27/11/2024
🌷🌹قرآنی لفظ 👈کسب👉 کی پختون سماج میں تحقیر🌹
کسب، قرآنی لفظ ہے۔ اور سورہ بقرہ آیت نمبر81، سورہ طور آیت نمبر21 اور سورہ مسد آیت نمبر 02 میں واضح طور پر موجود ہے۔ کسب کے معنی کمائی اور کمانا کے ہیں۔ قرآن پاک میں یہ لفظ ذیادہ تر مقامات میں، کسب حسنات ( نیکیاں کمانا) اور کسب سئیات ( برائیاں کمانا) کے ضمن میں آیا ہے۔ لیکن کچھ مقامات قرآنی اور بکثرث احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں، کسب معاش ( رزق کمانا) کیلئیے وارد ہوا ہے۔[01]۔
👈پختون کا کسب کے لفظ کو حقیر سمجھنے کی نفسیاتی سوچ:
کسب معاش(رزق کمانا) ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن پختون صرف دوسروں کو کسب، کسبی، کاسب اور کسبگر کی نسبت کرتا ہے۔ اور خود کو اس زمرے سے بری سمجھتا ہے۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا۔ کہ وہ اپنے پیٹ کیلئیے جو سعی کرتا ہے۔ وہ نہ کمائی ہے۔ نہ کسب ہے۔ اور نہ ہی کسبگری ہے۔ بلکہ وہ کوئی دوسری چیز ہے۔
پختون کے نفسیات کے مطابق، اس کیلئیے کسی بھی قسم کا ہنر اور فن سیکھنا اور اسے اپنا کسب معاش بنانا، حقیری اور کمتری ہے۔ اور یہ اس کے شان کے خلاف ہیں۔ اور جس ہنر اور فن کو وہ کسب گردانتا ہے۔ اس کے سیکھنے اور اسے اپنا ذریعہ معاش بنانے سے، وہ پھر پختون کے درجہ سے گر کر، کسب گر(کمائی کرنیوالا) بن جائیگا۔
اب پہلی توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ قدیم ذرائع معاش میں زمینداری، دوکانداری، حکمت، طبابت، مال مویشی چرانا، جرندہ چلانا وغیرہ بھی کسب معاش ( رزرق کمانا) ہی ہے۔ اور جدید ذرائع معاش بھی۔ لیکن پختون ان ذرائع معاش کو اپنانے سے، خود کو نہ غیر پختون اور نہ کسبگر گردانتا ہے۔ اور دوسرے قدیم ذرائع معاش جیسے لوہار، ترکھان، موچی، نائی، جولاہا، کمہار، تیلی، مالیار وغیرہ بھی کسب معاش ( رزق کمانا) ہی ہے۔ لیکن پختون ان ذرائع معاش کے اپنانے والوں کو غیر پختون اور کسبگر گردانتا ہے۔ مطلب خود کسب کرتا ہے۔ لیکن کسبگر نہیں، مگر جب دوسرا کسب کرتا ہے۔ تو وہ کسبگر ہے۔ پس صاف ظاہر ہے۔کہ دوہری پالیسی، دوہری معیار اور دوہری نفسیات ہیں۔
اور دوسری توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ، جیسے اللہ کے خاص اور برگذیدہ ہستیوں نے لوہار، ترکھان، قصاب، نائی وغیرہ کے کسب معاش اپنا کر، حلال روزی کما کر، اللہ کے دربار میں اعلی منصب و مقام حاصل کیئے۔ تو دوسری طرف پختون کی سوچ یہ ہے۔ کہ لوہار، ترکھان، قصاب، نائی وغیرہ کے کسب معاش اپنانے سے، اس کی عزت اور وقعت ختم ہو جائیگی۔ [02]۔
🤲قرآن میں پاک و حلال کسب معاش(رزق کمانا) کا بیان:
قرآن پاک_پارہ نمبر03_سورہ بقرہ_آیت نمبر 267۔
(((یاایھاالذین امنو انفقو من طیبت ما کسبتم)))
ترجمه: اے ایمان والوں! تم پاکیزہ چیزیں خرچ کرو۔ جو تم نے کمائی ( کسب) کی ہے۔[03]۔
🤲احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کسب معاش (رزق کمانا) کا بیان:
🌷حدیث شریف: (سنن کبری بیہقی حدیث نمبر16695)۔(شعب الایمان، 175/11_حدیث نمبر 8367)۔(مشکات المصابیح_ حدیث نمبر2832)۔(احمد بن حنبل شیبانی_متوفی_241 ہجری_ مسند احمد بن حنبل_ بیروت_عالم الکتب_1419 ہجری_ رقم:24272، جلد نمبر 07_صفحہ نمبر_875)۔
🤲(((عن عبداللہ بن مسعود، قال: قال رسول اللہ-طلب کسب الحلال فریضة بعدالفریضة)))۔
ترجمه: حلال کمائی کی طلب کرنا فرض ہے، فرض کے بعد۔
تشریح: کسب حلال کو طلب کرنا، دین اسلام کے اولین فرائض ( کلمہ طیبہ، نماز، روزہ، زکواة اور حج) کے بعد، دوسرے درجے کا فرض ہے۔[04]۔
🌷حدیث شریف: فتح الباری 04/296-عمدہ القاری11/173۔ ((( من المکاسب الحلال)))۔
ترجمه: حلال کمائی کا ذریعہ ہے۔[05]۔
🌷حدیث شریف: مسنداحمدط الرسالة (502/28)۔
((( عن جدہ رافع بن خدیج: قال: قیل یا رسول اللہ، ایی الکسب اطیب؟ قال عمل الرجل بیدہ وکل بیع مبرور)))۔
ترجمه: حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا۔ کہ کون سی کمائی ( کسب) پاک اور حلال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ انسان کے ہاتھ کی مزدوری اور ہر سچی بیع۔[06].
