Looking Glass (آئینہ)

Looking Glass (آئینہ) Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Looking Glass (آئینہ), Library, Hyderabad, Sindh, Hyderabad.

11/08/2016

Bevor wir mit dem DeutscheGrantie Scam (Betrug) auf dieser Seite genauer befassen, sollten Sie folgende 2 Sachen von vornherein wissen: Man kann mit Binären Optionen durchaus Geld verdienen und das in recht kurzer Zeit! Einige Händler bestreiten damit ihr monatliches Einkommen und können sich Dinge…

06/08/2016

Check out our teachers interview questions, job search tips, resume and cover letter strategies and other education career Ebooks.

01/08/2016

Want to know what the pokemon go is all about and why people have been going crazy about it ?  Here is a short and simple way to check out what the latest pokemon craze is all about. Give it a go yourself! Its free (the objective of the game is to catch the pokemons/pikachu). It’s a rare Pokemon in…

01/08/2016
01/08/2016

There are many types of dental treatments available with a reputed Dentist such as Fillings, Dental X-Rays, Crowns and Bridges, Root Canal Treatment, Periodontal Disease, Dentures and Dental Implants, Tooth Removal and Extraction, Dental Sealants. Click on a dental treatment from the main menu to kn...

01/08/2016

An orthodontist is a specialized dentist who straightens crooked teeth or misaligned jaws with the help of braces or appliances. Gone are the days when only the metal braces meant Orthodontic Treatments. Find out the various types of braces available today and their complete details by selecting the...

30/07/2016

People love quotes about success. These 10 picture quotes inspire, motivate and give some great encouragement for reaching for your dreams.

