Jinnah Kids Campus Kot Gora Hafizabad

Jinnah Kids Campus Kot Gora Hafizabad Welcome to the Planet of success and Glory. A place of quality education on your doorstep. Jinnah Ki

High achievers in matric result 2k25
24/07/2025

High achievers in matric result 2k25

Matric result 2k25
24/07/2025

Matric result 2k25

30/04/2025
Limited offer till 20 April
28/03/2025

Limited offer till 20 April

Admission open for session 2k25
28/03/2025

Admission open for session 2k25

پاکستان میں ٹیلنٹ کا ضیاع – جب ایک پی ایچ ڈی ایڈمنسٹریٹر بن جاتا ہے!پاکستان میں تعلیم اور بیوروکریسی کا جو حال ہے، اس پر...
11/03/2025

پاکستان میں ٹیلنٹ کا ضیاع – جب ایک پی ایچ ڈی ایڈمنسٹریٹر بن جاتا ہے!

پاکستان میں تعلیم اور بیوروکریسی کا جو حال ہے، اس پر وہی محاورہ صادق آتا ہے: "اونٹ رے اونٹ، تیری کون سی کل سیدھی؟"۔ یہاں ایک بائیو کیمسٹری میں آسٹریلیا سے پی ایچ ڈی کرنے والا شخص اسسٹنٹ کمشنر بن کر بیٹھا ہے، اور ایک عام بی اے پاس بندہ کسی سرکاری یونیورسٹی میں پروفیسر لگا ہوتا ہے!

شانگلہ کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر محمد حامد صدیق اس کی زندہ مثال ہیں۔ آسٹریلیا جیسے ملک سے سائنس میں مہارت حاصل کرنے کے بعد وہ کسی ریسرچ سینٹر یا یونیورسٹی میں نوبل انعام جیتنے کے خواب دیکھنے کے بجائے زمینوں کے انتقال اور دکانداروں کو جرمانے کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں ٹیلنٹ اور وسائل کا قتلِ عام کیا جاتا ہے؟

اصل مسئلہ کیا ہے؟
پاکستان میں ہر سال ہزاروں ذہین طلبہ ڈاکٹر، انجینئر اور سائنسدان بنتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ سی ایس ایس یا پی ایم ایس کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، یہ ملک ایک اور قابل انسان سے محروم ہو جاتا ہے۔ کیا حکومت کو اندازہ بھی ہے کہ ان کی تعلیم پر جو اربوں روپے خرچ ہوئے، وہ ضائع ہو گئے؟

یہ مسئلہ صرف ڈاکٹر حامد صدیق تک محدود نہیں، ہر سال درجنوں انجینئر، ڈاکٹر اور سائنسدان سول سروس میں چلے جاتے ہیں۔

ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر پولیس میں ایس پی لگا ہوتا ہے۔
ایک انجینئر اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں لوگوں کے مسائل سن رہا ہوتا ہے۔
اور ایک ریسرچ اسکالر ڈی سی بن کر افسرانہ دھونس جما رہا ہوتا ہے۔
یہ سب کیوں ہوتا ہے؟
اس کا سیدھا جواب ہے: حکومت کی مجرمانہ نااہلی۔

پاکستان میں ریسرچ اور اکیڈمک فیلڈز میں ترقی کے مواقع نہیں۔
سرکاری سطح پر سائنسدانوں اور محققین کو وہ عزت اور تنخواہ نہیں دی جاتی جو ایک بیوروکریٹ کو دی جاتی ہے۔
نتیجہ؟ لوگ اپنی اصل فیلڈ چھوڑ کر سول سروس میں دھکے کھانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔
اس کا حل کیا ہے؟
پروفیشنل ڈگری رکھنے والوں کے لیے سول سروس میں مخصوص کوٹہ بنایا جائے، تاکہ وہ اپنے متعلقہ شعبے میں ہی رہیں۔
میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم پر سرکاری سبسڈی ان طلبہ کو ہی دی جائے جو ایک معاہدے کے تحت اپنی فیلڈ میں کم از کم 10 سال کام کریں۔
حکومت سائنسی تحقیق اور تدریس کو بھی ایک باعزت اور پرکشش پیشہ بنائے، تاکہ کوئی پی ایچ ڈی اسسٹنٹ کمشنر بننے کے بجائے کسی لیبارٹری میں نئی دریافت کرے۔
ورنہ اگر یہی حال رہا تو ایک دن آئے گا کہ اسپتالوں میں ڈاکٹر کم اور اے ایس پی زیادہ ہوں گے، اور لیبارٹریوں میں سائنسدان کم اور تحصیلدار زیادہ ہوں گے!

