حق دو تحریک بلوچستان

حق دو تحریک بلوچستان بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لئے سب سے بڑی عوامی، سیاسی و جمہوری مزاحمتی تحریک

حق دو تحریک کیچ کے سابق ترجمان نوید بلوچ کا جامعہ گوادر واقعات پر شدید ردعملکیچ – حق دو تحریک کیچ کے سابق ترجمان اور سوش...
17/05/2026

حق دو تحریک کیچ کے سابق ترجمان نوید بلوچ کا جامعہ گوادر واقعات پر شدید ردعمل

کیچ – حق دو تحریک کیچ کے سابق ترجمان اور سوشل ایکٹیوسٹ نوید بلوچ نے جامعہ گوادر میں وائس چانسلر اور عملے کے اغواء اور پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

نوید بلوچ نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا اور اساتذہ کو اغواء و قتل کرنا بلوچستان کے علمی و فکری ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ گوادر جیسے ادارے بلوچستان کے نوجوانوں کے مستقبل کی امید ہیں، اور ان پر حملے دراصل پوری نسل کو تعلیم سے دور رکھنے کی کوش ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اغواء شدہ اساتذہ اور عملے کی بازیابی یقینی بنائے اور پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں سمیت تمام ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔ نوید بلوچ نے کہا کہ اگر علم و قلم کے دشمنوں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو بلوچستان میں تعلیمی ماحول مزید خراب ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو ترقی کے لیے امن، تعلیم اور تعلیمی اداروں اور اساتذا کرام کی حفاظت کرنے میں عملی اقدامات کرئے، اور ان کی اقدار پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔

کُنٹانی ھور میں مزدوروں کا قتل عام ظلم، بربریت اور بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے، واقعہ میں ملوث اہلکاروں اور ان کے افسروں کو...
11/05/2026

کُنٹانی ھور میں مزدوروں کا قتل عام ظلم، بربریت اور بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے، واقعہ میں ملوث اہلکاروں اور ان کے افسروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے، حق دو تحریک بلوچستان

حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی آفس سے جاری ایک بیان میں کُنٹانی ھور جیونی میں کوسٹ گارڈ کی فائرنگ سے متعدد مزدوروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں اب محنت مزدوری کرنا بھی قابلِ قتل جرم بن چکا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ریاستی ادارے اس حد تک سفاک، بے حس اور بے لگام ہوچکے ہیں کہ جب چاہیں، جسے چاہیں اور جتنے چاہیں گولیاں مار دیں، نہ انہیں کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی کوئی آئین اور قانون ان کو روکنے والا ہے۔ یہ ظلم، بربریت اور بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے جہاں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کرنے والے غریب مزدوروں کو گولیوں سے چھلنی کرکے گھروں کے چراغ بجھا دیئے جاتے ہیں۔

مرکزی آفس کے بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں نفرت، بے چینی اور ردعمل کی سب سے بڑی وجہ یہی ریاستی ادارے اور ان کے ظالم اہلکار ہیں، جو بلوچوں کو انسان تو کیا، جانور بھی نہیں سمجھتے اور ان کا خون بہانا اپنا حق تصور کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ جیونی اور کُنٹانی ھور کے اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ بلوچستان کے عوام کی جان و مال کسی بھی سطح پر محفوظ نہیں اور ریاستی طاقت کا استعمال نہتے مزدوروں کے خلاف کیا جارہا ہے۔

حق دو تحریک بلوچستان نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر فائرنگ میں ملوث اہلکاروں اور ان کے ذمہ دار افسروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے انہیں نہ صرف ملازمت سے برطرف کیا جائے بلکہ قرار واقعی سزا بھی دی جائے۔ ساتھ ہی شہداء کے لواحقین کو انصاف اور زخمیوں کو فوری علاج و معاوضہ فراہم کیا جائے۔

