03/07/2025
پاکستان کی بدنصیب عوام شاید تقدیر کے اس کھیل کو اب تک سمجھ نہ سکی کہ یہاں ہر آنے والا حکمران، تبدیلی اور خوشحالی کا نعرہ لگا کر آتا ہے مگر اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی عوام کو بھول جاتا ہے۔ کل تک جو خود کو غریب کا ہمدرد ظاہر کرتے تھے، وہی آج پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر عوام کی ہڈیاں تک نچوڑنے پر تلے بیٹھے ہیں
دنیا بھر میں تیل سستا ہو رہا ہے، مگر یہاں غریب کی قسمت میں مزید اذیتیں لکھی جا رہی ہیں۔ مزدور کی مزدوری وہی پرانی، لیکن اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں۔ غریب کا چولہا بجھتا ہے تو بجھ جائے، مگر حکمرانوں کے ایوانوں میں دعوتیں، بیرون ملک دورے، پروٹوکول کی لمبی گاڑیاں اور اے سی کمروں میں بیٹھ کر قوم کو صبر کی تلقین
پارلیمینٹ کے ایوان میں بیٹھے ان جمہوریت کے رکھوالوں کی تنخواہیں، مراعات، سرکاری گاڑیاں، مفت علاج اور بیرونی دورے سب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے چلتے ہیں۔ مگر جب غریب کو بجلی کا بل ادا کرنے یا بچوں کا دودھ خریدنے کی بات آتی ہے تو یہی عوامی نمائندے اسے قربانی کا درس دیتے ہیں۔
کیا کسی کو خبر ہے کہ جس غریب کے ووٹوں سے ایوان سجے ہیں، وہ آج دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے؟ کیا کسی کو فکر ہے کہ مزدور کے ہاتھ میں مزدوری کی بجائے قرض کی رسید ہے؟ لیکن نہیں! ان کمینے حکمرانوں کو فکر ہے تو صرف اپنی سیاست کی، اپنے خاندان کی، اپنی کرسی کی
سچ کہا تھا کسی نے
حکمران ہو گئے کمینے لوگ
خاک میں مل گئے نگینے لوگ
یہ قوم نجانے کب جاگے گی، کب ان مگرمچھوں کے آنسو پہچانے گی۔ کب اپنی طاقت کو سمجھے گی کہ جس دن یہ غلامی کی زنجیریں توڑیں گے، اس دن کوئی حکمران غریب کا حق نہ چھین سکے گی
ضرور! اس تحریر کے لیے چند مؤثر ہیش ٹیگز حاضر ہیں:
#مہنگائی