28/02/2013
26/02/2013

اندرونِ سندھ کی تعلیمی پستی آنکھوں دیکھے اسباب محمد علی وڑائچ

اندرونِ سندھ کی تعلیمی پستی کا سب سے بڑا سبب نااہل اساتذہ کی سیاسی بھرتی ہے۔مختلف سندھی ٹیوی چینلز پر سندھی عوام میں تعلیمی شعور اجاگر کرنے کی غرض سے کافی اچھے پروگریمز پیش کیے جارہے ہیں جو ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے لیکن ناکافی ہے۔کیوں کہ جب تک سکولوں میں صوبائی خزانے سے بھاری تنخواہیں وصول کرنے والے نااہل اور نالائق ٹیچرز موجود رہیں گے ،معیارِ تعلیم کا بہتری کی طرف گامزن ہونا ، ناممکن ہے۔فرض کریں، اگر کسی سکول میں اساتذہ کی کل تعداد تیس ہے تو ان میں سے پچیس نااہل ہیں جنہیں اپنے سبجیکٹس کے متعلق بنیادی معلومات بھی نہیں۔اب یہ بھی ممکن نہیں کہ پانچ اہل ٹیچرز اُن کے حصے کے پیریڈس بھی خود لیں۔ آخر وہ عوامی خزانے سے بھاری تنخواہیں وصول کرتے ہیں ۔مجھے اُس وقت انتہائی حیر ت ہوئی جب میں ضلع سانگھڑ کی ایک بڑی تحصیل میں ایم ۔اے انگلش کے ایڈمشن کے بارے میں معلومات دریافت کرنے کے غر ض سے گیا تو وہاں کسی ٹیچر یا ریسیپشنٹسٹ کو انگلش مضامیں کی تعداد اور نام تک معلوم نہ تھے۔وہاں بیٹھے ایک کلرک نے اسی کالج سے وابستہ انگریزی کے ایک لیکچرر سے اس ضمن میں رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ جان کر کہ انگریزی کا لیکچرر بھی مضامین کے ناموں تک سے واقف نہیں ، میرا دل خون کے آنسو رو پڑا۔یہاں کسی کی شخصی دل آزاری مقصود نہیں ، اس لیے نام و مقامات کی وضاحت لکھنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
جب ٹیچر کی ایک اسامی بیچی جاتی ہے تو ساتھ ہی لاکھوں طالبِ علموں کا مستقبل بھی بیروز گاری اور نالائقی کے سپرد کر دیا جا تا ہے۔کیوں کہ وہ نالائق ٹیچر ساٹھ سال تک اپنی نالائقی اور کم بختی کو معصوم بچوں کے کچے ذہنوں میں منتقل کرتا رہتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب نالائقی اور بد بختی کے یہ بیج ایک گھنے تناور درخت کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔اس درخت پر پھر کبھی بہار نہیں آتی۔ جب اِس درخت کو علم کی کھاد دی جاتی ہے تو وہ اُسے راس ہی نہیں آتی کیوں کہ اس کی بنیادی جڑیں اس قابل ہی نہیں ہوتیں کے کھاد سے مستفید ہو سکیں۔ جب نالائقی کی پرچھا ئیوں میں پروان چڑھنے والے یہ بچے بڑے ہو جاتے ہیں اور ٹھوکریں کھانے کے بعد، جب ان میں تعلیمی شعور انگڑائی لیتا ہے تو وہ قابل اساتذہ اور اچھے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔اب ہوتا یہ ہے کہ نالائقی اور اور جہالت کے اندھیروں میں پروان چڑھنے والے ان بچوں کو معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے سے بھی کچھ پلے نہیں پڑتا۔مثال کے طور پر: اندرونِ سندھ کا ایک دیہاتی بچہ جب کراچی یا حیدرآباد کے کسی اچھے نجی تعلیمی ادارے میں ایف ایس سی کرنے کی غرض سے ایڈمشن لیتا ہے تو قابل اساتذہ کے دیے گئے ماہرانہ لیکچر ز اُس کے سر کے اوپر سے گذر جاتے ہیں جس کا سبب اس کی کمزور بنیاد ہوتی ہے۔ قابل پروفیسر اُس کی اِس کمزوری سے واقف ہونے کے باوجود اس کے لیے کچھ کرنے سے قاصر ہوتا ہے ۔ کیوں کہ قابل پروفیسر نے اپنا سبجیکٹ پڑھانا ہوتا ہے جو ایک طے شدہ معیار سے شروع ہوتا ہے۔ اُس معیار سے مراد وہ بنیادی چیزیں ہیں جو میٹرک لیول تک پڑھائی جاتی ہیں۔ جب تک ایک طالب علم ان بنیادی چیزوں ہی سے بخوبی آشنا نہیں ہوگا تب تک اُسے ماہرانہ لیکچر سمجھ نہیں آئے گا۔ اب یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ پروفیسر پہلے اسے مڈل پڑھائے ، پھر میٹرک پڑھائے اور پھر اپنا مطلوبہ سبجیکٹ۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے بے شمار طالب علموں کی بربادی کی ذمے دار ی کس پر عائد ہوتی ہے؟ اُس ٹیچرپر جس نے پیسے دے کر نوکری حاصل کی تھی؟ طالب علم پر؟ والدین پر؟یا حکومت پر؟ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا کرپٹ سیاسی نظام ہے۔ جس میں قومی اور صوبائی اسیمبلیوں کے میمبران اور وزراء کو اسامیاں اپنے عزیز و اقارب میں تقسیم اور عوام میں بیچنے کے لیے دی جاتی ہیں۔تعلیم پر ظلمِ عظیم کرنے والے یہ وزیر اور میمبران بے دردی سے، اپنے نالائق چمچوں ، عزیزوں ، رشتے داروں، دوستوں اور بچی کھچی اسامیاں عوام کو بیچتے ہیں۔ایسے وزراء اور میمبران پر ایک محاورہ انتہائی طور پر کتنا فٹ ہوتا ہے کہ "ایک گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے"۔ صوبے کا کوئی ادارہ ایسا نہیں جہاں اسامیاں بیچی یا نوازی نہ جاتی ہوں۔لیکن خدا کا ذرا سا خوف دل میں ہو تو کم سے کم محکمہ تعلیم کو تو معاف کردیا جائے۔ انسان اور حیوان میں فرق صرف علم کا ہوتا ہے۔ ورنہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم ادوار میں لوگ جانوروں جیسی حیات بسر کرتے تھے۔ یہ علم ہی کی روشنی تھی جس نے ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نجات دلا کر جانور سے آدمی اور پھر آدمی سے ہمیں انسان بنایا۔ٹیچر کی اسامی کوئی عام اسامی نہیں ہوتی۔ یہ بہت مقدس اور اہم ترین معاشرتی اسامی ہوتی ہے لیکن جس طرح اس اسامی کے تقدس کو ہمارے ملک میں پامال کیا جاتا ہے اس کی مثال کسی مہذب معاشرے میں ناپید ہے۔ یوں تو ٹیوی چینلز تعلیمی شعور کے پھیلائو کے نعرے، دن رات لگاتے ہیں لیکن بنیادی موقع پر وہ خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر گمنامی کی تاریکی میں پنہاں ہو جاتے ہیں ۔بنیادی مواقع سے مراد وہ عمل ہوتا ہے جب محکمہ تعلیم میں اسامیاں پُر کی جاری رہی ہوتی ہیں۔ یہی موقع ہوتا ہے آواز بلند کرنے کا۔ کیوں کہ تعلیمی پسماندگی کی اصل جڑ یہیں سے پروان چڑھتی ہے۔ سندھ کے تمام اضلاع میں اس وقت تقریبً اکیس ہزار اساتذہ کی بھرتی کا سلسلہ انڈر پروسس ہے۔ جس میں خوش آئند امر این ٹی ایس کی طرف سے منعقدہ شفاف امتحانات کی تکمیل ہے۔ این ٹی ایس نے میرٹ کے مطابق پاس ہونے والے تمام امیدواروں کے نام اور مارکس کی تفصیل اپنی سائٹ پر دے دی ہے۔ لیکن کچھ با اثر اور بد عنوان عناصر کو یہ بات ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہورہی۔ کبھی وہ تعلیمی قابلیت پر اضافی مارکس دینے کی افواہیں پھیلا رہے ہیں تو کبھی جنسی طور پر بیس مارکس دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔ جب کہ قبل از ٹیسٹ ہر چیز طے ہوچکی تھی تو اب میرٹ کی بنیاد اسی ٹیسٹ کو بنانا چاہیے جس میں نقل کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ تعلیمی قابلیت پر مارکس دینے کا جواز تو تب جائز بنتا ہے جب ڈگری اپنی قابلیت سے حاصل کی گئی ہو۔دوسری طرف بیس فیصد سیکشوئل مارکس دینے کی بات ناقابلِ فہم اور میرٹ سسٹم کی کھلم کھلی نافرمانی ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ بااثر عناصر کسی نہ کسی بہانے دونمبری کی گنجائش نکالنے کی کوشش میں دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ کسی بچے سے بھی سوال کیا جائے کہ بیٹا 61 مارکس حاصل کرنے والا زیادہ ذہین اور قابل ہوا یا 80مارکس حاصل کرنے والا ؟ تو وہ جواب دےگا : "انکل ، یہ بھی کوئی پوچھنے والا سوال ہے؟" لیکن محکمہ تعلیم صرف اس بات کو بنیاد بنا رہا ہے کہ ٹیچنگ کے لیے مرد کے مقابلے میں عورت زیادہ حقدار ہے خواہ وہ مرد سے کم قابل ہو۔ اس بات سے ہرگز اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ عورت اور مرد دونوں کی تعلیم لاز م ہے۔ این ٹی ایس کی جانب سے میرٹ کے نتائج کی روشنی میں یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ اگر بھرتی بلا امتیاز جنس زیادہ سے زیادہ مارکس حاصل کرنے کی بنیاد پر کی جائے تو اسامیوں کی زیادہ تعداد مردوں کے حصے میں آئے گی۔ لیکن یہ نا انصافی ہوگی ۔ اس کا آسان حل یہ ہے کہ فی میل سکولوں میں خالی اسامیوں پر فی میل اور میل کی خالی اسامیوں پر میل امیدواروں کو مقرر کیا جائے۔ایک نیا عجیب وغریب سوشا، مختلف مستند اخبارات کی روشنی میں گردش کر رہا ہے کہ خالی اسامیوں کو تین اقسام میں وسعت دی گئی ہے، میل ، فی میل اور مشترکہ۔یہ میرٹ سسٹم کی دھچیاں اڑانے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔جب فی میل کینڈیڈیٹس کوقدرتی طور پر پائی جانے والی جنس کی بنیاد پر بیس اضافی مارکس دیے جائیں گے ، تمام مشترکہ اسامیاں ان ہی کے حصے میں آجائیں گی۔ کیوں کہ اسی اور نوے کے درمیان مارکس حاصل کرنے والے میل امیدواروں کی کل تعداد سے، ساٹھ سے ستر مارکس حاصل کرنے والی فی میل امیدواروں کی تعداد بہت زیادہ ہے جس میں بیس جنسی مارکس شامل کرنے سے فی میل قابل تر امید وار، میل قابل ترین امیدواروں سے تجاوز کر جائیں گی۔ مشترکہ اسامیوں کے نام کا ڈھونگ رچانے کی کیا ضرورت ہے؟ بجائے اضافی جنسی مارکس دینے کے، صاف طور پر فی میل اسامیوں کی تعداد بڑھا دی جائے۔اس سارے عمل میں میل اسامیاں آٹے میں نمک کے برابر رہ جائیں گی۔جب کہ این ٹی ایس ٹیسٹ میں شرکت کرنے اور پاس کرنے کی زیادہ تر تعداد میل ہے۔ بحرحال، یہ خبریں محض اخبارات کی زینت بھی ہو سکتی ہیں۔ زور اس بات پر ہونا چاہیے کہ بھرتی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ مارکس حاصل کرنے کی بنیاد پر کی جائے۔دوسری طرف مختلف تعلیمی محکموں میں کام کرنے والے افسران اپنے با اعتما د نالائق امیدواروں کو رشوت کے عیوض نوکری ملنے کی یقین دہانی بھی کر وا رہے ہیں۔ اگر اس بار بھی محکمہ تعلیم میں بھرتیاں میرٹ پر نہ پُر کی گئیں تو سندھ کی آنے والی نسلیں علم تو دور کی بات لفظ 'علم'لکھنا بھی بھول جائیں گی یا لکھنا پسند نہیں کریں گی۔
بچے بڑوں سے سیکھتے ہیں۔ اور شاگر د استاد سے سیکھتا ہے۔یہ بات بھی کسی تعجب سے خالی نہیں ہے کہ ایک شخص جس نے نالائق ٹیچر سے پڑھ کر محض ڈگری حاصل کی ہوتی ہے وہ بھی یہ چاہتا ہے کہ اُسے ٹیچر کی اسامی مل جائے۔اُس کی اِس خواہش کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ وہ اس لیے بھی ٹیچر بننا چاہتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں آتا تو کیا ہوا۔ میرے ٹیچر کو بھی کچھ نہیں آتا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میں نے صرف تنخواہ ہی اٹھانی ہے ،باقاعدہ کلاسز نہیں لینی ۔ جب ماحول ایسا ہو جس میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو کہ اگر میں رشوت دے کر ٹیچر بن بھی جائوں تو پڑھائوں گا کیا؟ مجھے تو کچھ آتا ہی نہیں۔ لیکن وہ ایسا اس لیے نہیں سوچتا کیوں کہ وہ اپنے ارد گرد بہت سے ٹیچروں کو دیکھ چکا ہوتا ہے جن میں سے کوئی دکان چلا رہا ہوتا ہے تو کوئی سارا دن پان کی کیبن۔ تو کوئی مرغے لڑا رہا ہوتا ہے۔ تو کسی نے بھینسوں کا باڑا کھول رکھا ہوتاہے۔ سیاسی طور پر بھرتی ہونے والے یہ تمام نالائق اور بے ضمیر ٹیچرز اُس کے لیے امید کی کالی کرن ثابت ہوتے ہیں۔اگر ایک شخص کو یہ پختہ یقین ہو کہ اگر میں ٹیچر کی نوکری خرید بھی لوں تو مجھے ہر حال میں کلاسز لینا ہوں گی ورنہ دوسرے قابل ٹیچر وں کے سامنے مجھے شرمندگی ہوگی۔ اس کے علاوہ اگر میں غیر حاضر رہا تو تنخواہ کٹ جائے گی یا نوکری جاتی رہے گی تو وہ کبھی بھی ٹیچر کی اسامی کا طلب گار نہ ہوگا۔ اتنی اہم اور مقدس اسامی کو لوگوں نے آمدنی کا اضافی ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ دوسرے محکموں میں کرپٹ افراد دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے لیکن محکمہ تعلیم میں کرپشن دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سب سے پہلے محکمہ تعلیم میں کرپشن ختم ہونی چاہیے۔ کیوں کہ جب محکمہ تعلیم بد عنوانیوں سے پاک ہو جائے گا تو باقی محکمے خود بخود رفتہ رفتہ درستی کی جانب رواں دواں ہو جائیں گے۔وہ کیسے؟ وہ ایسےکہ جب تعلیم یافتہ (آج کل ڈگری یافتہ بہت مل جائیں گے لیکن تعلیم یافتہ کوئی اکا دکا ملے گا)لوگ مختلف محکموں میں آئیں گے تو وہ ان اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ جس ٹیچر کے ذمے جو سبجیکٹ ہے، گورنمنٹ کو باقاعدہ ان کا میرٹ کی بنیاد پر ٹیسٹ لینا چاہیے اگر وہ اس میں کوالیفائے کرلیں یعنی ثابت کردیں کہ وہ اپنے مطلوبہ سبجیکٹ سے خاطر خواہ آشنا ہیں تو انہیں بحال رکھا جائے دوسری صورت میں انہیں فارغ کر دیا جائے۔ شرم آنی چاہیے ایسے اساتذہ کو جو خود کو ٹیچر کہتے ہیں لیکن انہیں آتا جاتا کچھ بھی نہیں۔ ایسے نام نہاد ٹیچرز ہماری تعلیم پر سیاہ دھبا اور سرکاری خزانہ پر بھاری بوجھ ہیں۔ اگر انہیں نکال نہیں سکتے تو کسی اور محکم میں منتقل کردیں وہاں کم از کم تعلیمی تباہی اور پستی کا سبب تو نہیں بنیں گے۔
پیسے دے کر یا سیاسی طور پر بھرتی ہونے والے ٹیچرز کی اکثریت گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرنا پسند کرتی ہے۔ اس سلسلے میں بابو حضرات اُن کی تنخواہوں سے چند روپے اپنی جیبوں میں ڈال کر اُن سے بھر پور تعاون اور یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ کالی بھیڑوں کے روپ میں لوگ اسے "ویزا سسٹم" کہتے ہیں جو ان کی کم علمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک ٹیچر اپنی دکان پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا دوسرا دوست ٹیچر آیا اور کہا: میں جب بھی تمھاری دکان پر آتا ہوں تم سارا دن اِدھر ہی ہوتےہو۔ سکول نہیں جاتے کیا؟ دکاندار ٹیچر نے جواب دیا : میں تو کافی عرصے سے "ویزا سسٹم" پر چل رہا ہوں۔ یہ سن کر اس نے دکاندار ٹیچر کو خوب قہقہ لگاتے ہوئے جواب دیا: تو پھر مارو تالی، میں بھی ویزے پر ہوں۔'' مطلب یہ کہ وہ دونوں بنا پڑھائے اور بنا سکول گئے، تنخواہیں لے رہے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان نااہل ٹیچرز کو آڑے ہاتھوں لیا جائے اور ان سے زبردستی ڈیوٹی کروائی جائے، تو پھر بھی کوئی فائدہ نہیں۔ جب ان کو کچھ آتا ہی نہیں تو پڑھائیں گے کیا؟ یہ محض قیاس آرائی نہیں۔ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی اکثریت کو اپنے مطلوبہ سبجیکٹس کا کچھ علم نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ ٹیچنگ کو محض ایک بونس آمدنی سمجھتے ہیں جب کہ سارا وقت اور توجہ اپنے اصل کاروبار یا پیشہ کو دیتے ہیں۔ دوسری طرف چند ایماندار، قابل اور محنتی ٹیچرز دن رات پڑھا پڑھا کر ادھ موئے ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نااہل اور غیر حاضر اساتذہ کے سبجیکٹس کا بوجھ بھی شریف اور محنتی ٹیچروں کے سر پر ہوتا ہے۔ آپ لاکھ تعلیمی شعور پیدا کرنے کی کوشش کر لیں جب تک محکمہ تعلیم میں ، حکومت سندھ کے تمام سکولوں سے ان نااہل اور کام چور ٹیچروں کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کر دیا جاتا تب تک سندھ کی (بالخصو ص دیہی و اندرون سندھ ) تعلیم کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
جب اِن ٹیچرز کو اتنظامیہ کی طرف سے مجبوراً کلاس لینا پڑ جائیں تب ان کے پڑھانے کا طریقہ کچھ اس طرح ہوتا ہے۔ جن میں مشہور مندرجہ ذیل ہیں
"ہاں، بھئی، اپنی اپنی کتابیں نکالو۔۔۔اور باری باری کھڑے ہو کر پڑھو۔۔۔ پہلے ایک پڑھتا ہے ۔۔۔ وہ دو تین لائین ہی پڑھتا ہے تو ۔۔۔ اب اگلا پڑھے ۔۔۔ پھر اس سےاگلا۔۔ اس طرح پیریڈ کا وقت ختم ۔ تعجب کی بات یہ کہ ٹیچر کا اس بات سے کوئی تعلق ہی نہیں کہ آیا کوئی صحیح پڑھ رہا ہے یا غلط۔ سمجھ کے پڑھ رہا ہے یا نہیں۔ ۔ ۔ یا صرف پڑھ رہا ہے اور سمجھ نہیں آرہی ۔۔ ٹیچر ان چیزوں سے بالکل بے نیاز ہوتا ہے۔ اس کے برعکس میرٹ پر بھرتی کیے گئے ٹیچرز ہر ٹاپک کو بچوں کو اس طرح مثالیں دے کر اور تجربات کی روشنی میں پیش کرتے ہیں کہ ان کو مطلوبہ عنوان نہ صرف اچھی طرح سمجھ آ جاتا ہے بلکہ خود بخود ذہن نشین ہوجاتا ہے"۔