18/04/2026

چارٹر آف ڈیمانڈ
مورخہ: 18 اپریل 2026
مقام: ضلع کیچ
پیش کنندہ:
حق دو تحریک بلوچستان (کیچ)
بذریعہ: ضلعی چیئرمین و مجاز نمائندگان
برائے:
ضلعی انتظامیہ کیچ
بذریعہ: ڈپٹی کمشنر کیچ
تمہید
ضلع کیچ میں بارڈر فیول کراسنگ پوائنٹس کی بندش اور محدود فعالیت نے مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ہزاروں خاندان، خصوصاً دیہاڑی دار اور محنت کش طبقہ، روزگار سے محروم ہو کر سنگین معاشی بحران کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی فلاح و بہبود بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔
حق دو تحریک بلوچستان (کیچ) عوامی نمائندہ پلیٹ فارم کے طور پر درج ذیل مطالبات پیش کرتی ہے تاکہ فوری ریلیف، پائیدار روزگار اور شفاف نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مطالبات (DEMANDS)
1. بارڈر فیول کراسنگ پوائنٹ کی فوری بحالی:
ڈسٹرکٹ کیچ کے بارڈر فیول کراسنگ پوائنٹس کو فوری طور پر کھول کر مکمل فعالیت کے ساتھ بحال کیا جائے۔
2. بلاک شدہ ناموں کی بحالی:
بارڈر ماسٹر لسٹ سے غیر منصفانہ، انتقامی یا غیر شفاف بنیادوں پر خارج کیے گئے تمام افراد کے نام فوری طور پر بحال کیے جائیں۔
3. کم عمر افراد کی بحالی
کم عمر Under Age کی بنیاد پر بلاک کیے گئے افراد کے ناموں کو بحال کیا جائے، کیونکہ ان افراد کاروزگار اسی نظام سے وابستہ ہے۔
4. ہفتہ وار تعطیلات کا خاتمہ:
جمعہ و ہفتہ کی تعطیلات ختم کر کے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو مسلسل فعال رکھا جائے تاکہ روزگار متاثر نہ ہو۔
5. کاروباری دنوں میں اضافہ:
کراسنگ پوائنٹس کو ہفتے میں چار دن کے بجائے کم از کم چھ (6) دن کھلا رکھا جائے۔
6. نیو مند کراسنگ پوائنٹ (سوراپ) کی فعالیت:
ضلع تمپ کے نیو مند (سوراپ) کراسنگ پوائنٹ کو مکمل طور پر فعال کر کے روزانہ کم از کم 600 گاڑیوں کا کوٹہ مقرر کیا جائے۔
7. شفاف اور منصفانہ نظام:
کراسنگ پوائنٹس کے نظام کو مافیا، کرپشن اور غیر قانونی اثر و رسوخ سے پاک کر کے مکمل شفاف، اور عوام دوست بنایا جائے۔
8. متبادل روزگار کی فراہمی:
اگر موجودہ نیو مند سوراپ کراسنگ نظام مؤثر نہ ہو تو حکومت فوری طور پر ضلع تمپ کے عوام کو متبادل روزگار دیگر بارڈر پوائنٹس تک رسائی فراہم کرے۔
حق دو تحریک بلوچستان (کیچ)
"حق دو — روزگار دو — انصاف دو

تربت: بارڈر مسائل پر اہم پیش رفت، حق دو تحریک کا احتجاج مؤخرتربت (بلوچستان) کے ضلع کیچ میں بارڈر سے وابستہ عوامی و تجارت...
18/04/2026

