کھری ڳالھ

کھری ڳالھ کھری گالھ – سچائی کی آواز۔ صحت، تعلیم اور تعمیری سوچ کے فروغ کا ایک عوامی پلیٹ فارم۔
ڈاکٹر محمد عثمان خان
(284)

لیں جی، ہنڈائی کے 20 لاکھ کے ابتدائی Estimate سے پہلے کی کہانی بھی سن لیجیے۔میں نے اپنی Hyundai Santa Fe سروس کروائی اور...
03/09/2026

لیں جی، ہنڈائی کے 20 لاکھ کے ابتدائی Estimate سے پہلے کی کہانی بھی سن لیجیے۔

میں نے اپنی Hyundai Santa Fe سروس کروائی اور گاڑی اپنے انسٹی ٹیوٹ کے دفتر کے سامنے کھڑی کردی۔ دھوپ اچھی نکلی ہوئی تھی، گاڑی صاف ستھری اور چمک رہی تھی۔ اچانک میری نظر ہیڈلائٹ پر پڑی تو حیران رہ گیا—لائٹ کے اندر پانی اور نمی موجود تھی۔

گاڑی وارنٹی میں تھی۔ میں نے سوچا، مسئلہ ہے تو کمپنی دیکھ لے گی۔ فوراً Hyundai I-9 Islamabad لے گیا۔

وہاں Warranty Service Advisor سے بات ہوئی۔ پہلے ان کا خیال تھا کہ شاید ہیڈلائٹ کے اندر نمی جذب کرنے والا حصہ خراب یا خشک ہوچکا ہے۔ پھر بمپر اتارا گیا تو اندر ہیڈلائٹ کے حصے میں کریک نظر آگئے۔

میں نے پوچھا:

“یہ کریک کیسے ہوئے؟”

جواب ملا:

“شاید چوٹ لگی ہوگی۔”

میں نے کہا:

“چوٹ لگی ہے تو نشان دکھا دیں۔”

مزے کی بات یہ تھی کہ کریک بمپر کے پیچھے تھے، مگر سامنے والے بمپر پر نہ کوئی واضح dent، نہ ایسی خراش اور نہ کوئی ضرب کا نشان جسے دیکھ کر آدمی کہہ سکے کہ ہاں، یہاں اتنی چوٹ لگی تھی کہ اندر ہیڈلائٹ کریک ہوگئی۔

میں نے دوبارہ کہا:

“اگر چوٹ لگی ہے تو مجھے نشان دکھا دیں، ورنہ گاڑی وارنٹی میں ہے، لائٹ تبدیل کریں۔”

جواب پھر وہی:

“چوٹ لگی ہوگی، ضروری نہیں بمپر پر نشان آیا ہو۔”

اور ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا کہ نئی ہیڈلائٹ اپنے پیسوں سے لگوانی ہوگی۔

میں نے قیمت پوچھی۔

جواب ملا:

کم از کم ساڑھے تین لاکھ روپے۔

یعنی باہر چوٹ کا کوئی واضح نشان نہیں، اندر لائٹ کریک ہے، پانی بھی داخل ہوچکا ہے، لیکن نتیجہ یہ کہ وارنٹی نہیں ملے گی اور بل صارف ادا کرے۔

میں انجینئر نہیں ہوں، اس لیے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے خرابی کی حتمی وجہ دریافت کرلی ہے۔ لیکن ایک صارف کی حیثیت سے میرا سوال بالکل سادہ ہے:

اگر واقعی چوٹ لگی تھی تو اس کا نشان کہاں ہے؟

اور اگر باہر کوئی واضح impact موجود نہیں تو پھر کیا یہ دیکھنا کمپنی کی ذمہ داری نہیں تھی کہ پانی اندر کیسے آیا، sealing درست تھی یا نہیں، material quality کیسی تھی اور اندر کریک آنے کی اصل وجہ کیا تھی؟

