نسب اور کسب کے اختلاط کی اصلاح کی تحریک

نسب اور کسب کے اختلاط کی اصلاح کی تحریک پاکستانی معاشرے میں ہندووں کے نظریے کے مطابق کچھ آبائی پیشوں اور کسبوں کو نسب کہتے ہیں۔

13/01/2025

💢💢💢💢🌷🌹⚘️پختون کون؟⚘️🌹🌷💢💢💢💢

لفظ پختون پانچ (05) حروف سے ملکر بنا ہے۔ ( پ ، خ ، ت ، و ، ن )۔ اور ان 05 حروف میں سے ہر ایک حرف اپنے اندر ایک کردار، صفت ، خوبی اور خصوصیت کو سمویا ہوا ھے۔ مثلا:::

🌷 ( پ) سے پت یعنی آبرو ، عزت ، حیاء ۔
🌷 (خ) سے خیګړه یعنی ہمدردی، غمخواری۔
🌷 (ت ) سے توانا یعنی مضبوط ، صحتمند ، تندرست۔
🌷 ( و ) سے وفا یعنی بامروت ، مخلص ، زبان کا پکا۔
🌷 ( ن ) سے ننګیالے یعنی غیرتمند ، غیور ، باہمت۔

👈👈👈اب جو شخص ان خصوصیات کا حامل ہوکر ، پختون سماج میں پشت در پشت مسکن ہیں۔ وہ اصل میں پختون ہیں۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر01::: فیس بک پیج
عنوان: تاریخ پختون قبائل۔ تحریر: حضرت علی آفریدی۔
تاریخ اشاعت:::: 17 مارچ 2023۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر02: ویب سائیٹ::: www.bbc.com
تحریر::: شاھد اقبال دیر پاکستان۔ اشاعت: 18 مارچ 2006۔
پروفیسر فرینک کی فرینک باتیں (BBC).

25/12/2024

💢💢💢🌷🌹⚘️اسلام میں نسب کی بنیاد⚘️🌹🌷💢💢

👈نسب عربی زبان کا لفظ ہے۔ اور تین (03) حروف (ن،س،ب) سے ملکر بنا ہے۔ نسب کلمہ اسم اور کلمہ مذکر ہے۔ نسب، صیغہ واحد ہے۔ اور انساب جمع ہے۔ نسب ، خون کی اکائی کو کہتے ہیں۔ یعنی ایک ہی خون کے رشتدار۔ [01]۔

👈نسب کے اردو معانی::: نسب، کلمہ اسم اور کلمہ مذکر ہے۔ نسب کے معنی ہیں ۔اصل، نسل، سلسلہ، خاندان کا سلسلہ (باپ کی طرف سے)۔[02]

👈نسب سے نسبی::: نسبی بھی عربی زبان کا لفظ ہے۔ اور ہر انسان کے خونی رشتوں کو بیان کرتا ہے۔ مثلا باپ، دادا، بیٹا، پوتا، بھائی، چچا،بھتیجا وغیرہ۔[03]۔

🤲اللہ تعالی کی حکمت اور کرم ہے۔ کہ ہر انسان کا سلسله نسب، باپ کی طرف سے چلتا ہے۔ چونکہ قرآن عظیم الشان میں اللہ رب العزت نے بہت واضح طور پر حکم صادر فرمایا ہے۔
کہ::: 🌷ادعوھم لآبائھم🌷 سورة الاحزاب ، آیت نمبر 05۔ ترجمه: ان کو، ان کے حقیقی باپوں کی طرف نسبت کرکے بلاؤ. آباء ، أب کی جمع ہے۔ چونکہ ہر انسان کیلئیےحقیقی باپ سے لیکر دادا، پرداد، لکڑدادا اور چلتے چلتے حضرت آدم علیه السلام تک، ہر ایک باپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پس ہر انسان کو اپنے حقیقی باپ سے لیکر، حضرت آدم علیه السلام تک، کسی بھی نام سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اپنے باپ کے بھائی یا دادا کے بھائی یا پردادا کے بھائی یا لکڑدادا کے بھائی یا پھر کسی اور کیساتھ بالکل منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ پس اس قرآنی آیت سے بخوبی واضح ہے۔ کہ اولاد کی نسبت حقیقی باپوں کی طرف کرنی چاھئیے۔[04]۔

🤲نسب، حقیقت میں ہر انسان کی اصل اور نسل کو کہتے ہیں۔یعنی وہ کس فرد کی اولاد ہیں۔ اس بات کی وضاحت کیلئیے محمد صلی اللہ علیه وسلم کی عالی شان نسب کی مثال لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیه وسلم کے پرداد محترم ھاشم صاحب کی وجہ سے، محمد صلی اللہ علیه وسلم کا نسب مبارک ھاشمی ہے۔پس ثابت ہوا۔ کہ محمدصلی اللہ علیه وسلم ھاشم کی اولاد ہیں۔نسب کا آغاز ایک ہی فرد کی اولاد کے آگے بڑھنے اور پھیلنے سے ہوتا ہے۔ یا یوں کہا جائے۔ کہ ایک نسب رکھنے والے افراد کا تعلق بالآخر اوپر جاکر، ایک ہی فرد پر جڑ جاتا ہے۔جس طرح حضور صلی اللہ علیه وسلم کا نسب بالآخر جاکر، حضرت اسمعیل علیه السلام سے جڑ جاتا ہے۔[05]۔