کیا پاکستان واقعی اس طرح ترقی کرے گا؟ یا ہم صرف ٹیلنٹ ضائع کرنے کے ماہر رہیں گے؟ 🤔

امریکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس نے لنچ کا مینو ایک شخص اور اس کی بیوی کو دیا اور اس سے پہلے کہ وہ مینو کو دیکھتے، انہو...
05/03/2025

امریکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس نے لنچ کا مینو ایک شخص اور اس کی بیوی کو دیا اور اس سے پہلے کہ وہ مینو کو دیکھتے، انہوں نے اس سے کہا کہ وہ انہیں دو سستے ترین کھانے پیش کرے کیونکہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ جس کی وجہ سے وہ مشکل وقت سے گذر رہے ہیں ۔
ویٹریس سارہ نے زیادہ دیر نہیں سوچا۔ اس نے انہیں دو ڈشیں تجویز کیں اور وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مان گئے کہ وہ سب سے سستے ہیں۔ وہ دونوں آرڈر لے کر آئی اور انہوں نے بھوک کی شدت سے جلدی سے کھانا کھایا، اور جانے سے پہلے انہوں نے ویٹریس سے بل مانگا۔ وہ اپنے بلنگ والیٹ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لے کر ان کے پاس واپس آئی جس پر اس نے لکھا تھا کہ : "میں نے آپ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کا بل اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ادا کیا۔ یہ میری طرف سے تحفے کے طور پر ایک سو ڈالر کی رقم ہے، اور میں آپ کے لیے کم سے کم اتنا تو کر سکتی ہوں۔ آپ کی آمد کے لیے شکریہ۔ سارہ کے دستخط شدہ۔
ریستوراں سے نکلتے ہی یہ جوڑا بہت خوش تھا۔
مشکل صورتحال میں مبتلا سارہ کے لئے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے اپنے سخت مالی حالات کے باوجود جوڑے کے کھانے کا بل ادا کرنے میں بے حد خوشی محسوس کی۔ حالانکہ وہ تقریباً ایک سال سے ایک آٹومیٹک واشنگ مشین خریدنے کے لئے پیسے بچا رہی تھی کیونکہ پرانی واشنگ مشین سے کپڑے دھونے میں اسے بہت مشکل ہوتی تھی
لیکن جس چیز نے اسے سب سے زیادہ دکھ پہنچایا وہ یہ تھا کہ جب اس کی دوست کو اس معاملے کا پتہ چلا تو سارہ کی دوست نے اسے بہت ڈانٹا۔ کیونکہ اس نے خود اپنی اور اپنے بچے کی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر یہ پیسے بچائے تھے اسے دوسروں کی مدد کرنے سے زیادہ اپنے لئے واشنگ مشین خریدنے کی ضرورت تھی۔
اسی دوران اسے اپنی ماں کا فون آیا جس میں اسے اونچی آواز میں کہا گیا: "سارہ تم نے کیا کیا؟"
اس نے ایک ناقابل برداشت جھٹکے سے ڈرتے ہوئے دھیمی، کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا: ’’میں نے کچھ نہیں کیا۔ کیا ہوا؟"
اس کی والدہ نے جواب دیا: "فیس بک تمہاری تعریف کرنے اور تمہارے طرز عمل کی تعریف کرنے میں زمین آسمان ایک کر رہا ہے۔ اس بندے اور اسکی اہلیہ نے فیس بک پر تمہارا پیغام پوسٹ کیا جب تم نے ان کی طرف سے بل ادا کیا اور بہت سے لوگوں نے اسے شیئر کیا۔ مجھے تم پر فخر ہے۔" ...
اس نے بمشکل اپنی والدہ کے ساتھ اپنی بات چیت مکمل کی تھی جب اسکول کے ایک دوست نے اسے فون کیا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس کا پیغام تمام ڈیجیٹل سوشل پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکا ہے۔
جیسے ہی سارہ نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا، اسے ٹیلی ویژن کے پروڈیوسروں اور پریس رپورٹرز کے سینکڑوں پیغامات ملے جن میں اس سے ملنے کے لیے کہا گیا تاکہ وہ اپنے مخصوص اقدام کے بارے میں بات کریں۔
اگلے دن، سارہ سب سے مشہور اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے امریکی ٹیلی ویژن شوز میں سے ایک پر نمودار ہوئی۔ پروگرام پیش کرنے والے نے اسے ایک بہت ہی پرتعیش واشنگ مشین، ایک جدید ٹیلی ویژن سیٹ اور دس ہزار ڈالر دیے۔ اس ایک الیکٹرانکس کمپنی سے پانچ ہزار ڈالر کا پرچیز واؤچر حاصل کیا۔ اس پر تحائف کی بارش ہوئی یہاں تک کہ اس کے عظیم انسانی رویے کی تعریف میں حاصل ہونے والی رقم $100,000 سے زیادہ تک پہنچ گئی۔
دو کھانے جن کی قیمت چند ڈالر + $100 سے زیادہ نہیں تھی نے اس کی زندگی بدل ڈالی۔
سخاوت یہ نہیں ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت نہیں ہے وہ کسی کو دے دیں بلکہ سخاوت یہ ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ کسی دوسرے ضرورت مند کو دے دیں۔
حقیقی غربت انسانیت اور رویوں کی غربت ہے۔

دعا ملک

Annual function J**S 2k25 few glimpses for your review.
26/02/2025

Annual function J**S 2k25 few glimpses for your review.

Notice
17/10/2024

Notice

Address

Hafizabad
52110

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 14:00

Telephone

+923324094530

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jinnah Kids Campus Kot Gora Hafizabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jinnah Kids Campus Kot Gora Hafizabad:

Share

Category