سیاسی و سماجی

سیاسی و سماجی یہ پیج سیاسی و سماجی مسائل کی نشان دہی کے لیے ہے
(272)

مہنگائی 7 سال نہیں 70 سال کی کم ترین سطح پر ہے اندازہ لگائیں اس فوجی دلال میڈیا کاروٹی: 2022 میں 10 روپے،2024 میں 25 روپ...
07/01/2025

مہنگائی 7 سال نہیں 70 سال کی کم ترین سطح پر ہے اندازہ لگائیں اس فوجی دلال میڈیا کا

روٹی:
2022 میں 10 روپے،
2024 میں 25 روپے

انڈے
: 2022 میں 150 روپے فی درجن،
2024 میں 330روپے

ٹماٹر:
2022 میں 50 روپے فی کلو،
2024 میں 240 روپے

پیٹرول
: 2022 میں 150 روپے فی لیٹر،
2024 میں 253روپے

ڈالر:
2022 میں 170 روپے،
2024 میں 280 روپے

چکن:
2022 میں 300 روپے فی کلو،
2024 میں695 روپے

بجلی کا بل ۔
2022 میں 300 یونٹ 3000 روپے
2024 میں 20000 روپے

گیس کا بل۔

2022میں 150 روپے
2024میں 1100 روپے۔۔۔

بچوں کی وین کا کرایہ
2022 میں 1500 روپے
20240میں 5000 روپے

بکرے کا گوشت
2022 میں 1000روہے کلو
2024 میں 2500روہے کلو۔۔

کھانے کا تیل
2022 میں 150 روپے لیٹر
2024 میں, 650 روپے لیٹر۔۔

دودھ
2022 میں 120 روپے لیٹر
2024 میں 220 روپے لیٹر

چاۓ
2022 میں 900 روپے کلو
2024 میں 1800 روپے کلو۔۔

خشک دودھ ایوری ڈے
2022 میں 950 روپے
2024 میں 1800 روپے

سریا
2022 میں 115000روپے ٹن
2024 میں 265000 روپے ٹن

سیمنٹ
2022 میں 540 روپے فی بوری
2024 میں 1500 روپے فی بوری

19/07/2024

اپنی اپنی تاریخ !!!

تاریخ اگر بھٹو کی اولاد یا پیپلز پارٹی والے لکھیں تو اپنے آپ کو کربلا کے بعد دنیا کے مظلوم ترین لکھیں گے اور ضیا الحق کو یزید، شمر، ابن زیاد لکھیں گے۔ ایک زرداری سب پر بھاری اور زرداری کو سیاست کا امام لکھیں گے جس نے بی بی کی موت کے بات حکومت بنا کر پاکستان کی سالمیت کو خطرے سے بچایا۔ بلاول کی شکل میں بھٹو کا دوسرا جنم بتائیں گے۔

اور اگر مؤرخ ن لیگ کا عرفان صدیقی ہوا جس پر دانشور ہونے اور صحافی ہونے کا بھی الزام ہے وہ لکھے گا امیر المومنین نواز شریف حق پر تھے بھٹو انگریزوں کے کتے نہلاتا تھا شرابی تھا غدار تھا اسکی بیٹی ساحلوں پر ننگی پھرتی تھی اسلام کی دشمن تھی۔ نواز شریف نے جو خدمت اور ترقی پاکستان کو دی وہ نہ کوئی پہلے کر سکا نہ کوئی رہتی دنیا تک کر سکے گا۔ نواز شہباز ایمان داری ، محنت، سچائی محب وطنی کا دوسرا نام ہے۔