میرا خدشہ آج بھی یہی ہے کہ پہلے نمی یا پانی اندر داخل ہوا، پھر دھوپ اور درجۂ حرارت کی تبدیلی سے اندر stress پیدا ہوا اور پلاسٹک کا حصہ کریک ہوگیا۔ یہ میرا اندازہ ہے—حتمی وجہ کمپنی کو technical investigation سے بتانی چاہیے تھی۔

لیکن ایسا کوئی واضح تحریری diagnosis مجھے نہیں دیا گیا۔

یہ ہنڈائی کی طرف سے مجھے پہلا بڑا جھٹکا تھا۔

گاڑی آج بھی انہی کے پاس موجود ہے، اور میں آج بھی وہی بات کہتا ہوں:

اگر چوٹ لگی تھی تو نشان دکھا دیں۔

میرے پاس اس وقت کی تصاویر بھی محفوظ ہیں۔

پھر کچھ عرصے بعد آیا دوسرا جھٹکا—اور اس بار معاملہ ساڑھے تین لاکھ کا نہیں بلکہ ابتدائی طور پر 20 لاکھ روپے کا تھا۔

بارش کے دوران تقریباً ڈیڑھ فٹ پانی گاڑی سے گزرا ۔ بند گاڑی کے اندر پانی پہنچا، Hybrid Battery متاثر ہوئی اور Hyundai Islamabad نے 20,00,010 روپے کا ابتدائی Estimate دے دیا، جس میں battery system تقریباً 17 لاکھ روپے کا بتایا گیا۔

اور اب وارنٹی بھی قبول نہیں کی جا رہی۔

یہاں بھی میرا سوال بہت سادہ ہے:

پانی بند گاڑی کے اندر آیا کیسے؟

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پانی سے متاثر ہونے والی ہر گاڑی لازماً warranty میں آنی چاہیے۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر ایک کمپنی warranty claim مسترد کر رہی ہے تو پہلے خرابی کی مکمل وجہ، پانی داخل ہونے کا راستہ اور technical diagnosis تحریری طور پر سامنے آنا چاہیے۔

صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:

“پانی آیا، نقصان ہوگیا، warranty نہیں ہے۔”

صارف نے گاڑی خریدتے وقت صرف گاڑی کے لوہے اور پلاسٹک کی قیمت نہیں دی ہوتی۔ وہ برانڈ، معیار، warranty اور after-sales service پر بھی پیسہ اور اعتماد لگاتا ہے۔

میرے ساتھ اب تک معاملہ یوں رہا:

پہلے ہیڈلائٹ کا مسئلہ — کم از کم ساڑھے تین لاکھ روپے۔
پھر Hybrid Battery — تقریباً سترہ لاکھ روپے۔
اور موجودہ ابتدائی Estimate — 20 لاکھ روپے۔

سوال رقم سے بھی بڑا ہے:

کیا صارف کو یہ حق نہیں کہ warranty مسترد کرنے سے پہلے اسے واضح، تحریری اور قابلِ جانچ technical وجہ دی جائے؟

میری یہ آواز صرف اپنی گاڑی کے لیے نہیں۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو کسی بڑی کمپنی کے نام اور warranty پر اعتماد کرکے اپنی محنت کی کمائی خرچ کرتا ہے۔

صارف کے حقوق اور عوامی آگاہی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اگلی خبر اہم ہے—میرے ساتھ رہیے۔

ڈاکٹر محمد عثمان خان
اسلام آباد

01/09/2026

ٹائر سے بھی کم پانی، 20 لاکھ کا ابتدائی Estimate — ہنڈائی کی وارنٹی کہاں گئی؟

01/09/2026

یہ صرف ایک گاڑی کی کہانی نہیں، warranty اور after-sales service کا سوال ہے۔ مکمل documented Vlog آج شام

چالیس برس کی محنت کے بعد ایک دن میں نے اپنے ایک مہربان دوست، جو سرکاری ہیلتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں، سے کہا:“ک...
30/08/2026

چالیس برس کی محنت کے بعد ایک دن میں نے اپنے ایک مہربان دوست، جو سرکاری ہیلتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں، سے کہا:

“کچھ رقم جمع ہوگئی ہے۔۔سوچ رہا ہوں انسٹی ٹیوٹ کے لیے کوئی زمین لے لوں۔”

