19/03/2026
یہ غیر معمولی ہے اور جنگ خطرناک رخ کی طرف جارہی ہے۔ اب سے کچھ دیر پہلے ایران اور قطر کی مشترکہ South Pars Gas Field پر امریکہ و is رائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا ہے۔ ہم تو گیس فیلڈ میں سب سے بڑا hazard ہی آگ کو سمجھتے ہیں۔ کسی صورت آگ نہ لگے صرف اس پر ہی کمپنیاں اپنا ایک بہت بڑا بجٹ مختص کرتی ہیں۔جہاں آگ سب سے بڑا خطرہ ہو وہاں پہ ہی بارود گرادئے۔ اثرات سمجھ رہے آپ؟ عربوں کا تو سارا خطہ گیس پر مشتمل ہے، بات کہاں رکے گی۔۔۔اللہ خیر کرے۔ اس پہ خود قطر اور پھر ایران نے کیا ردعمل دیا ہے وہ آگے جاکے بتاتے ہیں لیکن پہلے واقعہ اور اسکے اثرات سمجھ لیں۔ جو جنگ اور عالمی حالات پر نظریں رکھے ہوئے ہیں انہیں یہ مکمل پڑھنا چاہئیے اور دوسروں تک بھی پہنچانا چاہئیے۔
ایران کے ساحل پر، خلیج فارس کے کنارے وہ جگہ جہاں سے دنیا کی توانائی کی سانسیں نکلتی ہیں…آج وہاں آگ جل رہی ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ South Pars Gas Field— دھماکوں کی آواز سے گونج اٹھی ہے۔ سچ یہ کہ شعلے صرف زمین سے نہیں اٹھے… بلکہ عالمی انرجی سسٹم کے اندر تک ہلچل مچا گئے ہیں ۔
تازہ اطلاعات کے مطابق، امریکی اور اس۔۔۔رائی۔۔لی مشترکہ فضائی حملے میں گیس اسٹوریج ٹینکس کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ ایران کے جنوبی شہر “عسلویہ” میں ہوا، جہاں اس فیلڈ کی سب سے اہم تنصیبات موجود ہیں۔
اس ایک حملے نے صرف آگ ہی نہیں لگائی… بلکہ پیداوار کو بھی جھٹکا دیا۔ دو بڑی ریفائنریز، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 100 ملین مکعب میٹر روزانہ تھی، اچانک بند ہو گئیں۔ یعنی وہ گیس جو کل تک صنعتوں اور گھروں تک جا رہی تھی… آج رک چکی ہے۔
اور یاد رکھیں… یہ کوئی عام فیلڈ نہیں۔
یہ وہی زیرِ سمندر پھیلا ہوا خزانہ ہے جس کا ایک حصہ ایران کے پاس ہے اور دوسرا قطر کے پاس، جہاں اسے “نارتھ فیلڈ” کہا جاتا ہے۔ دنیا کے تقریباً 20 فیصد گیس ذخائر اسی جگہ موجود ہیں۔ یہاں سے نکلنے والی گیس صرف ایران یا قطر کی نہیں… بلکہ یورپ، ایشیا اور دنیا کے کئی خطوں کی زندگی کا ایندھن ہے۔
اسی لیے یہ حملہ صرف ایک ملک پر نہیں… بلکہ توانائی کے عالمی نظام پر براہِ راست وار سمجھا جا رہا ہے۔
قطر نے ایران کے South Pars Gas Field سے جڑی گیس تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، اور اسے خطرناک قرار دیا ہے۔ قطر کے دفتر خارجہ نے کہا کہ توانائی کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی سکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
جبکہ ایران کے نیوی کمانڈر علیرضا تنگسری نے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد کہا ہے کہ ہدف کی نشاندہی کے بعد، امریکہ سے جڑی تیل کی تنصیبات اب امریکی اڈوں کے برابر ہیں اور مکمل طاقت کے ساتھ نشانہ بنیں گی اور ہم شہریوں اور کارکنوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ ان تنصیبات سے دور رہیں۔
دھماکوں کے بعد آگ نے گیس ٹینکس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ بڑے بڑے اسٹوریج ٹینکس، جو کل تک توانائی کو محفوظ رکھتے تھے، آج خود شعلوں میں جلتے ہوئے ایک خطرناک پیغام دے رہے ہیں… کہ جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ادھر خطے میں ایک خاموش خوف پھیل رہا ہے۔
سعودی عرب، یو اے ای اور قطر کی انرجی تنصیبات پر بھی خطرے کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ سلسلہ بڑھا… تو پورا خلیجی انرجی نیٹ ورک ہل سکتا ہے۔
سوچیں… اگر صرف دو ریفائنریز بند ہونے سے 100 ملین مکعب میٹر روزانہ گیس رک سکتی ہے… تو اگر یہ آگ مزید پھیلی تو کیا ہوگا؟
قیمتیں بڑھیں گی… سپلائی کم ہوگی… LNG مہنگی ہوگی… اور وہ ممالک جو درآمدی گیس پر چلتے ہیں، وہاں اندھیرا بڑھ جائے گا۔
کہیں یورپ کی فیکٹریاں سست پڑیں گی… کہیں ایشیا کے شہر مہنگی بجلی کا بوجھ اٹھائیں گے… اور کہیں کراچی میں ایک عام آدمی اپنے چولہے اور بجلی کے بل کے درمیان الجھ جائے گا۔
یہ صرف ایک دھماکہ نہیں… یہ ایک اشارہ ہے۔
کہ جب جنگ انرجی کے دل تک پہنچ جائے… تو اس کی آگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں رہتی… بلکہ پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ حملہ کہاں ہوا…
سوال یہ ہے کہ اس کے اثرات کہاں تک جائیں گے…؟
سوال یہ ہے کہ کیا اب کے لارنس آف عربیہ خفیہ کے بجائے اعلانیہ آگیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں جنگوں کے بھی کوئ اصول باقی رہ گئے ہیں؟