز فیکٹریاں موجود تھیں اور نہ اب ہیں، جبکہ متعدد فوجی آپریشنز کے بعد اس علاقے کو پہلے ہی کلیئر قرار دیا جا چکا ہے۔ ان کے بقول نہتے شہریوں پر بمباری اور جانی نقصان ناقابلِ قبول ہے، اور حالیہ واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک غیر جانبدار کمیشن قائم کیا جانا چاہیے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

دوسری جانب ضلع کرم کے سیکیورٹی حکام نے لوک سجاگ کو بتایا کہ پاڑہ چمکنی میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق شدت پسند بھتہ خوری، سرکاری تنصیبات اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے علاوہ دیگر علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث ہیں۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی، تاہم اس دوران مقامی آبادی کے مسائل اور شہریوں کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں ضلع کرم میں دہشت گردی کے خلاف متعدد بڑے فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں، جن کے باعث ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی، جبکہ علاقے میں وقتاً فوقتاً انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بھی جاری رہتے ہیں۔

29/08/2026

لکی مروت سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار اور پولیس امن کمیٹی کے رکن سمیع اللہ، جو گزشتہ روز پشاور کے تھانہ پشتخرہ کی حدود سے مبینہ طور پر لاپتہ یا اغوا ہوئے تھے، نمودار ہو گئے ہیں۔ پولیس امن کمیٹی کے مطابق سمیع اللہ کا اپنے گھر والوں اور رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل خان مروت سے بھی رابطہ کرا دیا گیا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سمیع اللہ کی آنکھیں اشک بار ہیں اور وہ کچھ کہہ نہیں پا رہے، جبکہ چند سیکنڈز بعد پولیس وردی میں ملبوس ایک اہلکار کیمرہ اپنی طرف کرکے شیر افضل خان سے بات چیت جاری رکھتا ہے۔

سمیع اللہ کی مبینہ گمشدگی کے بعد لکی مروت اور بنوں میں پولیس امن کمیٹی اور دیگر پولیس اہلکاروں نے شدید احتجاج کیا، جبکہ انڈس ہائی وے سمیت مختلف مقامات پر دھرنے اور احتجاج کیے گئے۔

تاہم، سمیع اللہ کے نمودار ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے کئی سوالات اٹھائے ہیں کہ سمیع اللہ کو پشاور میں کس نے، کس وجہ سے تحویل میں لیا، اور پھر ان کی بازیابی کس طرح ممکن ہوئی؟

اب تک پولیس یا کسی متعلقہ ادارے کی جانب سے ان سوالات پر تفصیلی اور واضح سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ سمیع اللہ کو چند روز قبل لکی مروت سے سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا، پشاور منتقل کیا گیا تھا، جبکہ ان کی مبینہ گمشدگی یا اغوا اگست 2026 میں پشاور کے تھانہ پشتخرہ کی حدود سے رپورٹ ہوئی۔

28/08/2026

بنوں/لکی مروت: لکی مروت پولیس کے جاری احتجاج کی حمایت میں بنوں پولیس نے بھی دھرنا شروع کردیا ہے۔ پولیس اہلکاروں کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پشاور میں لاپتہ اہلکار سمیع اللہ کی بازیابی تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کے رکن اور پولیس اہلکار سمیع اللہ کے پشاور سے مبینہ اغوا کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق سمیع اللہ علاج کے سلسلے میں پشاور گئے تھے، جہاں انہیں تھانہ پشتخرہ کی حدود میں اچینی چوک سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔

اغوا کے خلاف لکی مروت پولیس امن کمیٹی نے سرائے نورنگ کے کرم پل کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے انڈس ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا، جس کے باعث آمدورفت متاثر ہوئی۔

اب لکی پولیس کے احتجاج کی حمایت میں بنوں پولیس نے بھی دھرنا شروع کردیا ہے اور لاپتہ اہلکار کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

نوٹ: سمیع اللہ کے اغوا اور دیگر تفصیلات کے بارے میں صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی وضاحت نہیں آ سکی.

28/08/2026

جنوبی وزیرستان، مکین بازار میں جمعہ کے روز موٹر سائیکل میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے متعدد افراد زخمی ہوگئے، جبکہ دھماکے کے نتیجے میں کئی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پولیس اور مقامی افراد کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل کے ساتھ نصب کیا گیا تھا۔ پولیس افسر فہیم محسود نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

زخمیوں میں حکومت کے حامی امن کمیٹی کے چھ ارکان بھی شامل ہیں.

28/08/2026

دیر، خیبر پختونخوا میں مقامی افراد کے مطابق پولیس نے علاقے میں شدت پسندوں کے گھروں کو نذرِ آتش کرنا شروع کر دیا ہے.

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز اپر دیر میں دو گھروں کو آگ لگا دی گئی. یہ کارروائی علاقے میں پولیس پر ہونے والے حملوں کے سلسلے کے بعد سامنے آئی ہے.