وہ مسکرائے، کچھ لمحے مجھے دیکھتے رہے، پھر بولے:

“ڈاکٹر عثمان، ساری زندگی اداروں کے لیے ہی سوچتے رہے ہیں۔ اب اپنے اور اپنی فیملی کے لیے بھی کچھ کیجیے۔ ایک اچھی گاڑی لے لیجیے۔”

بات سیدھی دل میں اتر گئی۔

میں نے تقریباً ہر بڑا برانڈ دیکھا۔ گاڑیاں compare کیں، specifications پڑھیں، hybrid technology دیکھی، fuel saving دیکھی… اور آخرکار دل Hyundai Santa Fe Hybrid پر آکر رک گیا۔

گاڑی واقعی خوبصورت تھی۔
Comfort ایسا کہ لمبا سفر تھکاوٹ نہ لگے۔
Features اتنے کہ آدمی ہر دوسرے دن کوئی نیا button دریافت کرتا رہے۔
مجھے Hybrid technology نے الگ متاثر کیا۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ Hyundai نے مجھے اپنا brand ambassador کبھی نہیں بنایا
میں خود ہی مفت کا ambassador بن گیا۔

لوگوں کو بتاتا کہ مستقبل hybrid اور electric گاڑیوں کا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کم ہوگا۔ نئی technology یہی ہے۔ دوست گاڑی کے بارے میں پوچھتے تو بڑے شوق سے تعریف کرتا۔

میں نے Maintenance بھی باہر سے نہیں کبھی کروائی۔ باقاعدگی سے کمپنی باہر کی بسبت دگنی یا چارگنا زائد قیمت سے service کراتا رہا۔ سوچ یہی تھی کہ اچھی چیز لی ہے، خیال بھی ویسا ہی رکھا جائے۔

پھر ایک دن گاڑی نے پہلا سوال پوچھ لیا۔

گاڑی کی Headlight کے اندر پانی کے قطرے نظر آئے۔

حیرت ہوئی۔ باہر کوئی خاص impact نہیں، accident نہیں، مگر اندر moisture اور crack۔ Hyundai گئی تو وہاں بھی حساب کتاب شروع ہوگیا۔ بات تقریباً ساڑھے تین لاکھ تک جا پہنچی۔

دل میں خیال آیا، چلو۔۔ایک مسئلہ ہے، حل ہو جائے گا۔

مگر شاید وہ صرف trailer تھا۔

اصل فلم ابھی باقی تھی۔

بارش ہوئی۔ گلی میں کچھ وقت کے لیے پانی آیا۔ گاڑی بند تھی، دروازے بند، شیشے بند۔ میں نے بھی یہی سمجھا کہ گاڑی ہے، گھر کا drawing room نہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہو گا

جب پانی اترا اور دروازہ کھولا تو کہانی بدل چکی تھی۔

Carpet پانی سے بھرا ہوا۔
Seats کے نیچے پانی کھڑا۔
Buttons خاموش۔
Smart key بے اثر۔
Battery dead۔
Electronic parking brake locked۔

گاڑی جو کچھ دیر پہلے technology کا نمونہ تھی، اچانک ایک خاموش سفید ڈھانچہ بن گئی۔

گون کرکے Recovery بلائی گئی۔ مشکل سےکسی طرح گاڑی Hyundai Islamabad I-9 پہنچائی گئی۔

اگلے مرحلے پر مجھے ایک کاغذ پکڑایا گیا۔

میں نے نیچے نظر دوڑائی۔

Rs. 2,000,010

ایک لمحے کو لگا شاید میں نے صفر زیادہ پڑھ لیے ہیں۔

پھر بتایا گیا:

“یہ ابتدائی Estimate ہے… گاڑی مزید کھلے گی، اگر اور چیزیں متاثر نکلیں تو ان کا خرچ الگ ہوگا۔”
پھر پوچھا آپ چائے پئیں گے؟ میں نے کہا نہیں آج چائے نہیں پینی