🌷حدیث شریف::محمد بن عیسی ترمذی ( متوفی، 279ہجری)، سنن ترمذی ( بیروت دارالغرب اسلامی۔1998)، رقم 2416، جلد نمبر 04- صفحہ نمبر 612)۔عن عبداللہ ابن مسعود۔ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم( کچھ حصہ) ((( عن عمرہ فیم افناہ، وعن شبابه فیم ابلاہ، وماله من این اکتسبه وفیھم انفقه وما ذا عمل فیما علم)))
ترجمه::: حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ( حدیث کا کچھ حصہ لیا گیا ہے)۔ عمر کن کاموں میں صرف کی۔ جوانی کس طرح گزاری۔اور مال کیسے کمایا( کسب کیا)۔اور کس طرح خرچ کیا۔ اور اپنے علم پر کس طرح عمل کیا۔[07]۔
🌷حدیث شریف: سنن ترمذی_حدیث نمبر1358۔
سنن نسائی_کتاب البیوع_خرید و فروخت۔ باب: الحث علی الکسب_ کسب معاش_ روزی کمانے کی ترغیب_ حدیث نمبر 4454۔(((ان اطیب ما اکلتم من کسبکم))) ترجمہ: سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے۔جو اپنی کمائی (کسب) سے کھاؤ. اور ((( عن عائشہ : قالت: قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اطیب ما اکل الرجل من کسبه))) ترجمہ::: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے۔ جو آدمی اپنی کمائی (کسب) سے کھائے۔[08]۔
بحوالہ نمبر01::: ویب سائیٹ: albirr.net
عنوان::: قرآنی لفظ کسب کی صرفی تحلیل۔
تحریر::: حافظ تقی رضا_اشاعت: 23 اپریل 2023۔
بحوالہ نمبر02::: ویب سائیٹ: reddit.com
عنوان::: Tajiks are more closer to Punjabi, than Pashtuns.
ویب سائیٹ: www.researchgate.net
عنوان::: Dynamics of Pakhtun Social Structure
تحقیق::: Naila Aman Qazi,
Raza Qazi and Imran Khan, University Of Peshawar.
بحوالہ نمبر03::: ویب سائیٹ: harf-o-sukhan.com
عنوان::: کسب حلال کی افادیت اور عصری معنویت، قرآن وحدیث کے تناظر میں۔
تحریر و اشاعت::: M.Aasim Sharif, Ph.D Research Scholar Islamic Studies, Muslim Youth University Islamabad.
harf-o-sukhan.com::بحوالہ نمبر 04:ویب سائی🌷
عنوان::: کسب حلال کی افادیت اور عصری معنویت، قرآن وحدیث کے تناظر میں۔
تحریر و اشاعت::: M.Aasim Sharif, Ph.D Research Scholar Islamic Studies, Muslim Youth University Islamabad.
🌷بحوالہ نمبر05::
ویب سائیٹ::: www.darululoom-deoband.com
عنوان::: اسلامی تجارت کے بنیادی اصول
تحریر: مفتی توقیر عالم قاسمی۔ اشاعت: 19اکتوبر 2022۔
دارالعلوم شمارہ_جلد 104_فروری،مارچ 2020۔
🌷بحوالہ نمبر 06::ویب سائیٹ: www.banuri.edu.pk
فتوی نمبر: 144001200755
دارالافتاء::: جامعہ علوم اسلامیہ، علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی۔
harf-o-sukhan.com 🌷 بحوالہ نمبر07 :ویب سائیٹ: عنوان::: کسب حلال کی افادیت اور عصری معنویت، قرآن وحدیث کے تناظر میں
تحریر و اشاعت::: M.Aasim Sharif, Ph.D Research Scholar Islamic Studies, Muslim Youth University Islamabad
🌷بحوالہ نمبر08: ویب سائیٹ: islamicurdubooks.com