تربت: بارڈر مسائل پر اہم پیش رفت، حق دو تحریک کا احتجاج مؤخر

تربت (بلوچستان) کے ضلع کیچ میں بارڈر سے وابستہ عوامی و تجارتی مسائل کے حل کے لیے ہونے والے ایک اہم اجلاس میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور حق دو تحریک کیچ کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد تحریک نے اپنے مجوزہ احتجاج کو مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے علاقے میں کشیدگی میں کمی کی جانب مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ہفتہ کے روز ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے حق دو تحریک کے وفد نے صادق فتح کی سربراہی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں بارڈر تجارت، روزگار کے مواقع اور مقامی آبادی کو درپیش مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے ضلع کیچ میں نئے کراسنگ پوائنٹ کے قیام، سوراپ-مند بارڈر پوائنٹ پر گاڑیوں کی تعداد بڑھانے اور بارڈر پر تیل کی قیمتوں کو ایرانی کرنسی (تومان) کے مطابق مقرر کرنے سمیت کئی اہم مطالبات پیش کیے۔

وفد میں وسیم سفر بلوچ، کہدہ دوستین، واجہ یار محمد زامرانی، ہدایت اللہ بلیدی، رحمت اللہ پیر بخش اور سعید جمعہ سمیت دیگر رہنما شامل تھے، جنہوں نے بارڈر علاقوں میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور بے روزگاری پر تشویش کا اظہار کیا۔

ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے وفد کے ساتھ تین اہم نکات پر اتفاق کرتے ہوئے دیگر مطالبات پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد جلد پیش رفت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس معاملے پر ان کی پہلے ہی آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) سے بات چیت ہو چکی ہے اور نئے کراسنگ پوائنٹ کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر تجارت میں آسانی پیدا کرنا اور مقامی لوگوں کے لیے معاشی مواقع بڑھانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق نئے اقدامات سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ علاقے میں معاشی استحکام بھی آئے گا۔

ڈپٹی کمشنر نے آئی جی ایف سی بلوچستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری سے مسائل کے حل میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوراپ-مند پوائنٹ پر گاڑیوں کی تعداد بڑھانے اور تیل کی قیمتوں کے تعین جیسے معاملات پر بھی مثبت پیش رفت متوقع ہے۔

اجلاس کے اختتام پر حق دو تحریک کے رہنماؤں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر باقی مطالبات پر بھی اسی طرح پیش رفت جاری رہی تو علاقے میں جاری بے چینی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

11 اپریل 2026 کو حق دو تحریک بلوچستان (ضلع کیچ) کا ایک اہم اجلاس ضلعی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں تنظیم کے ذمہ دار کا...
11/04/2026

11 اپریل 2026 کو حق دو تحریک بلوچستان (ضلع کیچ) کا ایک اہم اجلاس ضلعی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں تنظیم کے ذمہ دار کارکنان اور بارڈر سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں بارڈر بندش کے مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری بارڈر بندش نے مزدور اور محنت کش طبقے کو سخت معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس طویل بندش کے باعث روزگار کے مواقع محدود ہو گئے ہیں اور عوام شدید معاشی تنگدستی کا شکار ہیں۔
اجلاس میں اکثریتی رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ عبدوئی بارڈر بندش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی قدغن کے خلاف 19 اپریل 2026 بروز اتوار ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، جو تربت پریس کلب سے شروع ہو کر شہید فدا چوک تک جائے گی۔ اس ریلی میں خواتین اور مرد حضرات بھرپور شرکت کریں گے۔
اجلاس کے دوران یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی کہ یکم فروری 2026 کو خواتین اور مردوں کی مشترکہ احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب حق دو تحریک بلوچستان نے بارڈر بندش کے خلاف باقاعدہ احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
حق دو تحریک بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہمیشہ مزدور اور محنت کش طبقے کے حقوق کے حصول کے لیے پُرامن، سیاسی اور جمہوری انداز میں جدوجہد کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ تنظیم عوامی حقوق کے حصول کے لیے مزاحمت کو اپنا فرض سمجھتی ہے۔
اسی سلسلے میں ضلع کیچ کی تمام سیاسی جماعتوں، آل پارٹیز، وکلاء برادری، اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنز، سماجی و سیاسی تنظیموں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس جدوجہد میں ساتھ دیں۔ کیونکہ بارڈر بندش ایک اجتماعی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے اثرات صرف زمیاد گاڑی مالکان یا ڈپو مالکان تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
بارڈر بندش کے باعث معاشی قدغن نے تعلیم کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ کئی طلباء و طالبات معاشی تنگدستی اور روزگار کی عدم دستیابی کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ نوجوان نسل میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور اس کے نتیجے میں سماج میں منفی اثرات پیدا ہو رہے ہیں۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مصنوعی معاشی قدغن بلوچ قوم کی ترقی اور خوشحالی میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ حق دو تحریک بلوچستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پُرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اسی راستے پر گامزن رہے گی۔