پھر میں خاموش رہ گیا۔

یعنی بیس لاکھ بھی اختتام نہیں ۔۔۔ آغاز ہے۔

اب شاید معاملہ صرف ایک repair bill کا نہیں رہا۔ شاید مجھے اس گاڑی سے ہی ہاتھ دھونا پڑیں۔ مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے:

بند گاڑی کے اندر پانی آیا کیسے؟

اگر rubber seals، weatherstrips، door alignment یا body sealing درست تھے تو کمپنی technical test سے ثابت کردے۔ اور اگر وہی کمزور تھے تو پھر ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا پورا بوجھ صارف کے سر کیوں؟

گاڑی warranty period میں۔
Hybrid Battery بھی اپنی warranty period میں۔
پھر warranty آخر کس دن کام آنی ہے؟

میں Hyundai سے رعایت نہیں مانگ رہا۔
نہ sympathy، نہ charity۔

میں صرف وہی مانگ رہا ہوں جس کے اعتماد پر یہ گاڑی خریدی تھی: warranty اور fair technical assessment۔

اور اب اصل امتحان Hyundai کا ہے۔

وہ چاہے تو اس ایک case کو مسئلہ سمجھ کر حل کرے اور ایک ناراض صارف کو دوبارہ اپنا ambassador بنا لے۔

یا پھر خاموشی اختیار کرے۔

اگر ایسا ہوا تو پھر عوام کو یہ بتانا ضروری ہوگا کہ اس آسائش، ان features اور اس technology کی چمک سے متاثر ہونے سے پہلے after-sales، warranty اور repair costs کا اگلا امتحان بھی دیکھ لیجیے۔

کیونکہ گاڑی خریدتے وقت brochure بہت خوبصورت ہوتا ہے…

اصل کہانی اس دن شروع ہوتی ہے جب گاڑی خراب ہوتی ہے۔

اور ابھی میری کہانی ختم نہیں ہوئی۔
اصل فیصلہ ابھی باقی ہے۔ اور ہمارا موضوع بھی ہر روز یہی رہے گا

یہ ہے ہمارا پیارا پاکستان ۔۔۔  جہاں چھوٹا آدمی کرے تو “لوٹ مار”، بڑی کمپنی کرے تو “Estimate” کہلاتا ہے! چھوٹا افسر ناجائ...
29/08/2026

یہ ہے ہمارا پیارا پاکستان ۔۔۔ جہاں چھوٹا آدمی کرے تو “لوٹ مار”، بڑی کمپنی کرے تو “Estimate” کہلاتا ہے!

چھوٹا افسر ناجائز رقم مانگے تو کرپشن، اور بڑی کمپنی لاکھوں کا بل تھما دے تو بڑے احترام سے اسے Repair Estimate کہا جاتا ہے۔
نام الگ الگ… صارف کی جیب ایک ہی!

میری Hyundai Santa Fe ابھی وارنٹی میں ہے، Hybrid Battery بھی اپنی warranty period میں ہے۔ بارش کا پانی بند دروازوں کے باوجود اندر داخل ہوا، کارپٹ اور سیٹوں کے نیچے پانی بھر گیا، الیکٹرانکس نے جواب دیا اور گاڑی ریکوری پر Hyundai Islamabad پہنچ گئی۔

وہاں تشخیص کے بعد پہلا خوبصورت تحفہ ملا:

Rs. 2,000,010 بیس لاکھ دس روپے Estimate!ابتدائی

اور ساتھ یہ خوشخبری بھی کہ ابھی مزید چیکنگ جاری ہے؛ کوئی اور چیز متاثر نکلی تو اس کا خرچ الگ ہوگا۔

میں سوچ رہا ہوں، اگر تحقیق اسی رفتار سے چلتی رہی تو اگلی ملاقات میں کہیں یہ نہ کہہ دیں:

“ڈاکٹر صاحب! حساب کچھ زیادہ ہوگیا ہے۔۔گاڑی یہیں چھوڑ جائیں، سرکاری ٹیکس ادا کریں اور آپ گھر جائیں — اللہ اللہ، خیر صلا!”

