25/04/2021
ہم دونوں 18 سال کی عمر میں گھر سے نکلے تھے ،
تم نے سول میں ایک پیشے کا انتخاب کیا ،
مجھے آرمی میں شامل ہونے کی منظوری مل گئی۔
تم نے جو چاہا تها تمہیں وہی شعبہ مل گیا ،
اور میری فوج جائن کرنے کی آرزو پوری ہوئی -
تم نے دن رات محنت کی اور اپنی ڈگری حاصل کر لی ،
مجهے بہت مشکل اور کٹهن تربیت کے مرحلے سے گزر کر کمیشن مل گیا -
تمہاری کانووکیشن کی تقریب ہوئی،
اور میری پاسنگ آؤٹ پریڈ ہو گئی-
تمہیں بہترین کمپنی لے گئی اور اہلیت اور قابلیت کے مطابق بہترین پیکیج سے نوازا گیا ،
مجھے حکم دیا گیا کہ میں کندھوں پر ایک اسٹار سجائے اپنی بٹالین میں شامل ہو جائوں-
تمہیں اپنی خواہش کے مطابق ایک ایسی جاب مل گئی تهی جس کے تم قابل تهے،
مجھے زندگی کی ایک ایسی ڈگر مل گئی جس کا مجھے اس عمر میں کوئی اندازہ نہیں تھا-
تمہارا دن 7 بجے شروع ہوتا اور شام کو ختم ہو جاتا،
میرا کام صبح 4 بجے شروع ہو کر آدهی رات تک رہتا ، اور کبھی کبھی کئی دن تک سونے کا موقع بهی نہ ملتا -
ہر شام تمہیں اپنے کنبہ میں مل بیٹھنے کا وقت ملتا ،
میری خواہش رہتی کہ میں جلد اپنے والدین سے مل پائوں ۔
تم نے خوبصورت سجے ہال میں روشنی اور موسیقی کے ماحول میں دوستوں سے مل کر تقریبیں منائیں ،
میں نے اپنے ساتھیوں اور بندوقوں کے ساتھ بنکروں میں لائن آف کنٹرول پر جشن منائے۔
پهر ہم دونوں کی شادی ہوگئی ....
تمہاری بیوی تم سے روزانہ مل کر خوش ہوتی ،
میری بیوی صرف یہ خواہش اور دعا کرتی کہ میں زندہ رہوں۔
تم کو کمپنی نے بیرون ملک کاروباری دوروں پر بهیج دیا ،
مجھے دشمن سے لڑنے کے لئے لائن آف کنٹرول اور شورش زدہ علاقوں میں بھیجا گیا -
پهر ایک دن ہم دونوں گهر واپس آئے......
ہماری بیویاں اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پاسکتی تھیں ،
تمہاری بیوی کے آنسوؤں میں خوشی کے جزبات تهے اور میری بیوی کے آنسو چپ چاپ گم سم چہرے پر بہہ رئے تهے-
تم اس کے آنسو صاف کرنے کے قابل تھے لیکن ، میں اس کو دلاسہ بهی نہیں دے سکتا تھا ...
تم نے اسے اور اپنے بچوں کو گلے لگایا ، لیکن میں ، میں ایسا نہیں کر سکتا تها-
کیونکہ
میں سبز ہلالی پرچم میں لپٹے تابوت میں پڑا تھا ،
اور میرے سینے پر تمغمے سجے تهے -
میری زندگی گزارنے کا طریقہ ختم ہوا ...
تمہارا اب بھی جاری ہے اللہ پاک اسے جاری رکهے...
ہم دونوں 18 سال کی عمر میں گھر سے نکلے تھے ،