Chak 22/3R, Haroonabad

Chak 22/3R, Haroonabad Chak 22/3R, Haroonabad Chak 22/3.R is a beautiful village situated near the city haroonabad.

It is 7 Km far from city haroonabad on 23-24 Leleka Road (from haroonabad to chistian). Mostly peoples living there do cultivation agriculture, herding.The main casts are mehar(araien), mughal, and joyia.The peoples living there are nice. The well known personalities are Yaqoob Mehar(The great wrestler and champion of Kabaddi he wined many matches onn national level), Ghulam Rasool (Now he moved t

o city haroonabad), Chaudhary Azeem Mehar(ex member & chairman), Zikar mehar,Hanif mehar, Afzal Mehar, Syed Sajjad Sha, Ch Maqsood Mughal. The neighbour villages are 21/3.R, 47/3.R, 14/1.R, 15/1.R, 10/1.R,18,1.R and 23-24 Laleka(The village of the great politician Mian Abdul Star Lelaka, and Mian Alam Ali lelaka, Mian Imtiaz Ali Laleka,)

06/06/2018

گاؤں کے ایک نوجوان نے جب شہر منتقل ہونے کے واسطے زمین بیچنے کی بات کی تو اس کے بڑوں نے روایتی جذباتی جملہ بولا: زمین ماں کی طرح ہوتی ہے، ماں نوں ویچی دا نئیں ہندا۔

نوجوان نے تلملا کر پوچھا: ماں نوں ٹھیکے چاڑھنا ٹھیک اے!؟ 😆😂

10/01/2017

"مطلب پرست"(جس نے بھی لکھا سچ لکها)

ڈاکٹر نے جب میرے والد کے حقے پر پابندی لگائی تو
یہ خبر میرے والد کے لیے صورِ اسرافیل کی حیثیت رکھتی تھی‘ یہ پریشان ہو گئے لیکن ڈاکٹر کا فیصلہ عدالتی فیصلہ تھا۔
میرے والد ڈسپلن کے بھی انتہائی سخت ہیں‘ یہ جب کوئی بات ‘ کوئی چیز ٹھان لیتے ہیں تو یہ پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹتے‘ میرے والد نے حقے پر پابندی لگا دی‘ ہم لوگوں نے حقہ اٹھایا اور گودام میں رکھ دیا یوں دکان کی بڑی اٹریکشن اچانک ختم ہو گئی‘ حسن اتفاق سے انھیں دنوں ’’ایکس چینج‘‘کی ’’اپ گریڈیشن‘‘بھی شروع ہو گئی اور ہمارا فون بھی عارضی طور پر کٹ گیا یوں دکان کی دوسری اٹریکشن بھی ختم ہو گئی‘ ان اٹریکشنز کے خاتمے کے ساتھ ہی دکان کے رش میں کمی ہو گئی‘ لوگ دکان کے قریب پہنچ کر منہ نیچے کر لیتے تھے اور تیز تیز قدموں سے آگے نکل جاتے تھے‘ وہ لوگ جو روز صبح سویرے ہماری دکان پر آ کر بیٹھ جاتے تھے اور ان کی شام بھی اسی دکان پر ہوتی تھی وہ بھی اچانک غائب ہو گئے.
ہم جن کو والد کا انتہائی قریبی دوست سمجھتے تھے‘ جو لوگ ہمارے چاچا جی ہوتے تھے‘ جو گلی میں داخل ہو کر اونچی آواز میں چوہدری صاحب کا نعرہ لگاتے تھے اور جو گھنٹوں ہمارے والد کی تعریفیں کرتے تھے‘ وہ سب بھی غائب ہو گئے‘ ہم ان کی شکلیں تک بھول گئے‘ میرے والد سارا دن دکان پر اکیلے بیٹھے رہتے تھے‘ گاہک آتے تھے‘ منشی اور دکان کے کارندے گاہکوں کو ڈیل کرتے تھے لیکن وہ لوگ بھی میرے والد کے قریب نہیں جاتے تھے‘ وہ دور سے انھیں سلام کرتے تھے‘ رسید بنواتے تھے اور رخصت ہو جاتے تھے‘
میں اس وقت پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا‘ میرے کچے ذہن کے لیے یہ صورتحال ہضم کرنا مشکل تھا‘ میں ایک دن والد کے پاس بیٹھا اور میں نے ان سے پوچھا’’ابا جی آپ کے سارے دوست کہاں چلے گئے ہیں‘‘ میرے والد نے غور سے میری طرف دیکھا‘میری آنکھوں میں اس وقت آنسو تھے‘ میرے والد نے رومال سے میری آنکھیں صاف کیں‘ سر پر ہاتھ پھیرا اور بڑے پیار سے کہا’’بیٹا یہ لوگ میرے دوست نہیں تھے‘ یہ حقے اور ٹیلی فون کے دوست تھے‘ حقہ بند ہو گیا‘ ٹیلی فون کٹ گیا‘ یہ لوگ بھی کٹ گئے‘ یہ بھی بند ہو گئے‘ جس دن ٹیلی فون اور حقہ واپس آ جائے گا‘ یہ لوگ بھی اس دن واپس آ جائیں گے‘‘ میرے کچے ذہن نے یہ فلسفہ سمجھنے سے انکار کر دیا‘ میرے والد نے میرے چہرے کی گومگو پڑھ لی‘ وہ بولے بیٹا یاد رکھو اللہ تعالیٰ جب آپ کو کوئی نعمت دیتا ہے تو یہ نعمت اپنے ساتھ نئے دوست لے کر آتی ہے لیکن ہم نعمت کے ان دوستوں کو اپنا دوست سمجھ بیٹھتے ہیں‘ یہ ہماری بے وقوفی ہوتی ہے‘ یہ نعمت جس دن چلی جاتی ہے‘ یہ سارے دوست بھی رخصت ہو جاتے ہیں.
میرے والد نے اس کے بعد شاندار نصیحت کی‘ انھوں نے فرمایا ’’بیٹا آپ کا اصل کمال یہ ہو گا آپ نعمتوں کے دوستوں کو نعمتوں کا دوست رہنے دو‘ آپ ان لوگوں کو کبھی اپنا دوست نہ بننے دو‘ تم زندگی میں کبھی مایوس نہیں ہو گے‘‘
میرے والد نے فرمایا ’’بیٹا آپ کار کے دوستوں کو کار کا دوست سمجھو‘ کاروبار کے دوستوں کو کاروبار کا دوست سمجھو اور اپنے عہدے کے دوستوں کو عہدے کا دوست سمجھو‘ ان لوگوں کو کبھی اپنے دل تک نہ پہنچنے دو‘تمہارا دل کبھی زخمی نہیں ہو گا‘ تم کبھی خون کے آنسو نہیں روؤ گے‘‘۔