مگر طنز اپنی جگہ، اصل سوال بہت سنجیدہ ہے:

بند دروازوں والی گاڑی میں پانی داخل کیسے ہوا؟
اگر sealing ناکام ہوئی تو اس کی ذمہ داری صارف پر کیوں؟
اور اگر گاڑی اور Hybrid Battery warranty میں ہیں تو warranty آخر کس دن صارف کے کام آنی ہے؟

یہی ہمارے Consumer Protection system کا بھی امتحان ہے۔ متعلقہ ادارے اپنا کردار کب اور کیسے ادا کرتے ہیں، وہ الگ بات ہے؛ مگر آج ایک دوسرا فورم بھی موجود ہے:

عوامی احتساب۔

صارف ثبوت سامنے رکھ سکتا ہے، کمپنی اپنا مؤقف دے سکتی ہے، اور عوام خود فیصلہ کرسکتی ہے کہ معاملہ کتنا منصفانہ ہے۔

میری Hyundai Head Office سے فون پر بات ہوچکی ہے۔ اب دیکھتے ہیں Hyundai اپنے صارف کی شکایت کی root cause اور warranty کے مطابق حل نکالتی ہے یا 20 لاکھ کے ابتدائی estimate کا بوجھ صارف پر ڈالتی ہے۔

اور ہاں یہ وہ نشہ نہیں جسے تھوڑی سی ترشی اتار دے۔

ہم جواب کا انتظار کریں گے، مگر معاملہ خاموشی میں دفن نہیں ہوگا،اسے منطقی انجام تک لے جایا جائے گا۔

چلو اٹھو زمین کھودیںاور اس میں اپنے دل بو دیںکریں آباد پھر اس کومحبت کے پسینے سےکہ اس بے کار جینے سےنا تم خوش ہونا میں خ...
29/08/2026

چلو اٹھو زمین کھودیں
اور اس میں اپنے دل بو دیں
کریں آباد پھر اس کو
محبت کے پسینے سے
کہ اس بے کار جینے سے
نا تم خوش ہو
نا میں خوش ہوں

28/08/2026

فوادی۔۔حبیبی😍
ویژن 2030 بغیر کفیل کے سعودیہ میں اپنی کمپنی اور اپنا کاروبار

سعودی عرب میں آج کئی علاقوں میں موسم بدلا ہوا ہے کہیں بارش، کہیں تیز ہوائیں اور کہیں موسم بالکل صاف۔آپ سعودی عرب کے کس ش...
28/08/2026

سعودی عرب میں آج کئی علاقوں میں موسم بدلا ہوا ہے

کہیں بارش، کہیں تیز ہوائیں اور کہیں موسم بالکل صاف۔

آپ سعودی عرب کے کس شہر یا علاقے میں ہیں؟
اپنے علاقے کے موسم کی تازہ صورتحال کمنٹ میں بتائیں۔

سعودی عرب میں کمپنی بنانے کا سوچ رہے ہیں؟پہلے یہ اہم فرق ضرور سمجھیں!بہت سے لوگ ہر کاروبار کو صرف “کمپنی” سمجھتے ہیں، لی...
27/08/2026

سعودی عرب میں کمپنی بنانے کا سوچ رہے ہیں؟
پہلے یہ اہم فرق ضرور سمجھیں!

بہت سے لوگ ہر کاروبار کو صرف “کمپنی” سمجھتے ہیں، لیکن سعودی عرب میں کمپنی کی نوعیت کے مطابق قوانین، شرائط اور تقاضے مختلف ہو سکتے ہیں۔

1️⃣ Services Company — سروسز کمپنی

اگر آپ کا کاروبار درج ذیل شعبوں سے متعلق ہے:

• IT Services
• Consultancy
• Maintenance
• Technical Services
• Hospitality Support
• دیگر خدمات

تو یہ عموماً سروسز ایکٹیویٹی میں شمار ہوتا ہے۔

2️⃣ Commercial / Trading Company — تجارتی کمپنی

اگر آپ کا مقصد ہے:

• سامان خریدنا اور بیچنا
• Wholesale یا Retail
• Distribution
• Grocery Business
• باقاعدہ تجارت

تو یہ Commercial یا Trading Activity کے زمرے میں آتا ہے۔

دونوں کو ایک جیسا نہ سمجھیں!