"باب کے آخر میں ٹیچر ایک مشق کھولتا ہے اور پھر بتاتا ہے کہ پہلے سوال کا جواب یہاں سے لے کر یہاں تک ہے۔ ٹک کر لو یا نشان لگا لو۔ اب شاگرد اسے گھر جا کر طوطے کی طرح رٹ لیتا ہے۔ اس کے برعکس میرٹ پر بھرتی کیا گیا ٹیچر اپنے ٹاپک کو ہر طرح کی، روز مرہ کی مثالیں دے دے کر کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ جس سے بچے کو مطوبہ ٹاپک سننے سے ہی سمجھ آ جاتا ہے۔ اور وہ نشان لگائے ہوئے کو ہوبہو یاد کرنے کے بجائے اپنے الفاظ میں تحریر کرتا ہے جس سے بچے میں تخلیقی صلاحیت جنم لیتی ہے"۔
"حد بھی آخر ہوتی ہے کب تک کوئی دیوانہ رہے" مراد یہ کہ جب ایک لائق ٹیچر نالائق ٹیچروں کا بوجھ اپنے دماغ پر لے لے کر تنگ آجا تا ہے تو وہ بھی رفتہ رفتہ اپنے فرائض سے دستبرداری کا مظاہرہ کرنے لگ جاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہےکہ فلاں ٹیچر سکول بالکل نہیں آتا یا فلاں ٹیچر اپنا بزنس کر کے خوشحال ہوتا جا رہا ہے تو شیطانی خیالات اس کو گھیرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب یا تو وہ بھی بزنس شروع کر دیتا ہے یا صر ف ٹویشنز میں دلچسپی کے ساتھ پڑھاتاہے اور کلاس میں محض ٹائم پاس۔
یہیں سے کاپی کلچر کی بنیاد پڑتی ہے۔ شاگرد خو ب نقل کرتا ہے۔ اور استاد اپنی کمزوری چھپانے کے لیے خاموش رہتا ہے۔ بیروزگاری کی سب سےبڑی وجہ کاپی کلچر ہے۔ قسم ہے اس پیدا کرنے والے کی جس کےقبضے میں میری جان ہے، اگر کاپی کلچر بند ہو جائے تو ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے پاس گریجویٹ تو دور کی بات ہے میٹرک کی سند بھی نہ ہو۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے لیکن اندرون سندھ کے اضلاع اور تحصیلوں میں جس طرح نقل کی جاتی ہے اس کی مثال کسی مہذب تعلیمی معاشرے میں ملنا ناممکن ہے۔وہ جو سارا سال سکول کا منہ نہیں دیکھتا اس کا بھی "اے" گریڈ اور جس کو اپنا ناک صاف نہیں کرنا آتا اس کا بھی "بی گریڈ"۔۔۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کمرہ امتحانات میں تو کتابیں کھول کر نقل کی ہی جاتی ہے اس کے علاوہ سکول کے باہر فوٹو سٹیٹ مشینوں پر بھی رش ہوتی ہے۔ نقل کے دوران مقدس کتب کے احترام کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ اسلامی آیات کو شلواروں کی جیبوں اور نیفوں میں دھنسا دیا جاتا ہے۔ نقل کی صورتحال کا مختصر منظر مندجہ ذیل ہے
گھر کامنظر: ریحان: " ابو ، سر اسلم کو امتحان میں مدد کا کہہ دیا تھا؟ ابو: ہاں، بیٹاکہہ دیا تھا۔ تم فکر نہ کرو ، وہ تمھیں پورا پرچہ حل کروادیں گے"۔
گھر کا منظر: دروازہ پر دستک ہوئی۔ ندیم باہر نکلا تو اس کا کلاس فیلو فہیم کھڑا تھا۔ فہیم نےپوچھا: "یار، تم نےنقل کے لیے وہ چھوٹے حروف اور چھوٹےسائز کے نوٹس بنا لیے ہیں؟ " ندیم: "بس ابھی تھوڑے سے رہتے ہیں"۔ فہیم:" یار، بنا کر مجھے بھی دے دینا ، میں بھی فوٹو کاپی کروالوں گا تاکہ میرے بھی اچھے نمبر آجائیں۔ ویسے تمھارے یہ کارتوس نما نوٹس ہیں بڑے کام کے۔ نقل کرنے میں بہت آسانی رہتی ہے اور دوسروں سے مختلف ہونے کی وجہ سے مارکس بھی اچھے آتے ہیں"۔
بک شاپ کا منظر: رفیق دکان سے گائیڈ خرید رہا ہے۔اچانک اس کی نظر اس کے کلاس فیلو شاہد پر پڑتی ہے۔ " کیسے ہو شاہد؟ ذرا دکھانا کونسی گائیڈ لی ہے۔ اتنی بڑی گائیڈ! یہ، دیکھو ۔۔۔چھوٹی سی گائیڈ۔۔۔یہ لے، اس کی فہرست بھی زیاد ہ واضح ہے اور سنبھالنے میں بھی آسانی رہے گی"۔