🤲انسان کا نسب، باپ ، دادا ، پرداد ، لکڑدادا ( اوپر تک جتنا صحیح معلوم ہو) سے چلتا ہے۔ ددھیالی رشتے نسبی رشتے اور یہ لوگ نسبی لوگ ہوتے ہیں۔ اسلئیے ان کو ایک ہی نسب کے لوگ کہتے ہیں۔ نسب ، معاشرہ میں ہر انسان کی ایک پہچان ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ نسب تبدیل کرنا یعنی اپنی نسبت ، نسبی باپ دادا کی بجائے ، کسی بھی دوسرے کی طرف کرنا، نعوذبااللہ ، اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ کچھ لوگ اپنی نسبی نسبت ، اپنے حقیقی باپ داد کی بجائے ، کسی بھی اور کی طرف کر دیتے ہیں۔ اور یہ عمل اسلام میں مکمل حرام ھے۔[06]۔

🤲اللہ تعالی نے ، جس کو صرف بیٹیاں عطا کی ہو۔ بیٹے نہیں دئیے ہو۔ تو چونکہ نسب ، میں اعتبار باپ کا ہے۔ ماں کا نہیں۔ تو باپ جس نسب اور خاندان سے ہوگا۔ اولاد بھی اسی نسب کی سمجھی جائیگی۔ لھذہ شجرہ نسب میں والد کا نسب، اس کے مردانہ اولاد سے آگے چلتا رہتا ہے۔ اور بیٹیاں جس خاندان میں بیاہ کی جائے۔ تو اس خاندان کے مرد سے، ان بیٹیوں کی اولاد کا نسب شمار ھوگا۔[07]۔

🤲علم الانساب ( Patrilinearity ) کی رو سے ، پدرانه نسب ایک ایسی منظم ترتیب ھے۔ جس میں نسب کا دارومدار ، مردانہ پشتوں کی طرف ھوتا ہے۔ اور یہی اسلامی تعلیمات بھی ہیں۔ کہ انسان کا نسب والد کی طرف سے چلتا ھے۔ یہ ایک ایسا زبردست سماجی نظام ھے۔ جس میں ہر شخص اپنے باپ کی نسب کیساتھ شناخت ڈھونڈتا ھے۔[08]۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر01:::ویب سائیٹ:www.almaany.com

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر 02::: www.rekhtadictionary.com

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر03::: www.rekhtadictionary.com

🌷🌹⚘️بحواله نمبر04: ویب سائیٹ: www.alulama.org
عنوان: اولاد کی نسبت باپ کی طرف کیوں؟

sultan-ul-ashiqeen.pk:بحوالہ نمبر05:::ویب سائیٹ⚘️🌹
عنوان: حسب اور نسب۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر 06: ویب سائیٹ: www.atasamiee.in
مفتی محمد عطاءاللہ سمیعی الہندی
عنوان: باپ دادا کے علاوہ کی طرف اپنی نسبت کرنا۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر 07: ویب سائیٹ:
www.alikhlasonline.com
AL-IKHLAS ONLINE, Darulifta AL- IKHLAS.
فتوی نمبر::: 5179۔
عنوان: شجرہ نسب میں باپ کا اعتبار ھوگا یا ماں کا؟۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر 08: ویب سائیٹ: wikipedia.org
عنوان: پدرانہ نسب ( اولاد کا باپ کی طرف نسبت)۔

07/12/2024

💢🌷🌹⚘️توکل په خدائے پختون ہی لکھ دو⚘️🌹🌷💢

👈👈👈ہر قوم اور نسل میں مختلف ہنر اور پیشوں کے کرنے والے افراد ہوتے ہیں۔ لیکن پختون سماج میں، بعض پیشوں اور ہنر کو کسب سمجھا جاتا ہے اور بعض کو نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے۔ کہ کمائی کا ہر ذریعہ بذات خود کسب ہی ھے ، اور پختون سماج کا یہ خودساختہ فارمولا ، نفرت اور تکبر کی بنیاد پر بنا ہے۔ اب پختون سماج میں وہ افراد جن کے آباء واجداد نے، یہی کسب کہلانے والے ذریعہ معاش میں کوئی سا ایک جو اپنایا تھا۔ تو اب ان کی نسل نہ پختون قوم کا حصہ ہے، اور نہ ہی کسی پختون قبیلہ کا۔ بلکہ یہ لوگ کسبی ( کمانے والے) ہیں۔ اور باقی لوگوں کے پاس پیٹ نہیں، اسلئیے وہ کسبی ( کمانے والے) نہیں۔

🌷پختون قوم کے اس خودساختہ فارمولے کے متعلق ، پختون رائٹر سعداللہ جان برق کہتے ہیں۔ کہ یہ لوگ نہ آسمان سے ٹپکے ہیں۔ اور نہ ہی دوسرے قوم اور نسل سے درآمد کئیے گئے ہیں۔ بلکہ یہ پختون قوم اور نسل کے افراد اور حصہ ہیں۔ اور مختلف حالات اور اوقات میں ان لوگوں نے اپنی ذریعہ معاش کیلئیے کوئی حلال پیشہ اور ہنر شروع کیا تھا۔ تو اس سے ان کی ذات یا نسب ، تو نہیں بدلی۔ بلکہ حقیقت میں یہ اسی قوم اور نسل کے ہوتے ہیں۔ اور خون اور ذات میں ان سے جدا اور کم نہیں ہوتے۔