تربت : حق دو تحریک کیچ کے سابق ترجمان و سوشل ایکٹیویسٹ نوید بلوچ اور سیاسی و سماجی شخصیت سابق تحصیل ناظم بلیدہ  مولانا ن...
22/03/2026

تربت : حق دو تحریک کیچ کے سابق ترجمان و سوشل ایکٹیویسٹ نوید بلوچ اور سیاسی و سماجی شخصیت سابق تحصیل ناظم بلیدہ مولانا نصیر احمد ، نے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور عیدالفطر کی خوشیوں کے پُرمسرت موقع پر انہیں مبارکباد پیش کی ۔اور انہوں نے کہا کہ یاسر اقبال دشتی کا ڈی سی کیچ ہونا کیچ عوام کے لئے خوش آئند عمل ہے۔

18/03/2026

سرزمین کے وارث کو سرزمین کے حوالے کردیا گی

حفیظ کیازئی کے جنازے کے غمناک مناظر

آج بلوچستان کی فضاء سوگوار تھی… ایک ایسا بیٹا بچھڑ گیا جو اس دھرتی کا حقیقی وارث تھا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی، ہر دل بوجھل تھا، اور فضا میں ایک گہرا سکوت طاری تھا۔

گوادر میں حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری حفیظ کیازئی کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ ہر چہرہ غمگین تھا، ہر زبان پر ان کی جدوجہد اور قربانیوں کا تذکرہ تھا۔

ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، میونسپل کمیٹی گوادر کے چیئرمین ماجد جوہر، حق دو تحریک کے رہنما، ورکرز اور کونسلرز مرحوم کے گھر پہنچے۔ جیسے ہی اہل خانہ نے مولانا ہدایت الرحمن کو دیکھا، وہ انہیں گلے لگا کر زار و قطار رونے لگے۔ یہ منظر ہر دل کو چیر کر رکھ دینے والا تھا۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور ساتھیوں نے میت کو بوسہ دیا، اور انھیں جنازہ گاہ تک لایا گیا

مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے نماز جنازہ پڑھائی اور دعا کرتے ہوئے کہا:
“اے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ حفیظ کیازئی بے کس، بے سہارا اور مظلوموں کی آواز تھے۔ وہ ہر ظلم کے خلاف حق کے ساتھ کھڑے رہے۔ ہم آج ایک بہادر، نڈر، سچے اور مخلص ساتھی سے محروم ہوگئے ہیں۔ یا اللہ! ان کی مغفرت فرما، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما، اور ان کے والدین، بچوں اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرما۔”

انہوں نے زخمی ہونے والے واجہ حسین واڈیلہ اور وسیم صمد کے لیے بھی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت کاملہ عطا فرمائے۔

مرحوم کی نماز جنازہ میں گوادر، کیچ، خضدار، اورماڑہ، پسنی، جیوانی، پشکان، دشت اور دیگر قریبی علاقوں سے حق دو تحریک کے قائدین، مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں کے نمائندگان، کاروباری شخصیات اور سرکاری افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ہر کسی نے مرحوم کی جرات، کردار اور عوامی خدمت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

آج صرف ایک انسان نہیں گیا… ایک عہد، ایک آواز، ایک حوصلہ ہم سے جدا ہوگیا۔

17/03/2026
بلیدہ میں بارڈر سے متعلق اجلاس میں حق دو تحریک کے ذمہ داران کو شرکت سے روکنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، حق دو تحریک بلوچستان...
30/01/2026