کچھ طالب علم تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کل پہلا پرچہ ہوتا ہے لیکن وہ اس سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔ امتحان والے دن کسی اورسے یا خود دکاندار سے کہتےہیں کہ آج کونسا پرچہ ہے۔ دکاندار کلاس پوچھتا ہے اور اسے گذشتہ سالوں کے سالڈ پیپرز یا گائیڈ ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔ دکاندار کوبھی اکثر صحیح پرچہ کا علم نہیں ہوتا وہ بھی اندازے سے بتا دیتا ہے۔
امتحانات سے چند روز قبل کچھ سٹوڈنٹس جو شعور ی طور پر چاق وچوبند ہوتے ہیں ، انتہائی مصروف نظر آتے ہیں۔ پڑھنے میں نہیں، بلکہ اس انتظام میں کہ نقل کا کوئی بھی پہلو کہیں ادھورا نہ رہ جائے مثلاً کمرہ امتحان میں ٹیچر کی مدد، باہر سے اندر حل شدہ سوالات کی موصولی اور اندر سے ہر طرح کے نوٹس اور بکس کی دستیابی وغیرہ ۔ یہ لائق سٹوڈنٹ کی ایک مثال ہے۔
دوسری طرف فی میل سٹوڈنٹس کا بھی یہی حال ہوتا ہے لیکن فی میل کی تیاری کا طریقہ ذر ا محتاط اور قدرے ڈرا یا سہما ہوا ہوتا ہے جو ایک عمل ہے۔ فی میل کو زیادہ تر ان کےبھائی یا کزن نقل پہنچانے کا ٹھیکہ لیتے ہیں۔ گرلز کالجز اور سکولز کے باہر لڑکوں کی بھیڑ نظر آتی ہے ۔ پولیس رسمی سے ڈنڈے گھماتی ہے تو لڑکے منتشر ہو جاتے ہیں اور کچھ دیر بعد پھر اکٹھے۔ باہر سے کمرہ امتحان تک فی میل امید واروں کو نقل کی رسائی میل کے مقابلے میں قدرے مشکل ہوتی ہے۔ لیکن جانباز ہر مشکل کا سامنا کرنے کے لیے ہر وقت خود کو ڈنڈوں ،دھکوں اور چپڑاسیوں کی منتوں کے لیے تیار رکھتے ہیں۔
امتحان کا اندرونی جائزہ لینے سے پہلے بیرونی ماحول پر ایک نظر ڈالیں تو امتحانی پر چہ جات کے آغاز سے چند منٹ بعد ہی امتحانی پرچہ سکول یا کالج سے آئوٹ ہو کر مخصوص فوٹو سٹیٹ مشین کی نظر ہو جا تا ہے۔ فوٹو سٹیٹ کرنے والے کی بھی چاندی ہوجاتی ہے ۔ وہ دو روپے کہ جگہ ایک فوٹو کاپی کی قیمت دس روپے کر دیتا ہے۔ باہر سے نقل اندر بھیجنےکا سب سے پہلا مرحلہ امتحانی پرچہ کا آئوٹ ہو نا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے بااثر افراد پرچہ کو سکول یا کالج سے آئوٹ کرواتے ہیں۔ اس کے بعد وہ کسی ٹیچریا پروفیسر سے لین دین یا ذاتی تعلقات کی بنا پر پرچہ کے تمام سوالات حل کرواتے ہیں۔ جیسے جیسے سوالات حل ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے وہ فوٹو سٹیٹ ہو کر پھیلتے جاتے ہیں۔ اب فوٹو سٹیٹ مشین سے غیر حل شدہ کویسچن پیپر دس روپے میں دستیاب ہوتا ہے ۔ اور حل شدہ فی سوال بیس روپے میں۔ جب کہ پیپر شروع ہونے سے تقریبً ایک یا ڈیڑھ گھنٹے بعد تمام حل شدہ سوالات کا پورا سیٹ سو یا ڈیڑھ سو میں دستیاب ہوتا ہے۔ کچھ لوگ پورا سیٹ فوٹو سٹیٹ سے لے کر اندر بھجوا دیتے ہیں تو کچھ لوگ صرف کویسچن پیپر لے کر تسلی سے کتب میں سے جوابات پھاڑ کر نمبرنگ کے ساتھ خود سیٹ بناکر اندر بھجوادیتے ہیں۔ اور پھرموبائیل سے رابطہ کرکے تصدیق کرتے ہیں کہ آیا سوالات مل گئے یا نہیں۔ اس طرح ایک امید وار کو باہر سے پورا سیٹ تقریبً دو یا تین سو میں مل جاتا ہے۔ اگر سوالات باہر والےساتھی نے خود کتابوں سے تلاش کیے ہوں تو پھر صرف پچاس یا سو روپے میں۔ یہ بات ان لوگوں کی ہے جن کا کوئی جاننے والا نہیں ہوتا۔ جن کی جان پہچان یا اثر رسوخ ہوتا ہے وہ ڈائیریکٹ اندر جا کر اپنے بیٹے ، بھائی، بہن اور بیٹی کو نقل کا سیٹ دے کر آتے ہیں۔ کچھ لوگ ایک ایک سوال کرکے جیسے جیسے دستیاب ہونا شروع ہوتے ہیں ، اندر بھجواتے ہیں تو کچھ لوگ پورا سیٹ تیار کرنے کے بعد اندر بھجواتے ہیں تاکہ ہر بار چپڑاسی یا پولیس یا کسی متعلقہ شخص کو پیسے نہ دینا پڑیں۔ فوٹو سٹیٹ پر دستیا ب جوابی سیٹ کے تمام سوالات ہی کسی پروفیسر یا قابل ٹیچر کے حل کردہ نہیں ہوتے۔ فوٹو سٹیٹ پر اکثر جوابات غلط بھی ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ کتب سے ٹیلی کرنے کے بعد اور کچھ لوگ بنا دیکھے اندر بھجوادیتے ہیں۔

