24/01/2026
انسانی حقوق کی علمبردار ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی حالیہ گرفتاری نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ یہ فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔
یہ جابر حکومت آخر کتنی زبانوں پر تالے لگائے گی؟ آوازیں دبانے سے حق کا سفر نہیں رکتا۔ یاد رہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ تم ایک ایمان مزاری کو قید کرو گے تو ہر گھر سے ایک نئی آواز نکلے گی۔ حق گوئی کی اس صدا کو اب کوئی پابندِ سلاسل نہیں کر سکتا۔
مقتدر اشرفیہ یہ بات کان کھول کر سن لے: تاریخ گواہ ہے کہ جب عوامی غیظ و غضب کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے، تو بڑے بڑے ایوان تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔ تمہاری قید و بند کی یہ دیواریں اب شعور کے طوفان کو نہیں روک پائیں گی۔ یاد رکھو، ظلم کی رات جتنی بھی کالی ہو، اسے مٹنا ہی ہوتا ہے، اور تم اس عوامی احتساب سے اب بچ نہیں پاؤ گے۔"