17/01/2026
عشرت فاطمہ نے حال ہی میں 45 سال بعد ریڈیو پاکستان کو خیرباد کہا، اپنے یوٹیوب چینل پر اصل وجہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے کا دستور ہے کہ جب کوئی آپ کے کام کا اپنے کام سے مقابلہ نہیں کر سکتا تو پھر اور طریقے آزماتا ہے، آپ کہتے ہیں اس کی زندگی ہی چھین لو، اس کی سانسیں ہی چھین لو، اس کے لئے وہ space ہی ختم کر دو جہاں بیٹھ کر وہ کام کر رہا ہے، جب آپ کو پتا ہو کہ کوئی کام میں آپ سے بہتر ہے تو آپ کو کام چھوڑنے میں تکلیف نہیں ہوتی لیکن اگر آپ کو دیوار سے لگا دیا جائے اور آپ کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا جائے کہ ہمیں اب آپ کی ضرورت نہیں ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے، حالات بہتر ہونے کا بہت عرصے تک انتظار کیا کہ شاید مجھے کام کرنے کے لئے جگہ مل جائے، مجھے merit پر کام کرنے دیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا، مجھے بار بار احساس دلایا گیا کہ تم ہماری ضرورت نہیں ہو پھر بہت مشکل اور بھاری دل کے ساتھ یہ فیصلہ کیا