👈👈سعداللہ جان برق مزید لکھتے ہیں۔ کہ مندرجہ بالا پس منظر کے بعد، اب پشتون اور افغان ناموں کی طرف آتے ہیں۔ کہ ہزار سالہ فارسی غلبے کے دور میں، جب سرکاری بھرتی ہوتی۔ تو اس میں قومیت کا خانہ بھی ہوتا تھا۔ اور جب کوئی پیشہ ور اور ہنرمند کوئی ملازمت حاصل کرتا، تو وہاں کسی پختون کی موجودگی میں، وہ خانہ قومیت میں "پختون" ڈر کے مارے لکھوا نہیں سکتا تھا۔ پس اصلی پختون ہوتے ہوئے بھی وہ " افغان" لکھوا دیتا تھا۔ اس حوالے سے ایک عبرتناک لطیفہ بھی مشہور ہوا تھا۔ کہ ( ایک ایسا شخص ، جب بھرتی ہو رہا تھا۔ تو قومیت پوچھنے پر وہ ادھر ادھر دیکھتا۔ اور جب کوئی اس کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔ تو وہ کہتا۔ کہ " توکل پہ خدائے پختون لکھ دو" یعنی خدا پر توکل کرکے پختون ہی لکھ دو۔"[01]۔

🌷⚘️🌷👈حقائق اور تاریخ کی روشنی میں، بہت سے اصلی پختون، جنہوں نے ایسے ہنر اور پیشے اپنائے تھے۔ جو پختون خودساختہ فارمولا کے مطابق، کسب کہلائے جاتے ہیں۔ تو اب ان کی نسلیں پختون کی بجائے، اسی ہنر اور پیشہ سے یاد کئیے جاتے ہیں۔

بحوالہ نمبر01::: ویب سائیٹ: ایکسپریس اردو۔
www.express.pk
عنوان: خانہ قومیت میں افغان کا قصہ۔
تحریر: سعداللہ جان برق۔
تاریخ اشاعت: نومبر 02، 2018۔

27/11/2024

🌷🌹قرآنی لفظ 👈کسب👉 کی پختون سماج میں تحقیر🌹

کسب، قرآنی لفظ ہے۔ اور سورہ بقرہ آیت نمبر81، سورہ طور آیت نمبر21 اور سورہ مسد آیت نمبر 02 میں واضح طور پر موجود ہے۔ کسب کے معنی کمائی اور کمانا کے ہیں۔ قرآن پاک میں یہ لفظ ذیادہ تر مقامات میں، کسب حسنات ( نیکیاں کمانا) اور کسب سئیات ( برائیاں کمانا) کے ضمن میں آیا ہے۔ لیکن کچھ مقامات قرآنی اور بکثرث احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں، کسب معاش ( رزق کمانا) کیلئیے وارد ہوا ہے۔[01]۔

👈پختون کا کسب کے لفظ کو حقیر سمجھنے کی نفسیاتی سوچ:

کسب معاش(رزق کمانا) ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن پختون صرف دوسروں کو کسب، کسبی، کاسب اور کسبگر کی نسبت کرتا ہے۔ اور خود کو اس زمرے سے بری سمجھتا ہے۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا۔ کہ وہ اپنے پیٹ کیلئیے جو سعی کرتا ہے۔ وہ نہ کمائی ہے۔ نہ کسب ہے۔ اور نہ ہی کسبگری ہے۔ بلکہ وہ کوئی دوسری چیز ہے۔

پختون کے نفسیات کے مطابق، اس کیلئیے کسی بھی قسم کا ہنر اور فن سیکھنا اور اسے اپنا کسب معاش بنانا، حقیری اور کمتری ہے۔ اور یہ اس کے شان کے خلاف ہیں۔ اور جس ہنر اور فن کو وہ کسب گردانتا ہے۔ اس کے سیکھنے اور اسے اپنا ذریعہ معاش بنانے سے، وہ پھر پختون کے درجہ سے گر کر، کسب گر(کمائی کرنیوالا) بن جائیگا۔

اب پہلی توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ قدیم ذرائع معاش میں زمینداری، دوکانداری، حکمت، طبابت، مال مویشی چرانا، جرندہ چلانا وغیرہ بھی کسب معاش ( رزرق کمانا) ہی ہے۔ اور جدید ذرائع معاش بھی۔ لیکن پختون ان ذرائع معاش کو اپنانے سے، خود کو نہ غیر پختون اور نہ کسبگر گردانتا ہے۔ اور دوسرے قدیم ذرائع معاش جیسے لوہار، ترکھان، موچی، نائی، جولاہا، کمہار، تیلی، مالیار وغیرہ بھی کسب معاش ( رزق کمانا) ہی ہے۔ لیکن پختون ان ذرائع معاش کے اپنانے والوں کو غیر پختون اور کسبگر گردانتا ہے۔ مطلب خود کسب کرتا ہے۔ لیکن کسبگر نہیں، مگر جب دوسرا کسب کرتا ہے۔ تو وہ کسبگر ہے۔ پس صاف ظاہر ہے۔کہ دوہری پالیسی، دوہری معیار اور دوہری نفسیات ہیں۔

اور دوسری توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ، جیسے اللہ کے خاص اور برگذیدہ ہستیوں نے لوہار، ترکھان، قصاب، نائی وغیرہ کے کسب معاش اپنا کر، حلال روزی کما کر، اللہ کے دربار میں اعلی منصب و مقام حاصل کیئے۔ تو دوسری طرف پختون کی سوچ یہ ہے۔ کہ لوہار، ترکھان، قصاب، نائی وغیرہ کے کسب معاش اپنانے سے، اس کی عزت اور وقعت ختم ہو جائیگی۔ [02]۔

🤲قرآن میں پاک و حلال کسب معاش(رزق کمانا) کا بیان:

قرآن پاک_پارہ نمبر03_سورہ بقرہ_آیت نمبر 267۔
(((یاایھاالذین امنو انفقو من طیبت ما کسبتم)))
ترجمه: اے ایمان والوں! تم پاکیزہ چیزیں خرچ کرو۔ جو تم نے کمائی ( کسب) کی ہے۔[03]۔

