04/07/2022
*مرکزی میڈیا سیل پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان*
*پریس ریلیز*
*مورخہ 04/07/2022*
گلگت(پ۔ر)سابق وزیراعلی و صوبائی صدر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان *حافظ حفیظ الرحمن* کا موجودہ سیاسی،اجتجاج،دھرنوں،مظاہروں اور فلڈ کی بدترین صورتحال پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ٹیلی فوری پے رابطہ,سلیکٹڈ صوبائی حکومت کی موجودہ بدترین صورتحال پر مایوس کن کردار پر وفاقی حکومت سے کردار ادا کرنے کی اپیل,وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال پر گلگت بلتستان کے عوام کے بہتر مفاد میں زمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔اور فوری طور پر وزارت داخلہ کو ہدایت دی ہے وہ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے رابطہ کرے اور این ایچ اے کو ہدایت دی ہے کہ وہ گلگت سکردو روڈ کی فوری بحالی کروائے۔سابق وزیراعلی گلگت بلتستان نے وزیراعظم کو بتایا ایک ہفتے سے زائد ہوچکا ہے نظام مفلوج اور عوام مشکلات کا شکار رہے۔امید کرتے رہے سلیکٹڈ صوبائی حکومت شاید اپنا عوامی کردار ادا کرے۔لیکن حکومت نے نظام,عوام اور احتجاج کرنے والوں کو روایتی مایوس کیا۔سلیکٹڈ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔اپنے قیام سے آج تک عوام کے مفاد میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکی۔یہ عناصر عوام میں اپنا وجود نہیں رکھتے۔ بند کمروں کی سازشوں سے عوام پر مسلط ہوئے ہیں۔اپنے جعلی اقتدار کو طول دینے کیلئے وعدے کرنا اور وعدوں سے مکرنا جھوٹ اور الزامات کی سیاست ان وطیرہ اور بھگت عوام رہے ہیں۔گلگت بلتستان کے مسائل حل کرنا اور موجودہ صورتحال میں عوامی کردار ان کے بس کا نہیں رہا۔ماضی کی صورتحال اور موجودہ صورتحال اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ لہذا وفاقی حکومت عوامی مسائل کے حل اور اجتجاج اور دھرنوں کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج گلگت بلتستان بدترین فلڈ کی صورتحال کی رحم وکرم پر ہے۔حکومت خاموش ہے۔گلگت بلتستان کے عوام احتجاج،دھرنوں اور مظاہروں کے باعث عوام اور سیاح سخت مشکل میں ہے حکومت خاموش ہے۔ گلگت سکردو روڈ نارمل بلاسٹنگ کی بدولت بار بار بند ہو رہا ہے اہلیان بلتستان سخت مشکلات کا شکار ہیں لیکن حکومت خاموش ہے۔عید الاضحی قریب ہے پورے گلگت بلتستان میں الوں کی فصل تیار ہے ٹرکوں میں لوڈ پڑی ہے تاجر برادری اور زمینداروں کا ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے لیکن حکومت خاموش ہے۔انہوں نے کہا پر امن احتجاج عوام کا جمہوری اور انسانی حق ہے۔نظام اور معاشرہ انصاف کی بنیادی اکائی کی مرہون منت ہے۔سلیکٹڈ صوبائی حکومت نے اسیران سے معاہدہ کیا ہے تو عملدرآمد کیوں نہیں کیا ہے۔خاموش کیوں ہے اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہی ہے۔مسلم لیگ (ن) نے سلیکٹڈ صوبائی حکومت کی غیرذمہ دارانہ کردار کی وجہ سے وفاقی حکومت سے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ اجتجاج اور دھرنوں کے مسائل کا حل نکل سکے۔فلڈ کی صورتحال اور گلگت سکردو روڈ کی صورتحال پر وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ سابق وفاقی حکومت اور سابق صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کیلئے امن ترقی اور خوشحالی کا روڈ میپ دیا۔بھاری ترقیاتی بجٹ اور اصلاحات کے زریعے گلگت بلتستان کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر ڈال دیا۔اپنے وعدوں سے بڑھ کر عملدرآمد کرکے دکھایا اور گلگت بلتستان کے عوام کے اجتماعی اور انفرادی معیشت کو مظبوطی کے راستے پر ڈال دیا۔آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان سخت بحرانوں کے زد میں ہے اس صورتحال پر عوامی نمائندہ اتحادی وفاقی حکومت کا کردار ادا کرنا وقت کی اولین ضرورت ہے تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل کا حل نکالا جاسکے۔احتجاج اور دھرنے ختم ہوں اور رواداری اور بھائی چارے کا ماحول برقرار رکھا جا سکے۔ اور عوام کی مشکلات ختم ہوں۔
*جاری کردہ*
*صوبائی میڈیاکوآرڈینیٹر*
*پاکستان مسلم لیگ(ن) گلگت بلتستان*