03/09/2026
لیں جی، ہنڈائی کے 20 لاکھ کے ابتدائی Estimate سے پہلے کی کہانی بھی سن لیجیے۔
میں نے اپنی Hyundai Santa Fe سروس کروائی اور گاڑی اپنے انسٹی ٹیوٹ کے دفتر کے سامنے کھڑی کردی۔ دھوپ اچھی نکلی ہوئی تھی، گاڑی صاف ستھری اور چمک رہی تھی۔ اچانک میری نظر ہیڈلائٹ پر پڑی تو حیران رہ گیا—لائٹ کے اندر پانی اور نمی موجود تھی۔
گاڑی وارنٹی میں تھی۔ میں نے سوچا، مسئلہ ہے تو کمپنی دیکھ لے گی۔ فوراً Hyundai I-9 Islamabad لے گیا۔
وہاں Warranty Service Advisor سے بات ہوئی۔ پہلے ان کا خیال تھا کہ شاید ہیڈلائٹ کے اندر نمی جذب کرنے والا حصہ خراب یا خشک ہوچکا ہے۔ پھر بمپر اتارا گیا تو اندر ہیڈلائٹ کے حصے میں کریک نظر آگئے۔
میں نے پوچھا:
“یہ کریک کیسے ہوئے؟”
جواب ملا:
“شاید چوٹ لگی ہوگی۔”
میں نے کہا:
“چوٹ لگی ہے تو نشان دکھا دیں۔”
مزے کی بات یہ تھی کہ کریک بمپر کے پیچھے تھے، مگر سامنے والے بمپر پر نہ کوئی واضح dent، نہ ایسی خراش اور نہ کوئی ضرب کا نشان جسے دیکھ کر آدمی کہہ سکے کہ ہاں، یہاں اتنی چوٹ لگی تھی کہ اندر ہیڈلائٹ کریک ہوگئی۔
میں نے دوبارہ کہا:
“اگر چوٹ لگی ہے تو مجھے نشان دکھا دیں، ورنہ گاڑی وارنٹی میں ہے، لائٹ تبدیل کریں۔”
جواب پھر وہی:
“چوٹ لگی ہوگی، ضروری نہیں بمپر پر نشان آیا ہو۔”
اور ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا کہ نئی ہیڈلائٹ اپنے پیسوں سے لگوانی ہوگی۔
میں نے قیمت پوچھی۔
جواب ملا:
کم از کم ساڑھے تین لاکھ روپے۔
یعنی باہر چوٹ کا کوئی واضح نشان نہیں، اندر لائٹ کریک ہے، پانی بھی داخل ہوچکا ہے، لیکن نتیجہ یہ کہ وارنٹی نہیں ملے گی اور بل صارف ادا کرے۔
میں انجینئر نہیں ہوں، اس لیے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں نے خرابی کی حتمی وجہ دریافت کرلی ہے۔ لیکن ایک صارف کی حیثیت سے میرا سوال بالکل سادہ ہے:
اگر واقعی چوٹ لگی تھی تو اس کا نشان کہاں ہے؟
اور اگر باہر کوئی واضح impact موجود نہیں تو پھر کیا یہ دیکھنا کمپنی کی ذمہ داری نہیں تھی کہ پانی اندر کیسے آیا، sealing درست تھی یا نہیں، material quality کیسی تھی اور اندر کریک آنے کی اصل وجہ کیا تھی؟
میرا خدشہ آج بھی یہی ہے کہ پہلے نمی یا پانی اندر داخل ہوا، پھر دھوپ اور درجۂ حرارت کی تبدیلی سے اندر stress پیدا ہوا اور پلاسٹک کا حصہ کریک ہوگیا۔ یہ میرا اندازہ ہے—حتمی وجہ کمپنی کو technical investigation سے بتانی چاہیے تھی۔
لیکن ایسا کوئی واضح تحریری diagnosis مجھے نہیں دیا گیا۔
یہ ہنڈائی کی طرف سے مجھے پہلا بڑا جھٹکا تھا۔
گاڑی آج بھی انہی کے پاس موجود ہے، اور میں آج بھی وہی بات کہتا ہوں:
اگر چوٹ لگی تھی تو نشان دکھا دیں۔
میرے پاس اس وقت کی تصاویر بھی محفوظ ہیں۔
پھر کچھ عرصے بعد آیا دوسرا جھٹکا—اور اس بار معاملہ ساڑھے تین لاکھ کا نہیں بلکہ ابتدائی طور پر 20 لاکھ روپے کا تھا۔
بارش کے دوران تقریباً ڈیڑھ فٹ پانی گاڑی سے گزرا ۔ بند گاڑی کے اندر پانی پہنچا، Hybrid Battery متاثر ہوئی اور Hyundai Islamabad نے 20,00,010 روپے کا ابتدائی Estimate دے دیا، جس میں battery system تقریباً 17 لاکھ روپے کا بتایا گیا۔
اور اب وارنٹی بھی قبول نہیں کی جا رہی۔
یہاں بھی میرا سوال بہت سادہ ہے:
پانی بند گاڑی کے اندر آیا کیسے؟
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پانی سے متاثر ہونے والی ہر گاڑی لازماً warranty میں آنی چاہیے۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر ایک کمپنی warranty claim مسترد کر رہی ہے تو پہلے خرابی کی مکمل وجہ، پانی داخل ہونے کا راستہ اور technical diagnosis تحریری طور پر سامنے آنا چاہیے۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:
“پانی آیا، نقصان ہوگیا، warranty نہیں ہے۔”
صارف نے گاڑی خریدتے وقت صرف گاڑی کے لوہے اور پلاسٹک کی قیمت نہیں دی ہوتی۔ وہ برانڈ، معیار، warranty اور after-sales service پر بھی پیسہ اور اعتماد لگاتا ہے۔
میرے ساتھ اب تک معاملہ یوں رہا:
پہلے ہیڈلائٹ کا مسئلہ — کم از کم ساڑھے تین لاکھ روپے۔
پھر Hybrid Battery — تقریباً سترہ لاکھ روپے۔
اور موجودہ ابتدائی Estimate — 20 لاکھ روپے۔
سوال رقم سے بھی بڑا ہے:
کیا صارف کو یہ حق نہیں کہ warranty مسترد کرنے سے پہلے اسے واضح، تحریری اور قابلِ جانچ technical وجہ دی جائے؟
میری یہ آواز صرف اپنی گاڑی کے لیے نہیں۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو کسی بڑی کمپنی کے نام اور warranty پر اعتماد کرکے اپنی محنت کی کمائی خرچ کرتا ہے۔
صارف کے حقوق اور عوامی آگاہی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اگلی خبر اہم ہے—میرے ساتھ رہیے۔
ڈاکٹر محمد عثمان خان
اسلام آباد