بلیدہ میں بارڈر سے متعلق اجلاس میں حق دو تحریک کے ذمہ داران کو شرکت سے روکنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، حق دو تحریک بلوچستان

حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی آفس سے جاری بیان میں بلیدہ میں بارڈر سے متعلق منعقد ہونے والے مشاورتی اجلاس میں تحریک کے ذمہ داران، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو شرکت سے روکنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ آج حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی وائس چیئرمین حاجی ناصر پلیزئی، سینٹرل کمیٹی کے رکن میران رستم، سینئر سیاسی رہنما کامریڈ وسیم سفر بلوچ اور چیئرمین یعقوب کوہی بلیدہ میں بارڈر سے متعلق ایک پرامن اور عوامی نوعیت کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ تھے۔ تاہم میسکین کے مقام پر قائم سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر انہیں غیرقانونی طور پر روک لیا گیا، ان کے شناختی کارڈ ضبط کیے گئے اور بلاجواز ہراساں کیا گیا، جس کے باعث وہ شام چار بجے منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت سے محروم رہے۔

حق دو تحریک بلوچستان اس عمل کو نہ صرف افسوسناک بلکہ انتہائی تشویشناک سمجھتی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو پرامن سیاسی و عوامی اجلاسوں میں شرکت سے روکنا آئینِ پاکستان اور بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ناروا سلوک، بلاجواز روک ٹوک اور امتیازی رویہ آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جس کی کسی بھی جمہوری نظام میں کوئی گنجائش نہیں۔

حق دو تحریک بلوچستان واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ بارڈر سے وابستہ عوامی مسائل پر بات کرنا، مشاورت کرنا اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا عوام اور سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف سیاسی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خطے میں بے چینی، بداعتمادی اور اضطراب کو مزید بڑھاتے ہیں۔
تحریک مطالبہ کرتی ہے کہ اس واقعے کی فوری وضاحت کی جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے پرامن سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی دی جائے، تاکہ عوامی مسائل خصوصاً بارڈر سے وابستہ روزگار کے مسائل کا حل ممکن بنایا جا سکے۔

✊ عوامی احتجاجی ریلی ✊حق دو تحریک بلوچستان کے زیرِ اہتمامہمارے باشعور اور غیور عوامبلوچ قوم کی معیشت کا بڑا انحصار سرحدی...
30/01/2026

✊ عوامی احتجاجی ریلی ✊
حق دو تحریک بلوچستان کے زیرِ اہتمام
ہمارے باشعور اور غیور عوام
بلوچ قوم کی معیشت کا بڑا انحصار سرحدی تجارت پر ہے۔
8 ستمبر 2025 سے عبدوئی بارڈر کی مکمل بندش نے محنت کش مزدور طبقے کا روزگار چھین لیا ہے، جس سے ہزاروں خاندان شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔
بارڈر بندش کسی ایک فرد یا جماعت کا مسئلہ نہیں،
یہ پورے بلوچ عوام کا اجتماعی مسئلہ ہے۔
روزگار ہمارا بنیادی حق ہے
اور باعزت روزگار کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اسی لئے
حق دو تحریک بلوچستان
ایک پُرامن عوامی احتجاج کا اعلان کرتی ہے۔
بتاریخ: یکم فروری 2026
بروز اتوار
بوقت: دوپہر 1 بجے
بمقام: تربت پریس کلب سے شہید فدا چوک تک
خواتین و مرد کی بھرپور شرکت لازمی ہے
آئیں اپنے روزگار، اپنے مستقبل اور اپنے بچوں کے حق کیلئے
پُرامن جدوجہد کا حصہ بنیں۔
Give Rights to the Baloch People
We do not accept the economic killing of the Baloch people
منجانب:
حق دو تحریک بلوچستان

Address

Gwadar

Telephone

+92864212306

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حق دو تحریک بلوچستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to حق دو تحریک بلوچستان:

Share