RehmatGul Mehsud Pti Kpk Official

Call Directions Contact the organization

RehmatGul Mehsud Pti Kpk Official Faith, Unity, Discipline is the national motto of Pakistan. It is regarded as the guiding principle۔

محترم وفاقی وزیر داخلہتو آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ ممبران اسمبلی کو دیے گئے تحفظات کوئی نئی ایجاد نہیں، ہمیشہ سے پارلیمانی ...
26/09/2026

محترم وفاقی وزیر داخلہ
تو آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ ممبران اسمبلی کو دیے گئے تحفظات کوئی نئی ایجاد نہیں، ہمیشہ سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ رہے ہیں۔اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے
پارلیمانی استحقاق، بشمول صوبائی اسمبلی کے ممبر کو کسی فوجداری الزام پر گرفتار کرنے سے پہلے اسپیکر کی پیشگی اجازت، خیبر پختونخوا کی کوئی نئی ایجاد نہیں۔ یہ استحقاق مقننہ کی آزادی کے تحفظ، ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنے، اور اسمبلی کو بغیر خوف و خطر کام کرنے کے لیے ہیں۔
یہ تحفظات طویل عرصے سے چلی آ رہی پارلیمانی روایات اور پہلے صوبائی قوانین پر مبنی ہیں۔ یہ کسی ایم پی اے کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے۔ الزام زدہ ممبر تحقیقات، مقدمہ اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔ اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو۔
جب آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ (immunity) کا قانون پاس کروا لیں تو وہ آپ کے نزدیک بالکل درست ہے۔ جب آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا کریں، رشوت دیں اور فلور کراسنگ کروا کر صرف اپنے لیے قانون پاس کروا لیں تو وہ قانون بن جاتا ہے۔
لیکن جب تمام حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اتفاقِ رائے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس کریں تو وہ قانون نہیں رہتا؟ ہاں نا کمال ہے؟ ذرا سوچیں کہ آپ کیا موازنہ کر رہے ہیں اور کیا ٹویٹ کر رہے ہیں۔
آج ہم جمہوریت پر اس سے کہیں زیادہ سنگین حملہ دیکھ رہے ہیں: بغیر وارنٹ، چہرے ڈھکے ہوئے افراد منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز اور پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر اغوا کر رہے ہیں تاکہ پرامن احتجاج روکا جا سکے۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟ جب 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلائیں گئیں اور قتل عام ہوئے تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ چند افراد کی چلائی ہوئی ریاست ہے، جہاں آئین محض کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔
آپ دنیا کو پاکستان کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ امید دم توڑ رہی ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا اقتدار والے ہر قسم کے استحقاق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم یہاں رہیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ جیسے لوگ حقیقی جمہوریت آنے پر اس ملک سے چلے جاتے ہیں۔ اب پاکستان کے لوگ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے فیصلہ کریں گے کہ جمہوریت کیا ہے: عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔
آپ جن استحقاقات پر تنقید کر رہے ہیں، وہی آپ اور آپ کے ساتھی بھی مزے لے رہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو استثنیٰ دلا رکھا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ریاستِ مدینہ میں قابلِ قبول ہے؟ اگر یہ واقعی اسلامی ریاست ہے اور اس کا آئین اسلامی قانون کے تحت بنا ہے تو اسلامی تاریخ سے صرف ایک مثال بتائیں جہاں کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہو۔ بس ایک مثال دے دیں۔
آپ اور آپ والے اکثر سوچتے ہیں کہ آپ کے الفاظ ہی قانون ہیں۔ نہیں میرے عزیز! صرف وہی قانون غالب آئے گا جو اسلامی شریعت کے مطابق ہو۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو ریکارڈ قانون سازی پر ایک بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا — ایسی قانون سازی جو عوام کی حقیقی نمائندگی اور جمہوریت کا عکس ہے۔ اس اسمبلی کے قیام کے بعد کسی پچھلی اسمبلی نے اس قسم کی ترقی پسند قانون سازی نہیں کی۔ یہ اعزاز نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔ اس بڑی کامیابی اور پاکستان کے عالمی سطح پر اچھے نام کی تعریف کرنے اور خوشی منانے کے بجائے آپ نے میرا پاسپورٹ بلاک کر دیا اور کئی ایم این ایز و ایم پی ایز کو اس کانفرنس میں شرکت سے روک دیا۔ وہ کانفرنس 56 ممالک، 186 اسمبلیوں اور تقریباً 80 ہزار پارلیمنٹیرینز کی نمائندگی کرتی تھی۔ مگر آپ کی واحد ترجیح یہ ہے کہ اپنے غیر قانونی فارم 47 کی نام نہاد حکومت کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کو پامال کر کے کیسے طول دیا جائے۔
میں نے پاکستان کی ہر اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق آئی جی پی اور اضافی چیف سیکرٹری (ہوم) کو خط لکھا کہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے میرے دفتر کو مطلع کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ یہ میرا آئینی فرض ہے۔ ایوان کے محافظ ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے لوگ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔
بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور دیگر زیادتیوں پر مسلسل لکھ رہی ہیں جو پاکستان کے نام کو دنیا بھر میں بدنام کر رہی ہیں۔ مگر آپ کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔
ایک صوبے کے قواعد پر منتخب غصہ جبکہ ان زیادتیوں پر خاموشی، اس “قانون کے سامنے برابری” کے اصول کو ہی کمزور کرتی ہے جس کا آپ ذکر کر رہے ہیں۔ ریاستِ مدینہ کا نعرہ سیاسی ہتھیار بنانے سے کھوکھلا ہو جاتا ہے جب اسے پوری وفاق میں قانون کے یکساں اطلاق کی بجائے استعمال کیا جائے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی آئین، قانون کی حکمرانی اور عوام کے نمائندوں کے وقار کے لیے پرعزم ہے۔ ہم بغیر خوف و لالچ اپنے آئینی فرائض انجام دیتے رہیں گے۔میں تاریخ کا طالب علم ہوں اور تاریخ کا مطالعہ کرتا ہوں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ بھی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ امید ہے آپ ضرور کچھ نہ کچھ سیکھیں گے۔
دھمکیوں سے تو محبت نہیں کروا سکتے
تم ڈرا سکتے ہو عزت نہیں کروا سکتے
چاند کا نام کتابوں میں اندھیرا رکھ دو
پھر بھی تبدیل حقیقت نہیں کروا سکتے
تم ہتھیلی پر میرا سر تو اٹھا سکتے ہو
ہاں مگر ہاتھ پر بیعت نہیں کروا سکتے
— بابر سلیم سواتی
اسپیکر، صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا

26/09/2026

یہ کون سا قانون ہے؟
تین دن گزر گئے…
تین دن سے ایک سوال ہر زبان پر ہے:

جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر کے منتخب رکنِ قومی اسمبلی ایم این اے زبیر خان کہاں ہیں؟
مبینہ طور پر ایم این اے زبیر خان کو ڈیرہ اسماعیل خان میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکاروں اور دیگر افراد نے حراست میں لیا۔ اگر یہ ایک قانونی گرفتاری ہے اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے اگر ان پر کوئی الزام ہے تو پھر سوال بالکل سیدھا ہے۔
ایم این اے زبیر خان کو عدالت کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا گیا؟
یہ سوال صرف زبیر خان کا نہیں۔
یہ سوال ان ہزاروں لوگوں کا ہے جنہوں نے انہیں ووٹ دے کر پارلیمان تک پہنچایا۔
یہ سوال پاکستان کے آئین کا ہے۔
یہ سوال قانون کا ہے۔
یہ سوال انصاف کا ہے۔
اگر ایم این اے زبیر خان کے خلاف کوئی جرم ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔ ایف آئی آر درج ہو تفتیش ہو شواہد جمع کیے جائیں انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور پھر فیصلہ عدالت کرے۔
اگر جرم ثابت ہو تو سزا عدالت دے۔
اگر جرم ثابت نہ ہو تو عدالت بری کرے۔
مگر کسی شخص کو عدالت کے سامنے پیش کیے بغیر اس کی قانونی حیثیت کو غیر واضح رکھنا ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
پاکستان کا آئین شہری کی آزادی کو قانونی تحفظ دیتا ہے اور گرفتاری و حراست کے بارے میں بھی آئینی ضمانتیں فراہم کرتا ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے
ایم این اے زبیر خان کو عدالت میں کب پیش کیا جائے گا؟
اگر مقدمہ ہے تو مقدمہ سامنے آئے۔
اگر الزام ہے تو الزام عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
اگر تفتیش ضروری ہے تو قانون کے مطابق عدالتی اجازت حاصل کی جائے۔
کیونکہ قانون کا مطلب یہی ہے کہ ریاست بھی قانون کے تابع ہو۔
یہ ملک دو الگ قوانین کے ساتھ نہیں چل سکتا۔
ایک قانون طاقتور کے لیے اور دوسرا عام شہری کے لیے۔
ایک قانون کتاب میں لکھا ہو اور دوسرا طاقت کے استعمال سے نافذ ہو۔
ایسا نظام آخر کس آئین کا نظام ہے؟
آج سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایم این اے زبیر خان جیسے منتخب عوامی نمائندے کے معاملے میں بھی قانونی طریقۂ کار واضح نہیں ہوگا تو ایک عام شہری اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کس دروازے پر دستک دے گا؟
عدالت اسی لیے تو ہوتی ہے کہ الزام اور جرم کے درمیان فرق کیا جائے۔
ریاست کا کام الزام لگانا اور تفتیش کرنا ہے۔
فیصلہ عدالت کا کام ہے۔
اسی لیے ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ زبیر خان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
ہم صرف یہ کہتے ہیں
اگر کوئی جرم ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اگر مقدمہ ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔
اگر الزام ہے تو ثبوت پیش کیے جائیں۔
اور اگر عدالت نے فیصلہ کرنا ہے تو عدالت کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔
یہی آئین ہے۔
یہی قانون ہے۔
یہی انصاف کا بنیادی تصور ہے۔
آج ایم این اے زبیر خان کی حراست کا سوال صرف ایک سیاسی جماعت یا ایک علاقے کا سوال نہیں ہونا چاہیے۔
یہ سوال ہر پاکستانی کا ہونا چاہیے
کیا ریاست قانون کے تابع ہے یا قانون ریاست کی مرضی کے تابع؟
اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر زبیر خان کے لیے بھی وہی قانونی طریقۂ کار ہونا چاہیے جو کسی بھی دوسرے پاکستانی شہری کے لیے ہے۔