لکی مروت پولیس اہلکار کے اغوا کے خلاف احتجاج، انڈس ہائی وے بندلکی مروت: پولیس امن کمیٹی کے رکن اور پولیس اہلکار سمیع الل...
27/08/2026

لکی مروت پولیس اہلکار کے اغوا کے خلاف احتجاج، انڈس ہائی وے بند

لکی مروت: پولیس امن کمیٹی کے رکن اور پولیس اہلکار سمیع اللہ کے پشاور سے اغوا کے خلاف لکی مروت میں احتجاج شروع کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سمیع اللہ علاج کے سلسلے میں پشاور گئے تھے، جہاں انہیں تھانہ پشتخرہ کی حدود میں اچینی چوک سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔

واقعے کے خلاف لکی مروت پولیس امن کمیٹی نے سرائے نورنگ کے کرم پل کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے پشاور جانے والی انڈس ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا، جس کے باعث آمدورفت معطل ہوگئی۔

امن کمیٹی کے مطابق پولیس اہلکار کی بازیابی تک سڑک بند رہے گی۔ کمیٹی نے ہڑتال کی کال دیتے ہوئے تمام اہلکاروں کو پولیس لائنز پہنچنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار کی مبینہ گرفتاری/اغوا کے خلاف امن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ سمیع اللہ کی بازیابی کے لیے مطالبہ کیا جارہا ہے۔

25/08/2026

راتوں رات تبادلے، خیبر پختونخوا پولیس اہلکاروں کا احتجاج

خیبر پختونخوا پولیس کے 7 اہلکاروں کے اچانک اور دور دراز اضلاع میں تبادلوں کے خلاف پولیس امن کمیٹی اور متاثرہ اہلکاروں نے احتجاج کرتے ہوئے ڈیوٹیوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں پولیس ڈیوٹی اور ٹریفک کا نظام متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق تبادلوں کے احکامات سینٹرل پولیس آفس پشاور کے اے آئی جی اسٹبلشمنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے، جن کے تحت اہلکاروں کو لکی مروت، بنوں، پشاور، لوئر دیر سمیت مختلف اضلاع سے دوسرے اضلاع منتقل کیا گیا ہے۔

تبادلہ کیے جانے والے اہلکاروں میں پولیس امن کمیٹی سے وابستہ بعض عہدیداران بھی شامل ہیں، جن میں صدر خالد خان ، نائب صدر حیدر خان, انیس خان ، ملک امداد اور نعمان شامل ہیں۔

پولیس امن کمیٹی نے تبادلوں کے احکامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور اہلکاروں کے تحفظات دور کیے جائیں۔

احتجاج اور مبینہ ڈیوٹی بائیکاٹ کے باعث بعض علاقوں میں پولیس کی معمول کی سرگرمیاں اور ٹریفک کا نظام متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پولیس حکام کی جانب سے تاحال ان تبادلوں کی وجوہات اور احتجاج کے حوالے سے کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

24/08/2026

سرحد یونیورسٹی روات کیمپس میں فائرنگ کا واقعہ، طلبہ کا تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد کے روات میں سرحد یونیورسٹی کیمپس میں ایک فوجی افسر کی مبینہ فائرنگ کے واقعے کے بعد طلبہ و طالبات کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے الائیڈ ہیلتھ سائنسز شعبے کے ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون خان ایڈووکیٹ اور یونیورسٹی میں ایچ آر مینیجر کے عہدے پر موجود ایک خاتون کے درمیان دفتری معاملے پر تلخ کلامی ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ خاتون فوجی افسر کی اہلیہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بعد ازاں فوجی افسر اپنی اہلیہ کے ہمراہ یونیورسٹی پہنچے۔ وہاں موجود طلبہ و طالبات اور افسر کے درمیان گفتگو کے دوران تلخی پیدا ہوئی، جو مبینہ طور پر ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔

طلبہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہاتھا پائی کے بعد فوجی افسر نے پستول نکالا اور فائرنگ کی۔

طلبہ و طالبات کا کہنا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر فائرنگ کے الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

طلبہ کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر جدون خان ایڈووکیٹ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور گالم گلوچ کے معاملے کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ بعض طلبہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر جدون خان کو واقعے میں قصوروار قرار دینے سے قبل تمام فریقین کا مؤقف سنا جانا چاہیے۔

طلبہ کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، تمام فریقین کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

23/08/2026

جنرل مبین اور ان کے ساتھیوں پر طالبان حکومت کے تشدد اور فائرنگ

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں جنرل مبین، جو طالبان حکومت کے ایک نمایاں حامی کے طور پر جانے جاتے ہیں، نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان حکومت کے اہلکاروں نے ان کے ساتھیوں پر تشدد کیا اور فائرنگ بھی کی۔

ویڈیو میں جنرل مبین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حکام انہیں بلاتے تو وہ خود جا کر بات کرنے کے لیے تیار تھے، تاہم ان کے بقول حکام نے بات چیت کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔

جنرل مبین نے واقعے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا قانون ہے، اور الزام لگایا کہ متعلقہ افراد تشدد کے علاوہ کسی اور طریقے کو نہیں جانتے۔

اس نے دوسرے ایک دوکاندار پر تشدد کے واقع پر بھی اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ میں کہا کہ کیا وہ اس دکاندار کو بغیر تشدد کے نہیں لے جا سکتے تھے.

خیبر: نوجوان کی مبینہ طور پر گلا کاٹ کر ہلاکتخیبر ضلع کے علاقے میں ایک نوجوان کے قتل کا واقعہ پیش آیا ہے۔مقامی ذرائع کے ...
23/08/2026

خیبر: نوجوان کی مبینہ طور پر گلا کاٹ کر ہلاکت

خیبر ضلع کے علاقے میں ایک نوجوان کے قتل کا واقعہ پیش آیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق شلوبار قبیلے سے تعلق رکھنے والے نوجوان، جس کی شناخت اسرار کے نام سے ہوئی ہے، کی لاش باڑہ، اکاخیل کے علاقے درو اڈہ ایکسچینج کے قریب سے ملی، جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اسے گلا کاٹ کر قتل کیا گیا۔

اس طرح کے واقعات میں میں اضافہ ہو رہا، لیکن صحافیوں کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں خبر تک رسائی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے رپورٹ نہیں ہو پاتے. وہاں میڈیا اور عام سوشل میڈیا صارفین کو خبر دینے پر دھمکایا اور قتل کیا جاتا ہے.

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sarhad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share