28/01/2023
معرکہ آرا اور معرکة الآراء میں سے کون سی ترکیب درست ہے، اس پر اہل علم مختلف الرائے ہیں۔ ثقہ اہل علم کے ہاں دونوں ترکیبات کا استعمال ملتا ہے۔ معنوی اعتبار سے دیکھا جائے تو دونوں کی مناسبت بنتی ہے، البتہ محل استعمال کچھ مختلف ہے۔
معرکہ عربی میں میدان جنگ کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ فارسی میں بھی مستعمل ہے۔ اس سے معرکہ آرا کی ترکیب بنی ہے جس کا مطلب ہے، میدان جنگ کو سجانے والا یا گرم کرنے والا، جیسے بزم آرا اور جہاں آرا کی ترکیبات ہیں۔ آرا، آرائش سے فاعل کے معنی میں ہے۔ اسی سے معرکہ آرائی بن جاتا ہے، یعنی میدان میں اترنا اور برسرپیکار ہونا۔
معرکة الآراء عربی ترکیب ہے، لیکن اس میں آراء، رائے کی جمع ہے۔ مطلب ہے، آرا اور نظریات کا میدان جنگ۔ ایسے مسئلے کو معرکة الآراء کہا جاتا ہے جس میں بہت زیادہ اختلاف ہو اور کبار اہل علم باہم مدمقابل ہوں۔
یوں دونوں ترکیبات معنوی طور پر درست ہیں، لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا، محل استعمال الگ الگ ہے۔ اگر ہم جنگ یا بحث کے فریقوں کا ذکر کر رہے ہوں تو یہاں معرکہ آرا کا ہی استعمال درست ہوگا۔ یوں نہیں کہہ سکتے کہ فلاں اور فلاں معرکة الآراء ہوئے۔ لیکن اگر کسی مسئلے یا بحث کا ذکر کر رہے ہوں تو معرکہ آرا مسئلہ یا معرکة الآراء بحث، دونوں بامعنی ہوں گے، اگرچہ مسئلے کو معرکہ آرا کہنا مجاز کا اسلوب ہے کیونکہ دراصل لڑائی کے فریق معرکہ آرا ہوتے ہیں۔
(بشکریہ عمار خان یاسر)