🤲احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کسب معاش (رزق کمانا) کا بیان:

🌷حدیث شریف: (سنن کبری بیہقی حدیث نمبر16695)۔(شعب الایمان، 175/11_حدیث نمبر 8367)۔(مشکات المصابیح_ حدیث نمبر2832)۔(احمد بن حنبل شیبانی_متوفی_241 ہجری_ مسند احمد بن حنبل_ بیروت_عالم الکتب_1419 ہجری_ رقم:24272، جلد نمبر 07_صفحہ نمبر_875)۔

🤲(((عن عبداللہ بن مسعود، قال: قال رسول اللہ-طلب کسب الحلال فریضة بعدالفریضة)))۔
ترجمه: حلال کمائی کی طلب کرنا فرض ہے، فرض کے بعد۔
تشریح: کسب حلال کو طلب کرنا، دین اسلام کے اولین فرائض ( کلمہ طیبہ، نماز، روزہ، زکواة اور حج) کے بعد، دوسرے درجے کا فرض ہے۔[04]۔

🌷حدیث شریف: فتح الباری 04/296-عمدہ القاری11/173۔ ((( من المکاسب الحلال)))۔
ترجمه: حلال کمائی کا ذریعہ ہے۔[05]۔

🌷حدیث شریف: مسنداحمدط الرسالة (502/28)۔
((( عن جدہ رافع بن خدیج: قال: قیل یا رسول اللہ، ایی الکسب اطیب؟ قال عمل الرجل بیدہ وکل بیع مبرور)))۔
ترجمه: حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا۔ کہ کون سی کمائی ( کسب) پاک اور حلال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ انسان کے ہاتھ کی مزدوری اور ہر سچی بیع۔[06].

🌷حدیث شریف::محمد بن عیسی ترمذی ( متوفی، 279ہجری)، سنن ترمذی ( بیروت دارالغرب اسلامی۔1998)، رقم 2416، جلد نمبر 04- صفحہ نمبر 612)۔عن عبداللہ ابن مسعود۔ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم( کچھ حصہ) ((( عن عمرہ فیم افناہ، وعن شبابه فیم ابلاہ، وماله من این اکتسبه وفیھم انفقه وما ذا عمل فیما علم)))
ترجمه::: حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ( حدیث کا کچھ حصہ لیا گیا ہے)۔ عمر کن کاموں میں صرف کی۔ جوانی کس طرح گزاری۔اور مال کیسے کمایا( کسب کیا)۔اور کس طرح خرچ کیا۔ اور اپنے علم پر کس طرح عمل کیا۔[07]۔

🌷حدیث شریف: سنن ترمذی_حدیث نمبر1358۔
سنن نسائی_کتاب البیوع_خرید و فروخت۔ باب: الحث علی الکسب_ کسب معاش_ روزی کمانے کی ترغیب_ حدیث نمبر 4454۔(((ان اطیب ما اکلتم من کسبکم))) ترجمہ: سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے۔جو اپنی کمائی (کسب) سے کھاؤ. اور ((( عن عائشہ : قالت: قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اطیب ما اکل الرجل من کسبه))) ترجمہ::: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے۔ جو آدمی اپنی کمائی (کسب) سے کھائے۔[08]۔

بحوالہ نمبر01::: ویب سائیٹ: albirr.net
عنوان::: قرآنی لفظ کسب کی صرفی تحلیل۔
تحریر::: حافظ تقی رضا_اشاعت: 23 اپریل 2023۔

بحوالہ نمبر02::: ویب سائیٹ: reddit.com
عنوان::: Tajiks are more closer to Punjabi, than Pashtuns.
ویب سائیٹ: www.researchgate.net
عنوان::: Dynamics of Pakhtun Social Structure
تحقیق::: Naila Aman Qazi,
Raza Qazi and Imran Khan, University Of Peshawar.

بحوالہ نمبر03::: ویب سائیٹ: harf-o-sukhan.com
عنوان::: کسب حلال کی افادیت اور عصری معنویت، قرآن وحدیث کے تناظر میں۔
تحریر و اشاعت::: M.Aasim Sharif, Ph.D Research Scholar Islamic Studies, Muslim Youth University Islamabad.

harf-o-sukhan.com::بحوالہ نمبر 04:ویب سائی🌷
عنوان::: کسب حلال کی افادیت اور عصری معنویت، قرآن وحدیث کے تناظر میں۔
تحریر و اشاعت::: M.Aasim Sharif, Ph.D Research Scholar Islamic Studies, Muslim Youth University Islamabad.

🌷بحوالہ نمبر05::
ویب سائیٹ::: www.darululoom-deoband.com
عنوان::: اسلامی تجارت کے بنیادی اصول
تحریر: مفتی توقیر عالم قاسمی۔ اشاعت: 19اکتوبر 2022۔
دارالعلوم شمارہ_جلد 104_فروری،مارچ 2020۔

🌷بحوالہ نمبر 06::ویب سائیٹ: www.banuri.edu.pk
فتوی نمبر: 144001200755
دارالافتاء::: جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی۔


harf-o-sukhan.com 🌷 بحوالہ نمبر07 :ویب سائیٹ: عنوان::: کسب حلال کی افادیت اور عصری معنویت، قرآن وحدیث کے تناظر میں
تحریر و اشاعت::: M.Aasim Sharif, Ph.D Research Scholar Islamic Studies, Muslim Youth University Islamabad