اور اگر کوئی الزام نہیں، کوئی قانونی بنیاد نہیں، یا قانونی طریقۂ کار اختیار نہیں کیا گیا تو پھر خاموشی مزید سوالات پیدا کرتی ہے۔
ہمیں کسی شخص کے خلاف انتقام نہیں چاہیے۔
ہمیں کسی ادارے سے تصادم نہیں چاہیے۔
ہمیں صرف آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدالت کے اختیار کا احترام چاہیے۔
ایم این اے زبیر خان کے خلاف اگر جرم ہے تو عدالت فیصلہ کرے۔
لیکن عدالت سے پہلے کسی کو مجرم قرار دینا انصاف نہیں۔
اور اگر گرفتاری قانونی ہے تو قانون کے مطابق انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
کیونکہ
شخص طاقتور ہو یا کمزور
رکنِ اسمبلی ہو یا عام شہری
حکمران ہو یا مزدور
آئین سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔
آج سوال صرف یہ نہیں کہ:
زبیر خان کہاں ہیں؟
اصل سوال یہ ہے:
وہ قانون کہاں ہے جس کے تحت زبیر خان کو حراست میں رکھا گیا ہے؟
اور اس سے بھی بڑا سوال
کیا پاکستان میں آئین سب کے لیے برابر ہے؟
ہم کسی فرد کی مرضی کا قانون نہیں چاہتے۔
ہم آئین کا قانون چاہتے ہیں۔
ہم عدالت کا انصاف چاہتے ہیں۔
ہم قانون کے مطابق کارروائی چاہتے ہیں۔
اور ہم یہ اصول زندہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ:
ریاست طاقت سے نہیں،
آئین سے چلتی ہے۔
ایم این اے زبیر خان کے معاملے میں بھی قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔
الزام ہو تو عدالت میں پیش کیا جائے،
اور فیصلہ صرف عدالت کرے۔

25/09/2026

احتجاجی اعلان
آج جنوبی وزیرستان لوئر، وانا بازار میں ایم این اے زبیر خان وزیر کی اغواء کاری کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ریکارڈ کیا جائے گا۔ تمام پی ٹی آئی کارکنان سے اپیل ہے کہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور اپنی آواز بلند کریں۔
یہ اغواء کاری نامنظور ی۔
یہ پردے کے پیچھے لوگوں کی سیاست میں مداخلت نامنظور نامنظور

21/09/2026

حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے دل کھول کر عطیات دیں

Waziristan, ❤️
19/09/2026

Waziristan, ❤️

19/09/2026

پشاور خیبرپختونخوا

02/09/2026

سٹریٹ مومنٹ ساؤتھ وزیرستان اپر
ایم این اے زبیر خان کی قیادت جنوبی وزیرستان اپر کے مختلف علاقوں کی دورہ
گھر گھر کو عمران خان کی رہائی کے حوالے سے پیغام ۔

30/08/2026

ایم این اے زبیر خان کے ہمراہ جنوبی وزیرستان اپر تحصیل شکتوئی کا دور ۔

02/08/2026

فخرِ وزیرستان فخرِ پاکستان! 🇵🇰🥊
وزیرستان کے بہادر سپوت احسان محسود نے آج تھائی لینڈ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر دیا۔
انہوں نے مسلسل تین اہم فتوحات اپنے نام کیں:
🥇 پہلی فائٹ قازقستان کے حریف کے خلاف کامیابی
🥇 دوسری فائٹ بھارت کے حریف کو شکست
🥇 تیسری فائٹ سری لنکا کے حریف کے خلاف فتح
یہ کامیابی صرف احسان محسود کی نہیں بلکہ پورے وزیرستان، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں، عزت اور عالمی سطح پر مزید فتوحات عطا فرمائے۔
احسان محسود کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک تمنائیں! 🌹🇵🇰
منجانب
رحمت گل محسود
فوکل پرسن ٹو ایم این اے زبیر خان
ساؤتھ وزیرستان

Address

Wana
PAK

Telephone

+923449407371

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RehmatGul Mehsud Pti Kpk Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to RehmatGul Mehsud Pti Kpk Official:

Shortcuts

Share