اب کمرہ امتحان کے اندر کی تصویر کا رخ کرتے ہیں۔ اندر کا ماحول بڑا سرگرم ہوتا ہے۔ پورے کمرے میں شور اور چر۔۔چر۔۔چر۔۔۔کتب کے اوراق پھٹنے کے آوازیں گونج رہی ہوتی ہیں۔ میتھ کے پرچہ کے نصف سے زائد سوالات خود ٹیچر ہی بلیک بورڈ پر حل کروا دیتے ہیں۔ اب ذرا مختلف آوازوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ """ہیلو، ابو! دو سوالات تو گائیڈ سے مل گئے ہیں ،،،،،،'''بیٹا، کون کون سے؟"'''ابو، تیسرا اور چھٹا''''۔۔۔۔''''بیٹا ، فکر نہ کرو، باقی میں بھجوا دیتا ہوں ، پروفیسر صاحب جیسے ہی حل کرلیں ، تمھیں مل جائیں گے ۔۔تم اپنا قیمتی وقت ضایع نہ کرو ۔۔تب تک جو سوالات گائیڈ سے ملے ہیں انہیں حل کرلو""""۔۔۔''''ساتھیو، ،،سوال نمبر تین کسے چاہیے ؟ میں نے اتار لیا ہے"۔۔۔۔''''''مجھےدو،،مجھے دو،،،مجھے چاہیے۔۔۔پلیز مجھے دو نا۔۔۔ٹیچر: """شور مت کرو۔۔۔باری باری سب کر لو"۔۔"""ہیلو، ہاں جانم! سوالات مل گئے تھے؟ ۔۔۔۔""""جی ، میری جان مل گئے تھے۔موٹو، تم نے پرابلم تو بھجوائے نہیں ۔میں نے گائیڈ میں دیکھے تھے ۔تھیوری تو مل گئی لیکن پرابلمز کی رقمیں چینج ہیں۔۔""اچھا، ،،مائے ڈارلنگ۔۔وہ بھی بھجوا دیتا ہوں۔۔لیکن ایک چما ہو جائے"۔۔۔۔ ""'لڑکی شرماتے ہوئے """چل! ہٹ ، بدتمیز۔""" ۔۔۔۔"""ہیلو، بھائی آخری والا سوال پورے بلاک میں کسی کے پاس بھی نہیں ہے، اور خود ٹیچر کو بھی نہیں آتا ''' ۔۔۔"بہن، تم فکر نہ کرو آپ کا بھائی آدھے گھنٹے میں ضلع سے لے آئے گا "۔۔۔۔ٹیچر: """ابے، شور نہیں۔۔۔شور نہیں۔۔۔آرام کے ساتھ کرو۔۔۔جو سوال نہیں مل رہا ایک دوسرے سے پوچھ لو۔۔لیکن شور مت کرو"۔
قصہ مختصر ، اس کاپی کلچر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس شخص کے پاس بھی گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری ہوتی ہے ، جسے انگلش تو بہت دور کی بات: 'ع'اور 'الف'، 'س'اور 'ص' وغیرہ کے استعمال سے بھی واقف نہیں ہوتا۔ صادق کو سادک ، قلم کو کلم ، علم کو الم ، بشرہ کو بشرا، لکھنے ولا بھی بی ایڈ اور ایم ا یڈ ہوتا ہے۔ اور دوسری طرف ایک محنتی اور ذہیں سٹوڈنٹ بھی یہی ڈگری رکھتا ہے۔ اب جب ٹیچر کی اسامی پُر کرنے کا وقت آتا ہے تو سیاسی طور پر پہلے ذکر کردہ شخص کو اپائینٹ کر دیا جاتا ہے یہیں سے تعلیم کابیڑی غرق شروع ہوتا ہے۔
بات نکلے گی تو پھر دو ر تلک جائے گی۔ لیکن مختصراً یہ کہ اندرون سندھ کی تعلیم کو جہالت کی غار سے نکال کر علم کی سحر تک کیسے لائے جائے۔ ممکنہ واحدحل یہی ہے کہ نااہل اساتذہ کا مطلوبہ سبجیکٹس میں امتحان لے کر اُن کی قابلیت کا جائزہ لیا جائے۔ اگر وہ اپنے سبجیکٹ کو جانتے ہوں تو بحال رکھا جائے ورنہ فوری طور پر( بنا فردی رحم کے تعلیم پر رحم کرتے ہوئے) انہیں فارغ کر دیا جائے یا کسی دوسرے محکمہ میں بھیج کر ان کی جگہ قابل ٹیچرز کو این ٹی ایس کے میرٹ سسٹم پر بھرتی کیا جائے۔قابل ٹیچرز کی میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کے بعد سختی سے نمٹتے ہوئے سکولوں میں روزانہ حاضری کو یقینی بنایا جائے۔
نااہل اساتذہ کے خاتمے اور اہل اساتذہ کے بھرتی کے بعد سٹوڈنٹس کا یہ جواز کہ ہمیں کوئی پڑھاتا نہیں لہذا ہم کاپی ہی کریں گے ، ختم ہو جائے گا۔ اس کےبعد کاپی کلچر کو جڑ سے کاٹ کر اس کی تمام جڑوں کو جلا دیا جائے۔ جہاں سے دوبارہ اگنے کی امید نہ رہے۔
صرف یہی تین اقدامات اندرون سندھ کو جہالت کے اندھیرو ں سے نکال کر علم کی شمع منور کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔ استاد محنتی اور اپنے پیشے سے سچا ہو تو درخت کے نیچے بھی تعلیم دے سکتا ہے۔ اور اگر ٹیچر کو خود ہی کچھ نہیں آتا تو وہ بنگلہ ٹائپ سکول میں بھی باعث تاریکی ہوگا۔
Please help to spread this article so much that it may compel our govt to notice and take a stern action, thanks

Address

Hyderabad, Sindh
Hyderabad

Telephone

03003286534

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Looking Glass (آئینہ) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category