🌷بحوالہ نمبر08: ویب سائیٹ: islamicurdubooks.com

12/11/2024

💢💢💢🌷🌹⚘️⚘️⚘️لوہار⚘️⚘️⚘️🌹🌷💢💢💢💢

🤲🤲🤲لوہار ایک پیشے کا نام ہے۔ جو لوہے کے مختلف اوزار بناتے بھی ہیں۔ اور ان کی مرمت بھی کرتے رہتے تھے۔ اسی پیشہ سے منسلک لوگ، کسی ایک نسب کے نہیں ہیں۔ بلکہ ہمارے پیارے ملک پاکستان میں مختلف اوقات اور حالات میں، مختلف نسب اور قبیلوں کے لوگوں نے، لوہار کا پیشہ اپنایا۔ پس یہ بات واضح ہے۔ کہ موجودہ دور میں لوہار کا پیشہ کرنے والے افراد، مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں کچھ ان قبیلوں کے نام قارئین کے سامنے تحریر کرتے ہیں۔ جن کے بعض لوگوں نے لوہار کا پیشہ اپنایا۔

🙏🙏🙏پاکستانی قبائل شلمانی، گجر، مغل ، جٹ اور راجپوت کے مختلف افراد نے، مختلف اوقات اور حالات میں لوہار کا پیشہ اپنایا۔ اس کے علاوہ اور بھی مختلف قبیلوں کے لوگ اسی پیشہ سے منسلک ہیں۔

👈👈👈پس معلوم ہوا۔ کہ لوہار نہ کوئی نسب ہے۔ نہ قبیلہ اور نہ قوم، بلکہ صرف ایک پیشہ ہے۔ اب جو کوئی بھی بذات خود یہ پیشہ کرتا ہے۔ وہ بلا شبہ لوہار ہی ہے۔ لیکن جن لوگوں کے آباء واجداد نے یہ پیشہ اپنایا تھا۔ اور اب ان کی نسل، اسی پیشے سے مکمل لاتعلق ہیں۔ ان کو لوہار گرداننا، نہایت ہی پست اور گری ہوئی عمل ہے۔

🌷🌷🌷مزید یہ کہ، کوئی بھی شخص جو لوہار کے نام کی وجہ اپنے قبیلے سے اب ناواقف ہے۔ وہ اپنا جینیاتی DNA ٹسٹ کروالے۔ ٹسٹ میں معلوم ہو جائیگا۔ کہ بنیادی طور پر وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک ہی دادا کے اولاد میں صرف ایک ہی شخص یہ ٹسٹ کردے۔ تو پھر یہ سب کا ہی ھو جائیگا۔

نوٹ::: میرے نہایت ہی معزز پاکستانی بھائیوں، یہ باتیں فقط سوچ اور عمل کی اصلاح کیلئیے ہیں۔ آپ سب کی تعاون کا شکریہ۔

💢🌹🌷بحوالہ نمبر 01::: فیس بک پیج: لوہار قومی مومنٹ پاکستان۔
عنوان::: لوہار کون ہیں۔ تاریخ اشاعت:: 16 اپریل 2021۔

💢🌹🌷بحوالہ نمبر 02::: فیس بک پیج::: The Mughals
تحریر::: مرزا عرفان بیگ ایڈوکیٹ۔
تاریخ اشاعت::: 29 مئی 2019۔

💢🌹🌷بحوالہ نمبر 03::: ویب سائیٹ: shehar-e-ghazala.com
عنوان::: تہذیب وتمدن
تحریر::: عبدالمعین انصاری۔
تاریخ اشاعت::: 25 اپریل 2021۔

11/11/2024

💢💢💢💢🌷🌹⚘️سماجی ناانصافی⚘️🌹🌷💢💢💢

سماجی پہچان آباءواجداد سے ہوتی ہے۔
نہ کہ آباءواجداد کے پیشے سے۔

اللہ تعالی ہمیں، روئے زمین پر انصاف قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔
انسانی زندگی میں سماج کا بڑا عمل دخل ہے۔ اور اگر ہم پاکستانی اپنی سماج پر نظر ڈال دیں۔ تو ہمارے معاشرہ میں اونچ نیچ کے علاوہ بھی، سماجی پہچان کے حوالے سے بہت بڑی بے انصافی پائی جاتی ہے۔

👈👈👈یہ بات تو ہم سب پاکستانیوں کو روزروشن کی طرح واضح اور عیاں ہیں۔ کہ ہر انسان اپنا پیٹ پالنے کیلئیے ضرور، کوئی ذریعہ معاش، ہنر، محنت مزدوری، صنعت، تجارت اور حرفت اختیار کرتا ہے۔ اب ہم میں سے ہر انسان کے آباء واجداد نے بھی اپنا پیٹ پالنے کیلئیے کوئی صنعت، تجارت اور حرفت اختیار کئیے تھے۔

❓️❓️❓️سوال اب یہ ہے۔ کہ پاکستانی معاشرے میں ہر ایک شخص کے آباء واجداد نے، کوئی نہ کوئی پیشہ اپنایا تھا۔ لیکن ہم میں سے بہت ساری نسلوں کو ان کے آباء واجداد کے نام سے، اور بہت ساری نسلوں کو ان کے آباء واجداد کے پیشے کے نام سے، سماجی پہچان کروائی جاتی ہے۔

🙏🙏🙏آخر اتنی بڑی ناانصافی اور غیرمساوات کیوں؟؟؟
ارباب اختیار اور علم کی روشنی رکھنے والوں، بروز قیامت اس ناانصافی کی پوچھ گچھ ضرور ھوگی۔

