02/04/2026
گلگت بلتستان میں حالیہ واقعات کسی صورت قابلِ برداشت نہیں۔
احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر ریاستی اداروں پر حملہ کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔
سرکاری دفاتر کو جلانا، املاک کو نقصان پہنچانا اور اسلحہ اٹھانا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔
یہ عمل صرف قانون شکنی نہیں بلکہ ریاست کو کمزور کرنے کی منظم کوشش ہے۔
ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔
ان کے سہولت کاروں اور پشت پناہی کرنے والوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ماضی میں نرمی برتی گئی جس کے باعث ایسے واقعات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی رِٹ واضح کرے اور زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے۔
امن و امان کے ساتھ کھیلنے والوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔
قانون سے بالاتر کوئی نہیں، ہر مجرم کو سخت سزا ملنی چاہیے۔
اگر آج سخت اقدام نہ اٹھایا گیا تو کل حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے پرامن عوام کو چند شرپسند عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
ریاستی ادارے فوری، فیصلہ کن اور بلاامتیاز کارروائی کریں۔
یہ وقت کمزوری دکھانے کا نہیں بلکہ ریاستی طاقت کو مضبوط کرنے کا ہے۔
پاکستان کی سالمیت اور امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