15/10/2016

آج کورٹ میں ایک عجیب مقدمہ چل رہا تھا، ایک دیہاتی نے توپ کے لائسنس کیلئے درخواست دی تھی، اور یہ دیکھنے ہزاروں کی بھیڑ اور میڈیا کورٹ میں موجود تھے.
جج دیہاتی سے: یہ تم نے توپ کے لائسنس کے لئے درخواست پورے هوش و حواس میں دی ہے؟
دیہاتی – جی ہاں جج صاحب
جج – کیا تم عدالت کو بتاؤ گےکہ یہ توپ تم کہاں اور کس پر چلانے والے ہو.
دیہاتی – جج صاحب
گزشتہ سال میں نے اپنے دیہی بینک میں 1 لاکھ روپے کے بے روزگار لون کیلئے درخواست دی، بینک والوں نے پوری جانچ پڑتال کر کے میرے لیئے10 ہزار روپے کا لون منظور کیا.
اس کے بعد میری بہن کی شادی کے لیئے میں نے راشن سے 100 کلو شکر کے لئے درخواست کی اور مجھے راشن سے صرف 10 کلو شکر ملی.
ابھی کچھ دن پہلے جب میری فصل شدید بارشوں کے نتیجہ میں آنے والے سیلاب میں ڈوب گئی تو پٹواری نے میرے لئے 50 ہزار روپے کا معاوضہ منظور کرنے کی بات کرکے گیا اور میرے اکاؤنٹ میں صرف 5 ہزار روپے ہی آئے.
اس لئے اب میں سرکاری طریقہ کار کو بہت اچھے سے سمجھ گیا ہوں، مجھے تو بندر بھگانے کیلئے پستول كا لائسنس چاہیے تھا پر میں نے سوچا کی اگر میں پستول کے لائسنس کی درخواست کروں گا تو
مجھے کہی آپ غلیل کا لائسنس ہی نہ دے دیں، اس لئے میں نے توپ کے لائسنس کی درخواست دی ہے.

26/08/2016
04/12/2015
21/09/2014

Address

Haroonabad Municipality

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chak 22/3R, Haroonabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Chak 22/3R, Haroonabad:

Share