08/11/2024

💢⚘️پیشہ کو نسب کی حیثیت دینا غیراسلامی عمل ہے⚘️💢

پاکستان کے صوبه پختونخوا کے نہایت ہی خوبصورت ضلع سوات کے تحصیل کبل میں دوکٹ نامی پہاڑ موجود ہے۔ تحصیل کبل کا علاقہ، ضلع سوات کے ضلعی ہیڈکوارٹر سیدو شریف کے مغرب اور شمال میں واقع ہیں۔

👈⚘️⚘️⚘️پختون قوم کے قبیلہ یوسفزئی کے بہت سارے لوگ دوکٹ نامی پہاڑ کے چاروں اطراف میں آباد ہیں۔ یہ افراد قبیلہ یوسفزئی کے جدامجد یوسف خان کے پوتے خواجہ بابا کی اولاد ہیں۔ خواجہ بابا، یوسف خان کے بیٹے اکو بابا کا فرزند تھا۔ خواجہ بابا کے چھ (06) بیٹے تھے۔ پہلے بیٹے کا نام نیکپی اور اس کی نسل کو نیکپی خیل، دوسرے بیٹے کا نام شمو اور اس کی نسل کو شموزئی، تیسرے بیٹے کا نام ملی اور اسکی اولاد کو ملیزئی، چوتھے بیٹے کا نام علاءالدین اور اس کی اولاد کو ادینزئی، پانچویں بیٹے کا نام شامی اور اس کی اولاد کو شامیزئی اور چھٹے بیٹے کا نام سہ بجنے اور اس کی اولاد کو سہ بجنے کہا جاتا ہے۔

🌹🌹🌹نیکپی خیل، ملیزئی، ادینزئی اور شموزئی دوکٹ پہاڑ کے چاروں اطراف آباد ہیں۔ اب یہ بات روز روشن کی طرح واضح اور عیاں ہیں۔ کہ یہ سب ایک ہی دادا کی اولاد ہیں۔ سب پختون ہیں۔سب کا نسب یوسفزئی ہے۔ سب کی رگوں میں ایک ہی خواجہ بابا کا خون دوڑتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ، کسی نے ایک ذریعہ معاش اپنایا اور کسی نے دوسرا۔ اب جنہوں نے ان پیشوں میں سے ایک اپنایا۔ جو ہندو مذہب میں شودر ہندو کے فرائض میں سے تھے۔ پس یہ( یوسفزئی پختون) لوگ اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں ، پختون اور یوسفزئی شمار ہونے سے محروم کر دئیے گئے۔اور اب ان لوگوں کی اولاد کو نہ پختون اور نہ ہی یوسفزئی شمار کیا جاتا ہے۔بلکہ وہی پیشہ ہی، ان کی سماجی پہچان ہے۔ اور ان پیشوں کی وجہ سے، ایک ہی دادا کی اولاد میں اونچ نیچ اور شرافت اور رزالت کی تفاوت پیدا کی گئی ہیں۔ جو کہ ایک غیر اسلامی، غیر اخلاقی اور غیر مساوی عمل ہیں۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر01::: فیس بک پیج سرسینئ سوات۔
تاریخ اشاعت::: 16 مئی 2020۔
عنوان::: خواجہ زئی اولاد دہ دوکٹ غر پہ لمنو کی۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر02::: فیس بک پیج سرسینئی سوات۔
تاریخ اشاعت:::: 18 اکتوبر 2021۔
عنوان::: نیکپی خیل بابا۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر03::: کتاب::: یوسف زئی قوم کی سرگزشت۔
مصنف::: خان روشن خان۔

27/10/2024

💢💢🌷🌹⚘️پیشه نہ قوم ہے اور نہ قبیله⚘️🌹🌷💢💢

💢قوم::: کسی بھی ایک سرزمین پر سینکڑوں ہزاروں سال سے آباد لوگ اس مٹی اور سرزمین کی قوم کہلاتی ہے۔ مثلا سرزمین کشمیر کے جدی پشتی باشندے کشمیری قوم ، جبکہ سرزمین پنجاب کے جدی پشتی باشندے پنجابی قوم کہلاتی ہے۔

💢قبیله ::: کسی بھی علاقہ اور سرزمین کے وہ باشندے، جو نسبی اعتبار سے ایک ہی جدامجد کی اولاد ہو۔قبیلہ کہلاتا ہے۔ مثلا پختونوں کا ایک قبیله یوسفزئی ہے۔ اب کوئی بھی شخص کسی بھی جگہ آباد ہو۔اور اس کو تصدیق کیساتھ معلوم ہو۔ کہ وہ پختونوں کے قبیلے یوسفزئی کے جدامجد یوسف کی اولاد ہے۔ تو وہ بجا طور پر قبیلہ یوسفزئی کا ایک فرد ہے۔ اسی طرح عباسی، راجپوت اور جٹ بھی مختلف قبیلے ہیں۔ اور ہر ایک کا جدامجد الگ الگ ہے۔

👈پس یہ بات صاف ظاہر ھے۔ کہ کوئی بھی پیشہ نہ قوم ہوتی ہے۔ اور نہ قبیلہ۔ لیکن ہمارے پاکستانی معاشرہ میں، زمانہ قدیم سے بعض متکبر اور بدنیت لوگوں نے ہندوؤں کے دیکھا دیکھی شودر ہندو والے پیشوں کو اپنانے والے، مختلف قبیلوں کے مسلمان پاکستانی بھائیوں کیلئیے، وہ پیشہ سماجی قوم اور قبیلہ بنا ڈالے ہیں۔