اور اگر تاریخ پی ٹی آئی والے لکھیں گے تو لکھیں گے عمران خان بہادر تھا اللہ کا ولی تھا درویش تھا ملنگ تھا
جو اسکی شان میں گستاخی کرتا زلیل وخوار رسوا ہوتا الیکشن ہارتا، پرویز خٹک ، علیم خان، جہانگیر ترین، عائشہ گلالئی، ریحام خان، نواز شریف، باجوہ سب نے عمران خان کو ستایا اور رکشہ چلایا یہ زندہ اور حاضر سروس ولی اللہ عمران خان کی کرامات تھیں۔ وہ اپنی خاتون پیر و مرشد بشری بی بی کا مرید بننے گیا اور بجائے مرید بننے کے بشری بی سی کا مجازی خدا بن گیا زندہ کرامت!!!
نعرہ تکبیر اللہ اکبر
نعرہ رسالت یارسول اللہ
یہ ہوتی ہے تاریخ، ہر ایک کی اپنی اپنی

ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب بات صرف 2014 کے دھرنے سے نہیں شروع ہوگی بلکہبات کشمیر میں فوج نہ بھیجنے سے شروع ہوگی بات قائداع...
08/05/2024

ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب بات صرف 2014 کے دھرنے سے نہیں شروع ہوگی بلکہ

بات کشمیر میں فوج نہ بھیجنے سے شروع ہوگی
بات قائداعظم کو شہید کرنے کی ہوگی
بات لیاقت علی خان کی شہادت پر بھی ہوگی
بات بنگالیوں کو فروری 1951 میں شہید کرنے پر ہوگی
بات ایوب کے مارشل لاء پر ہوگی
بات 1962 میں کشمیر فتح نہ کرنے پر ہوگی
بات تاشقند معاہدے پر ہوگی
بات بنگلہ دیش میں مظالم پر ہوگی
بات 71 میں ہتھیار ڈالنے پر ہوگی
بات ضیاء کے مارشل لاء پر ہوگی
بات بھٹو کو پھانسی دینے پر ہوگی
بات افغان وار میں پراکسی بننے پر ہوگی
بات آئی جے آئی بنانے پر ہوگی
بات آصف جنجوعہ کی موت پر ہوگی
بات مشرف کے مارشل لاء پر ہوگی
بات افغان جنگ پر ہوگی
بات ڈالروں کے عوض ڈرون حملوں پر ہوگی
بات پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض امریکیوں کو بیچنے پر ہوگی
بات ملک پر دہشتگردی مسلط کرنے پر ہوگی
بات احسان اللہ احسان کے فرار پر ہوگی
بات ایک لاکھ پاکستانیوں کی شہادت پر ہوگی
بات نواز شریف کو فرار کروانے پر ہوگی
بات رجیم چینج پر ہوگی
بات ارشد شریف کی شہادت پر ہوگی
بات ججز کے بیڈ رومز میں کیمرے لگانے پر ہوگی
بات بلوچستان میں لشکر کشی پر ہوگی
بات اکبر بگٹی کی شہادت پر ہوگی
بات سندھ میں 79 سے 83 تک قتل عام پر ہوگی
بات بینظیر کی شہادت پر ہوگی
بات ڈاکٹر شازیہ کے ریپ پر ہوگی
بات لاپتہ بلوچوں/پاکستانیوں کی ہوگی
بات باجوے اور جرنیلوں کی کرپشن کی ہوگی
بات کیانی کے جزیروں کی ہوگی
بات فوجی افسران کو زمین الاٹ کرنے پر ہوگی
بات بھارت کی پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کی ہوگی
بات ڈی ایچ اے پر ہوگی اور فوج کے کاروبار پر ہوگی
بات سلالہ چوکی پر امریکی حملے پر ہوگی
بات کارگل پر ہوگی
بات ایبٹ آباد آپریشن اسامہ بن لادن پر ہوگی
بات مہران بیس پر حملے میں ملوث فوجی افسران پر ہوگی
بات کشمیر کو بھول جانے پر ہوگی
بات حلف اٹھا کر پاسداری نہ کرنے پر ہوگی
بات فوج کی کرپشن پر ہوگی
بات منشیات اسمگلنگ بارڈر سے (بشمول بحری اور ہوائی) پر ہوگی

