31/07/2019
کیسی شدت سے تجھے ھم نے سراھا ، آھا.!!
تیری پرچھائیوں کو بھی ٹُوٹ کے چاھا ، "آھا"
آخری سانس کی لذّت کوئی اُس سے پوچھے.!!
مرتے مرتے بھی جو بیمار کراھا ، " آھا "..
شعر کہنا ھے تو یُوں کہہ کہ ترا دُشمن بھی.!!
دُشمنی بُھول کے چِلا اُٹھے ’’ آھا ، آھا ‘‘ ..
تیری آنکھوں میں کھٹکتا ھے مرے جیسا فقیر.!!
کیسا اعلٰی ترا معیار ھے " شاھا " ، " آھا "
کل مرے حق میں تھا اور آج مخالف ھُوا تُو.!!
کیسے بدلا ھے بیاں تُو نے ، " گواھا " ، " آھا"
آج بھی یاد اگر آئے تو جُھوم اُٹھتا ھوں.!!
ماہِ کامل تھی جبیں، نام تھا " ماھا " ، " آھا "
رحمان فارس