👈پاکستانی معاشرہ میں پیشوں سے منسوب کچھ نسلیں تو ہندو سے مسلمان بننے والوں کی ہیں۔ لیکن ان کیساتھ ساتھ، پختون، بلوچی، سندھی اور پنجابی قبیلوں کے مختلف لوگوں نے ، جب یہی ہندو شودر والے پیشے اپنا لئیے۔ تو پھر ہم پاکستانی مسلمان بھائیوں نے خود اسلام سے دوری اور اپنی ذہنی پستی کی وجہ سے، ایسے پختونوں، بلوچوں، سندھیوں اور پنجابیوں کی، اپنے اپنے قبیلہ کے نام کی بجائے، اسی پیشہ سے پہچان بنا لی ہے۔

👈اس بارے میں فرحت قاضی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔ کہ جاگیردارانہ نظام میں سماج دو بڑے طبقوں میں منقسم تھا۔
ایک جاگیردار ( زمینوں والا) طبقہ اور دوسرا ( بے زمینوں والا) طبقہ۔ جاگیردار طبقہ کو تو سب کچھ اس کی جائیداد اور جاگیر نے بخشا تھا۔ لیکن دوسرے طبقہ کو بھی اپنی گزربسر اور دو وقت پیٹ بھرنے کیلئیے کوئی ایک سا پیشہ مثلا نائی، موچی، لوہار، بھنگی، کمہار، درزی، دھوبی، جولاہا اور سنار وغیرہ اختیار کرنا پڑا۔ پھر وقت گزرنے کیساتھ ساتھ باپ کے پیشہ کو بیٹے نے، پھر بیٹے کے پیشہ کو پوتے نے بھی اختیار کیا۔ اور یوں وہ پیشہ اس خاندان کا ذریعہ معاش بننے کیساتھ ساتھ ، ایک سماجی پہچان بھی بن گیا۔

🙏🙏🙏سوالیہ نشان؟؟؟ باپ کے پیشہ کو بیٹے نے، بیٹے کے پیشہ کو پوتے نے اور یوں نسل در نسل وہی پیشہ منتقل ہوتا رہا۔ لیکن اب حال یہ ہے۔ کہ تقریبا 100 سال سے زائد ہو چکے ہیں۔ کہ کسی بھی پیشہ کا نسل در نسل منتقلی کا سلسلہ، بڑی حد تک مفلوج اور ختم ہو چکا ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اپنی انا پرستی کی وجہ سے ، ان نسلوں کو اسی پیشہ سے پہچان کرواتے رہتے ہیں۔
حالانکہ یہ نسلیں، اسی پیشہ سے کوئی سروکار بھی نہیں رکھتے ہیں۔ اور مزید یہ کہ ان میں بہت ساروں کو معلوم بھی ہو چکا ہے۔کہ ان کے آباء واجداد پر ایک خاص پیشہ کا دھبا لگنے سے پہلے، وہ کس پختون، بلوچی، سندھی یا پنجابی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔

🤚🤚🤚🤚🤚ان شاءاللہ آگے پوسٹوں میں انہی رازوں کو، عوام الناس کے سامنے افشاں کرنے کی پوری پوری کوشش کرونگا۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر01::: ویب سائیٹ::: www.mbdin.com
عنوا::: پیشے اور ذاتیں۔ تحریر::: فرحت قاضی۔

🌷🌹⚘️بحوالہ نمبر02::: اس پوسٹ میں بہت ساری باتیں، ہمارے معاشرے کے ہر شخص کے روزمرہ کے مشاہدے میں شامل ہیں۔

26/10/2024

💢💢🌷🌹⚘️آبائی پیشه سے نسل کی پہچان⚘️🌹🌷💢

🌷🌹⚘️غیر اسلامی
🌷🌹⚘️غیر اخلاقی
🌷🌹⚘️غیر مساوی

طرزعمل ہیں۔

🌷🌹⚘️غیر اسلامی::: اسلام نے ہر نسل کی پہچان کیلئیے، قرآن میں قبائل کا لفظ بھیجا ہے۔ کہ ہر انسان، جن آباء واجداد کی نسل اور اولاد ہو۔ وہ اپنی نسبت نسب اپنے آباء واجداد کی طرف کرے۔ لیکن پاکستان میں ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی اسلام اور قرآن کے اس عظیم قانون کے پاسداری سے غافل ہیں۔ اور بہت ساری نسلوں کو ، ان کے آباء واجداد کے پیشه سے پہچان کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ وہ نسل اس پیشه سے لاتعلق ہی ہوتے ہیں۔

🌷🌹⚘️غیراخلاقی::: بہترین اخلاق کا یہ تقاضہ ہے۔ کہ ہم اپنے رویئے مثبت اور حقیقت پسندانہ بنائیں۔ لیکن پاکستانی معاشرے کا یہ رویہ منفی اور غیرحقیقی ہے۔ اب آپ خود غور کریں۔ مثلا ایک شخص کا پردادا پیشہ کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر تھا۔ اب اگر کوئی شخص اس کے پوتوں/پڑپوتوں کو ڈاکٹر بلائے۔ تو کیا یہ ایک غیراخلاقی بات نہیں ھوگی۔ کیونکہ جو شخص بذات خود ڈاکٹر نہیں تو ہم کیسے اسے ڈاکٹر بلا سکتے ہیں۔ لیکن بہت سارے پیشوں ( موچی، نائی، تھرکان، کمہار، لوہار) وغیرہ کیلئیے ہمارے معاشرے میں یہ غیراخلاقی فعل، اب بھی کی جارہی ہے۔