اگر تم بات کرسکتے ہو تو آو نا بات کرتے ہیں جس موضوع پر چاہو گے اسی پر بات ہوگی! بنا لو کمیشن۔

‏سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں ISI کے سربراہ نے خود بیان حلفی دیا کہ الیکشن میں آئی ایس آئی/فوج نے پیسے بانٹے۔جنرل باج...
08/05/2024

‏سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں ISI کے سربراہ نے خود بیان حلفی دیا کہ الیکشن میں آئی ایس آئی/فوج نے پیسے بانٹے۔
جنرل باجوہ نے پبلک میڈیا پر کہا تھا کے ہم بہتر سال سیاست میں ملوث رہے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کے سیاست میں ملوث نہیں ہووں گے۔
اور 3 بار اعلانیہ مارشل لا انڈین / امریکی فوج نے لگائے تھے؟ وہ آئین توڑنا اور سیاست میں مداخلت نہیں؟

باقی عوام سب سمجھتی ہے اب

‏ایک اور انتہائی غریب بے روزگار ریٹائیرڈ جرنیل کو نوکری مل گئی۔۔۔۔الحمداللہ 🙂🤗
01/05/2024

‏ایک اور انتہائی غریب بے روزگار ریٹائیرڈ جرنیل کو نوکری مل گئی۔۔۔۔الحمداللہ 🙂🤗

01/05/2024

جب بھی کوئی ادارہ جاتی ملازم مجھے سرحدوں کی حفاظت اور قربانیوں کی تفصیل بتا کر جتانا چاہتا ہے کہ ان کے دم سے ہی ملک قائم ہے نجانے مجھے کیوں ہنسی آ جاتی ہے۔

سنہ 48 میں بھارت نے کشمیر میں فوج اتاری تو آرمی چیف ڈیوڈ کریسی نے بھارتی فوج کے مقابل اترنے کے لیے جناح کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ مجبوراً جناح صاحب کو قبائل سے اپیل کرنا پڑی اور جو ایک تہائی کشمیر آزاد کشمیر کی صورت ہمارے پاس ہے وہ قبائل کی جنگی کاوشوں کے مرہون منت ہے۔

سنہ 65 میں جوانوں نے آپریشن جبرالٹر شروع کیا اور کشمیر میں مجاہدین کی ٹولیاں گھسا دیں۔ کشمیر میں درگاہ حضرت بل کی بے حرمتی کے سبب وہاں غصے کی لہر ابھری تھی۔ جوانوں نے اس موقع پر چوکا لگانے کا سوچا۔ اس آپریشن کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ بر سر پیکار کمانڈوز اور سول جنگجوؤں کو عقب سے کمک پہنچانے اور سرینگر پر قبضے تک اس آپریشن کو جاری رکھنے کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ غزنوی فورس نامی ٹولی جو ميجر منور کی کمان ميں راجوری کے علاقے ميں داخل کی گئی اس نے کچھ اہداف حاصل کر لئے مگر بھارتی فوج کے سامنے زیادہ دن نہ ٹک سکی۔شدید جانی نقصان کے بعد پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ اسی آپریشن جبرالٹر کے نتائج خطرناک نکلے اور اسی آپریشن کے بطن سے 1965 کی پاک بھارت جنگ برآمد ہوئی۔بھارت نے پنجاب اور راجھستان کے بارڈرز کھول دئیے اور پاکستان پر فل سکیل جنگ مسلط کر دی۔

پینسٹھ کی جنگ سترہ دن جاری رہنے کے بعد سیز فائر پر منتہج ہوئی۔ تاشقند میں لال بہادری شاستری اور ایوب خان میں معاہدہ ہوا اور جنگ بندی ہوئی۔ یہ جنگ نہ کوئی جیتا نہ ہارا۔

