Beautiful Hassan Abdal And Wonderful Pakistan

Beautiful Hassan Abdal And Wonderful Pakistan Hassan Abdal is a historic town. It is located where the Grand Trunk Road meets the Karakoram Highway near the Khyber Pakhtunkhwa.40 km northwest of Rwp.

11/10/2017
18/07/2016
19/04/2016
lala rukh tangi mein tamirati kam jari hai
19/04/2016

lala rukh tangi mein tamirati kam jari hai

:(
15/04/2016

:(

06/04/2016

تاریخی شہر حسن ابدال اپنے اندر واقع بہت سی پُرانی یادگاروں کو سمیٹے ہوئے ہے جن میں سے ایک حسن ابدال کی پہاڑی کی چوٹی پر واقع قادری سلسلے کے عظیم بزرگ حضرت بابا ولی قندھاری کی بیٹھک (چلہ گاہ) بھی ہے۔
حضرت بابا ولی قندھاری عرف بابا حسن ابدال کا اصل نام سید جمال اللہ حیات تھا وہ
سن 1476 یعنی آج سے 540 سال پہلے افغانستان کے صوبے قندھار میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد کا نام سید تاج الدین ابوبکر عبدالرزّاق تھا۔
بابا ولی قندھاری پانچویں صدی ہجری کے عظیم بزرگ اور سلطان الاولیٔا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی المعروف غوث الاعظم علیہ الرحمہ کی پانچویں نسل سے ہیں۔

افغانستان کا صوبہ قندھار پورے ملک کا دوسرا بڑا صوبہ اور علاقہ سمجھا جاتا ہے ان دنوں ہندوستان میں دہلی سلطنت کے آخری فرماں روا ابراہیم خان لودھی کی حکومت تھی اور افغانستان میں ابھی تیموری سلطنت قائم تھی یعنی افغانستان اور برصغیر میں مغلیہ سلطنت (سن 1526 ) قائم نہیں ہوئی تھی ۔
چنانچہ بابا ولی قندھاری سن 1498 میں قندھار سے حسن ابدال چلے آئے اور حسن ابدال کی پہاڑی پر اپنی بیٹھک قائم کی جہاں وہ اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔

حضرت بابا ولی قندھاری نے اپنی زندگی کے کئی سال حسن ابدال کی اس پہاڑی پر گزارے پہاڑی کے علاوہ ان کی ایک اور ایک چلہ گاہ بھی پہاڑی کے دامن میں شہزادی لالہ رُخ کے مقبرے اور گردوارہ پنجہ کے بالکل سامنے واقع ہے۔
حضرت بابا ولی قندھاری کے حسن ابدال آمد کے 23 سال بعد سن 1521 میں سکھوں کے عظیم پیشوا بابا گرونانک مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہوئے گرمیوں کے موسم میں حسن ابدال پہنچے۔

جہاں سکھوں کے نظریے کے مطابق بابا گرونانک کے لوگوں نے بابا ولی قندھاری سے پانی مانگا کیونکہ ان دنوں پانی صرف پہاڑ کی چوٹی پر دستیاب تھا، چنانچہ بابا ولی قندھاری نے نہ صرف پانی دینے سے انکار کیا بلکہ طیش میں آ کے ایک بڑا پتھر پہاڑ سے نیچے لُڑھکا دیا جس کو بابا گرونانک نے اپنے ہاتھ سے روک لیا اور ان کے ہاتھ کا نشان پتھر پہ ثبت ہو گیا۔
اس پتھر کو وہیں محفوظ کر کے ایک بہت بڑا گُردوارہ بنا دیا گیا جو اب گردوارہ پنجہ کے نام سے مشہور ہے اور ہر سال ہزاروں سکھ یاتری دنیا بھر سے اسی پتھر کو دیکھنے حسن ابدال آتے ہیں۔

حضرت بابا ولی قندھاری اپنی زندگی کے آخری ایام میں دوبارہ اپنے آبائی علاقے قندھار (افغانستان) چلے گئے اور سن 1529 میں وہیں ان کا انتقال ہوا ۔ان کا مزار افغانستان کے صوبے قندھار میں ہے اور وہاں بھی زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔
حسن ابدال کی پہاڑی کی چوٹی پر واقع بابا ولی قندھاری علیہ الرحمہ کی یہ چلہ گاہ اب ایک سیاحتی مقام کی حیثیت اختیار کر گئی ہے جس کو دیکھنے کے لئیے دور دراز سے لوگ پیدل پہاڑی کا سفر طے کرتے ہیں ۔ زائرین کی سہولت کے لئیے اب پہاڑی پہ چڑھنے
کے لئیے سیڑھیاں بنا دی گئی ہیں۔

ایک غلطی کا ازالہ : بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حسن ابدال کی پہاڑی کی چوٹی پر بابا ولی قندھاری کا مزار (قبر) ہے تو یہ بات سراسر غلط ہے کیونکہ یہاں ان کا مزار نہیں صرف چلہ گاہ ( بیٹھک) ہے اور اس بیٹھک میں کہیں بھی قبر کا وجود نہیں
حتیٰ کہ انتظامیہ کی لاپرواہی اور جاہلیت کی حد یہ کہ چلہ گاہ کے باہر مزار شریف کی تختی نصب کی ہوئی ہے جو کہ بالکل غلط ہے درحقیقت ان کا مزار قندھار (افغانستان) میں واقع ہے اور وہ وہیں مدفون ہیں۔

Address

GTroad
Hassan Abdal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Beautiful Hassan Abdal And Wonderful Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share