🌷🌹⚘️غیرمساوی::: مساوات ہمیں یکسانیت، برابری اور مماثلت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں۔ تو ہر آدمی کے آباء واجداد کسی نہ کسی پیشہ اور ذریعہ معاش سے منسلک ہوا کرتے تھے۔ مثلا زمیندار، حکیم، عطرفروش، آٹا پیسنے والا(جرندہ گر)، گاؤں کے مال مویشی کو چرانے والا (مویشی پرور یا گوہارچی) وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان پیشوں کے کرنے والوں کے آباء واجداد سے لیکر، موجودہ نسل تک بھی کوئی کرنے والا اگر ہے۔ تو پھر بھی ان پیشوں کے نام ، ایسے خاندانوں کے پہچانی نام نہیں۔ بلکہ ان کو نسبی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔پیشہ کے نام سے نہیں۔ مگر دوسری طرف موچی، لوہار، تھرکان،کمہار،تیلی وغیرہ وغیرہ کے پیشے، آباءواجداد کے بعد، اولاد اور نسل جانتے تک نہیں۔ لیکن پھر بھی ان لوگوں کو، ہم نسبی نام کی بجائے آباء واجداد کے پیشہ سے پہچان کرواتے ہیں۔

👈🌹⚘️بحوالہ::: اس کا حوالہ یہی ہے۔ کہ ہم میں سے ہر پاکستانی ( پختون، پنجابی، بلوچی اور سندھی)، یہ غیر اسلامی، غیراخلاقی اور غیرمساوی روئیے اپنے اردگرد سنتے اور دیکھتے رہتے ہیں۔

21/10/2024

🌷🌹حلال ذرائع معاش کو حقیر اور کمتر سمجھنا🌹🌷

🤝🤲👈اسلام میں ایمان لانے کے بعد، حلال کمائی اور حلال ذرائع معاش کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہیں۔حلال رزق کے حصول کیلئیے ہر مسلمان کوئی نہ کوئی پیشہ، ہنر، فن، روزگار اور تجارت اپناتا ہے۔ کیونکہ حلال کھانا اور حلال لباس، ہی قبولیت عبادت کی بنیاد اور ضامن ہوتے ہیں۔ اسلام ان تمام حلال ذرائع کو عزت وتکریم بخشتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ، کہ تمام انبیائے کرام، صحابہ کرام اور سلف صالحین نے، اپنی روزی روٹی کیلئیے کوئی نہ کوئی حلال پیشہ، ہنر،فن، روزگار اور تجارت اپنائے تھے۔اللہ تعالی ایک جگہ قرآن میں فرماتے ہیں۔ کہ " ہم نے دن کمائی کرنے کیلئیے بنایا"۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے۔ کہ "ہم نے زمین میں تم کو جگہ دی۔اور اس میں تمہارے لئیے روزیاں مقرر کر دیں"۔اور یوں ہر حلال ذریعہ معاش کو دنیا میں ایک عظیم مقام اور سرخروئی عطا ہوئی ہے۔

🤝🤲👈 پاکستانی معاشرہ میں، اسلام ، انبیائے کرام ، صحابہ کرام اور سلف صالحین کے زریں اصولوں اور مبارک طریقوں کے برعکس، بہت سارے حلال پیشوں، ہنر، فنون، روزگار اور تجارت، مثلا لوہار، موچی، تھرکان،کمہار،نائی، جولاہا، تیلی،مالیار،ننداف، قصاب وغیرہ کو حقیر، خسیس اور گھٹیا سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کی بنیاد پر لوگوں کی حقارت اور تذلیل ہوتی رہتی ہیں۔ حالانکہ صنعت، حرفت اور حلال پیشوں کو اختیار کرنا، تعلیمات خداوندی ہے۔ اسی طرح ایک مبارک حدیث میں بھی آتا ہے۔ کہ کسی بھی حلال پیشہ اور اس کے کرنے والوں کوحقیر نہیں سمجھنا چاھئیے۔ بلکہ یہ معاشرے میں عزت وتکریم کے قابل ہیں۔ لیکن افسوس سے یہ بات کہنا پڑتا ہے۔ کہ پاکستانی معاشرہ میں نہ صرف ان لوگوں کو حقیر اور کمتر سمجھا جاتا ہے، بلکہ یہی ذرائع معاش پورے پورے خاندانوں اور نسلوں کیلئیے، نسبی پہچان بھی بنائے گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے۔ کہ نسبی پہچان نسب سے ہوتی ہے۔ اور نسب آباء واجداد ہوتے ہیں، آباء واجداد کا پیشہ نہیں۔

🌷⚘️🌹مندرجہ بالا حالات کی اصلاح اور درستگی کیلئیے، پاکستانی معاشرے کے ہر شخص کو بالعموم اور علمائے کرام کو بالخصوص میدان میں اتر کر، اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاکہ ہمارے معاشرے سے یہ غیراسلامی، غیر اخلاقی اور غیرمساوی رویہ اور طرزعمل، اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق، مکمل ختم ہو جائے🤲۔

🌷⚘️🌹بحوالہ نمبر01::: ویب سائیٹ::: dunya.com.pk
روزنامہ دنیا E-Paper. عنوان::: آج کا کالم- زاویہ نظر
حریر ::: مفتی منیب الرحمن۔ تاریخ اشاعت::: 03/05/2019

🌹⚘️🌷بحوالہ نمبر02::: سورہ نبا آیت نمبر 11۔

🌹⚘️🌷بحوالہ نمبر 03::: سورہ اعراف::: آیت نمبر 10۔

🌹⚘️🌷بحوالہ نمبر04:ویب سائیٹ: darululoom-deoband.com عنوان: کسب حلال کی فضیلت

🌹⚘️🌷بحوالہ نمبر 05::: ویب سائیٹ:: shamilaurdu.com
مسند اسحاق بن راہویہ۔ فضائل کا بیان۔حدیث نمبر۔ 544

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نسب اور کسب کے اختلاط کی اصلاح کی تحریک posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category