سنہ 71 میں بنگالیوں کو “سبق” سکھانے کے لیے آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا گیا۔ پاک فوج کا خیال تھا کہ بنگالی ڈرپوک قوم ہیں ان کو زور بازو سے توڑا جا سکتا ہے۔ سیاسی غیر یقینی سے جنم لینے والے اس آپریشن کا انجام دردناک ثابت ہوا۔بنگالیوں پر جبر کا نتیجہ “مکتی باہنی” نامی فورس کی صورت سامنے آیا جس نے پاک فوج کے خلاف چھاپہ مار جنگ کا آغاز کیا۔ بلآخر بھارتی فوج نے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے دخل اندازی کی اور یوں نہ صرف بنگلہ دیش نامی ملک وجود میں آیا بلکہ افواج کی عالمی تاریخ میں سب سے بڑا سرنڈر ہوا۔ نوے ہزار فوجی بھارت کی قید میں چلے گئے۔ شملہ معاہدہ میں بھٹو صاحب نے اندرا گاندھی سے منت کی اور ان نوے ہزار فوجی قیدیوں کی واپسی کی راہ کھُلی۔

سنہ 99 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی واہگہ کے راستے پاکستان آئے۔ اس وقت بھارت کی معاشی صورتحال سخت خراب تھی۔ بھارتی کرنسی پاکستانی روپے سے نیچے تھی۔ بھارت کے ذخائر ڈیڑھ ارب ڈالرز رہ گئے تھے جبکہ پاکستان کے ریزرو میں ساڑھے تین ارب ڈالرز موجود تھے۔ واجپائی صاحب چاہتے تھے کہ پاکستان سے تجارت شروع کی جائے تاکہ دونوں ملکوں کا بھلا ہو۔ سیاچن محاذ کو بند کیا جائے اور کشمیر کے دیرپا حل واسطے مذاکرات کا آغاز ہو۔

جیسے ہی واجپائی دورہ مکمل کر کے واپس لوٹے ہمارے جوانوں نے کارگل محاذ کھول دیا۔ ایک بار پھر آپریشن جبرالٹر جیسی غلطی دہرائی گئی۔ ایک بار پھر اس کا نتیجہ بھیانک نکلا۔ ہزاروں سول جنگجوؤں کے ساتھ فوجی جوان بھی پسپائی اختیار کرتے مارے گئے۔ نواز شریف نے تو یہ کہا تھا ناں کہ مشرف نے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا مگر واجپائی نے کہا تھا “ پاکستانی فوج نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا”۔ بھارتی سرکار جانتی ہے کہ پاکستان میں اصل حکمرانی کون کرتا ہے۔

قدرت کا نظام بھی کمال ہے۔ ہم نے واجپائی کے ساتھ دھوکا کیا قدرت نے وہاں مودی لا بٹھایا جو فاشسٹ حکمران ہے اور آج انڈیا معاشی ترقی کرتا عروج پر پہنچ رہا ہے۔ ہمارا کیا حال ہے وہ آپ اچھے سے جانتے ہیں۔

شاعر افکار علوی کی نظم کا ایک شعر ہے ناں

مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے
مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی

تحریر: مہدی بخاری

26/04/2024
02/04/2024

‏"تصور کریں کہ آپ درخواست لیکر عدالت جائیں کہ ویگو والے ہمارا بندہ چُک کے لے گئے نیں، آگے سے جج کہے کہ کوئی گل نہیں ساڈا وی چُک کے لے گئے نیں" کاشف عباسی

02/04/2024

"نیچرل سیکس، پورن اڈکشن + ماسٹربیشن"

نیچرل سیکس میں آپ ایک لمٹ میں رہتے ہو جبکہ پورن اڈکشن +ماسٹربیشن کی کوئی لمٹ نہیں۔
پورن + فیپ ایک fake pleasure ہے۔ آپ سمارٹ فون کی سکرین پر دیکھ کر شہوت پوری کرنے کے جب عادی ہوجاتے ہو تو نیچرل سیکس آپ کو مصنوعی لگنے لگتا ہے۔

