20/07/2023
انسان نے سونا 8,000 سال قبل دریافت کر لیا تھا، کیونکہ یہ آزاد حالت میں ملتا ہے۔ 750 سال قبل از مسیح تک یعنی سونے کی دریافت کے سوا پانچ ہزار سال بعد تک انسان صرف سات دھاتوں سے واقف تھا جو یہ تھیں:
سونا : 8,000 سال قبل دریافت ہوا۔
تانبا : 6,200 سال قبل دریافت ہوا۔ چاندی : 6,000 سال قبل دریافت ہوئی۔ (اب تک دریافت ہونے والی تینوں دھاتیں تین الگ الگ رنگوں کی تھیں۔)
سیسہ : 5,500 سال قبل دریافت ہوا۔
قلعی : 3,750 سال قبل دریافت ہوئی۔
لوہا : 3,500 سال قبل دریافت ہوا۔ (اس کے ساتھ ہی کانسی کا دور ختم ہوا اور iron age شروع ہوا۔ کانسی تانبے اور قلعی کا آمیزہ ہوتی ہے۔)
پارہ : 2,750 سال قبل دریافت ہوا۔ (یہ دھات مائع شکل میں ہوتی ہے۔)
قدرتی تانبے کا ایک ٹکڑا
تیرھویں اور چودھویں صدی عیسوی میں آرسینک، اینٹیمنی، زنک اور بسمتھ دریافت ہوئے۔
پلاٹینم سولہویں صدی میں میکسیکو میں ہسپانیوں نے دریافت کیا۔
8,000 سال قبل سونے کی دریافت کے بعد سے سترھویں صدی تک یعنی 7700 سال تک انسان صرف 12 دھاتوں سے واقف تھا۔
انیسویں صدی سے پہلے تک انسان صرف 24 دھاتوں سے واقف تھا جن میں سے 12 اٹھارویں صدی میں دریافت کی گئیں تھیں۔
اکیسویں صدی میں انسان 88 دھاتوں سے واقف ہے، جن کی مدد سے ہزاروں طرح کے بھرت بنائے جاتے ہیں۔
لوہے کی ایجاد سے پہلے دریافت ہونے والی ساری دھاتیں (سونا،تانبا، چاندی، سیسہ اور قلعی) اتنی نرم ہوتی ہیں کہ ان سے کارآمد اوزار اور ہتھیار نہیں بنائے جا سکتے۔ لیکن 5000 سال قبل انسان یہ دریافت کر چکا تھا کہ تابنے اور قلعی کو ملانے سے جو دھات حاصل ہوتی ہے (یعنی کانسی) وہ ان دونوں اجزا سے کہیں زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اگر کانسی میں قلعی کی مقدار دس فیصد سے زیادہ ہو تو کانسی میں پھوٹک پن آ جاتا ہے یعنی چوٹ لگنے سے یہ تڑک کر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے ایسی کانسی اوزار اور ہتھیار بنانے کے لیے تو موزوں نہ تھی مگر سکے بنانے کے لیے بہت استعمال ہوتی تھی۔ دو یا تین فیصد آرسینک یا اینٹیمنی ملانے سے کانسی کی سختی اور بھی بڑھ جاتی ہے اور ہتھیاروں کی دھار زیادہ پائیدار ہو جاتی ہے۔
منقول