خاص طور پر 100% Foreign-Owned Trading Business کے لیے شرائط، منظوریوں اور تقاضوں کا دائرہ سروسز کمپنی کے مقابلے میں زیادہ مختلف اور سخت ہو سکتا ہے۔

اصل سوال کیا ہے؟

سعودی عرب میں کمپنی بنانے سے پہلے صرف یہ نہ پوچھیں:

❌ “کمپنی کتنے میں بنے گی؟”

بلکہ پہلے یہ طے کریں:

✅ “میری کمپنی کس نوعیت کی ہوگی اور میں آگے کون سا کاروبار کرنا چاہتا ہوں؟”

صحیح کاروباری سرگرمی کا انتخاب آپ کے وقت، لاگت اور قانونی عمل—تینوں پر اثر ڈالتا ہے۔

📌 مزید آسان معلومات کے لیے ہماری آنے والی پوسٹس ضرور دیکھیں۔

کفیل کے بغیر اپنی کمپنی ۔۔۔ نیا دوربرسوں سے سعودی عرب میں کفیل سسٹم کے تحت لوگ کام کرتے رہے ہیں ، یعنی اپنا کوئی الگ وجو...
27/08/2026

کفیل کے بغیر اپنی کمپنی ۔۔۔ نیا دور

برسوں سے سعودی عرب میں کفیل سسٹم کے تحت لوگ کام کرتے رہے ہیں ، یعنی اپنا کوئی الگ وجود نہیں، ہر کام کسی کفیل کے ذریعے، اسی کی مرضی کے تابع۔

اب یہ صورتحال بدل چکی ہے۔ اب آپ کفیل کے بغیر اپنی کمپنی بنا سکتے ہیں، اپنے نام پر کاروبار کر سکتے ہیں، اور اپنی فیملی کو بھی ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے، اور بہت سے لوگوں کو اس کا صحیح ادراک ابھی تک نہیں۔

میری رائے میں پہلا قدم یہی ہونا چاہیے: پہلے اپنی کمپنی منظور کروائیں، قانونی اسٹیٹس بنائیں، اقامہ مکمل کریں۔ کاروبار کا انتخاب بعد میں، سکون سے، مارکیٹ سمجھ کر کریں۔

جب بندہ قانونی طور پر خود مختار ہو جاتا ہے ، کسی کفیل کے دباؤ کے بغیر تو وہ اپنی دلچسپی اور منافع کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، نہ کہ کسی اور کی مرضی سے۔

کمپنی بناتے وقت ہی ان شعبوں کو شامل کیا جا سکتا ہے جن میں عموماً دلچسپی زیادہ رہتی ہے مثلاً ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، تعمیرات، ریسٹورنٹ ،مطبخ اور کیٹرنگ، ٹریڈنگ و امپورٹ ایکسپورٹ، مین پاور و ریکروٹمنٹ سروسز، کلیننگ اینڈ میٹیننس، زراعت و کیٹل فارمنگ، ای کامرس، موبائل و الیکٹرانکس اور ٹیکسٹائل و گارمنٹس۔

سب ایک ساتھ شروع کرنا ضروری نہیں۔ وقت کے ساتھ جو بھی کام کرنا چاہیں آپ کے پاس کمپنی میں پہلے سے ہی وہ شعبہ درج ہوگا بس کمپنی بناتے وقت اس کے کاغذات میں یہ شعبہ جات لکھوا لیئے جائیں ۔اور بعد میں جس شعبے کا انتخاب کریں، اسی وقت اس کی لائسنسنگ مکمل کریں۔

اگر آپ کو یہ موقع مل جائے کہ کفیل کے بغیر اپنی کمپنی بنائیں اور فیملی ساتھ رکھیں، تو آپ سعودی عرب میں سب سے پہلے کون سا کاروبار شروع کرنا چاہیں گے؟

Address

Greens Avenue, Park Road
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when کھری ڳالھ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to کھری ڳالھ:

Shortcuts

Share

Category