اصلی سیکس میں پیار محبت کے احساس ہوتے ہیں جبکہ Pmo میں آپ کی فرسٹریشن عارضی طور پر رلیز ہوتی ہے۔ جب ایک انسان سیکس کو فرسٹریشن ریلیز کرنے کا ذریعہ بنائے تو وہ ایک درندہ صفت بن جاتا ہے۔ مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔

یہ ٹاپک آپ کو تبھی سمجھ آئے گا جب آپ نپولین ہل کی کتاب "تھنک اینڈ گرو رچ" (جو دنیا کی سب سے بیسٹ سیلف ہیلپ کتاب ہے) کا گیارواں چپٹر
Mystery of s*x Transmutation
پڑھیں گے۔

اگرچہ ریل سیکس اور مشت زنی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نیچرل سیکس میں بھی بے اعتدالی سے کام لینا شروع کر دیں۔
ایک جینیس انسان سیکس کی طاقت کو صرف ضرورت مقاصد جیسا کہ اپنی نسل آگے بڑھانے میں، اور دیگر تخلیقی کاموں میں استعمال کرتا ہے۔
پھر نوفیپ و پورن اڈکشن پر سٹڈی کے اعداد و شماریات بتاتے ہیں کہ مشت زنی نوے فیصد کیسز میں پورن دیکھ کر ہی کی جاتی ہے۔ جو انتہائی بھیانک نشہ ہے۔
پورن +مشت زنی کسی بھی طاقت ور نشے کی طرح ایک انسان کے دماغ سے غیر فطری مقدار میں ڈوپامین ریلیز کروانے کا سبب بنتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اسے مسرت اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔ چونکہ اس سے ملنے والا ریوارڈ اس کے روز مرہ کاموں، سیر و تفریح ،کھانا کھانے اور معاشرتی تعلقات بنانے سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے اس لئے ایسے شخص کا دل آہستہ آہستہ سب کاموں سے اچاٹ ہونے لگتا ہے۔ پورن کے علاوہ کوئی بھی چیز اسے خوش نہیں کرتی۔
اسے اچھا رزلٹ آنے پر بھی خوشی نہیں ہوتی
اچھا کھانا کھا کر بھی مزا نہیں آتا
شادی بیاہ وغیرہ کی تقریبات میں وہ کھویا کھویا اور اداس رہتا ہے۔
بڑی سے بڑی اچیومنٹ بھی اس کا موٹیویشن لیول ہائی نہیں کرتی
اس لئے کہ اب پورن ہی اس کی خوشی ہے، مسرت ہے ، آزادی کا احساس بخشتا ہے، سکون آور ہے ، اور احساس تکمیل جو پہلے کسی کام کو کرنے سے ملتا تھا، وہ بھی دیتا ہے۔
ایسے شخص کے لئے کسی بٹے کام کو کرنا تو درکنار اس کی خواہش پالنا بھی ممکن نہیں رہتا، اچیومنٹ، مقابلے جیتنے کی خواہش، بزنس جاب کرنے کی موٹیویشن اس میں ناپید ہونے لگتی ہے کیونکہ ان سب سے زیادہ خوشی اور اطمینان پورن، مشت زنی اور اکیلے میں آتا ہے۔

‏1۔ عاصم منیر نے بحیثیت کور کمانڈر گوجرانوالہ میں ماسٹر ٹائلز کے مالک سے 90 کروڑ کا بھتہ مانگا تھا۔ اس بھتہ کا علم مبینہ...
02/04/2024

‏1۔ عاصم منیر نے بحیثیت کور کمانڈر گوجرانوالہ میں ماسٹر ٹائلز کے مالک سے 90 کروڑ کا بھتہ مانگا تھا۔ اس بھتہ کا علم مبینہ طور پر آرمی چیف کو بھی تھا۔
2۔ ماسٹر ٹائلز کے مالک نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا۔
3۔ عمران خان نے جنرل باجوہ سے بات کی۔
4۔ جنرل باجوہ نے گونگلو سے مٹی اتارنے کے لئے عاصم منیر کو برطرف کرکے کوارٹر ماسٹر (کیو ایم جی) بنا دیا۔
5۔ بعد میں، ریٹائرمنٹ کے بعد، باجوہ کے سسر اور شریف خاندان کے تعاون سے، عاصم منیر COAS بن گئے، یہ اقدام پاکستانی انٹیلی جنس کمیونٹی کے مطابق امریکہ کی آشیرباد سے ہوا۔ 6. COAS بننے کے بعد، عاصم منیر نے ماسٹر ٹائل کے مالک کو جعلی الزامات کے تحت جیل میں ڈال دیا۔

یہ ہے فوجستان کی ایک عام سی کہانی

02/04/2024

روٹی/کاربوہائیڈریٹ کا نقصان کیا ہے؟
روٹی بنیادی طور پر pure carbohydrate ہے ۔ ہم جتنا کاربوہائیڈریٹس کھاتے ہیں وہ ہمارے جسم میں گلوکوز میں convert ہو جاتا ہے اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہم چینی کھائیں یا کاربوہائیڈریٹس دونوں ہمارے جسم میں جا کر چینی بن جاتے ہیں ۔کاربوہائیڈریٹس دو طرح کے ہوتے ہیں کمپلیکس اور refined ۔ complex carbohydrates فوراً ہضم نہیں ہوتے انکو گلوکوز بننے میں وقت لگتا ہے تو اس سے خون میں گلوکوز کی مقدار فوراً نہیں بڑھتی جب کہ چینی یا میٹھا کھانے سے یہ فوراً خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھا دیتا ہے ۔ refined carbohydrates بلکل چینی کی طرح ہی خطرناک ہوتے ہیں ۔ اب چاہے آپ کو شوگر کا مرض ہو یا نہ ہو ۔ آپ کے لبلبے کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے زیادہ انسولین بنانا پڑتی ہے تاکہ خون میں موجود زیادہ گلوکوز کو burn کیا جا سکے اور انرجی بنائی جا سکے ۔ جب آپ کے خون میں انسولین کی مقدار لگاتار زیادہ رہنے لگتی ہے تو آپ کے خلیوں کے اندر انسولین کے خلاف resistance پیدا ہو جاتی ہے جس کہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زیادہ انسولین بھی آپ کے جسم میں موجود گلوکوز کو انرجی میں کنورٹ نہیں کر سکتی ۔ آپ کا لبلبہ یا pancreas بھی انسولین بنا بنا کر تھک جاتا ہے اور طرح آپ کے خون میں گلوکوز کی مقدار ہمیشہ زیادہ رہنے لگتی ہے جیسے ہم شوگر کا مرض یا diabetes بولتے ہیں اس لیے اگر آپ چینی اور کاربوہائیڈریٹس کا روزآنہ زیادہ استعمال کرتے ہیں تو بالآخر آپ کو شوگر ہو جاتی ہے اور آپ ساری زندگی ذیابیطس کے مریض بن جاتے ہیں ۔ اور ذیابیطس کی بیماری تمام بیماریوں کی ماں ہے اس لیے آپ روٹی چاول میدے کی بنی چیزیں پیزا پاستا سموسے پکوڑے پراٹھے مٹھائیاں کیک پیسٹری بسکٹ وغیرھ کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ آپ کے خلیوں میں انسولین کے خلاف resistance پیدا نہ ہو اس لیے آپ کو کاربوہائیڈریٹ کم کھائیں زیادہ سے زیادہ exercise۔کریں ۔

Address

Haroonabad Municipality

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سیاسی و سماجی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category