06/12/2025
یہ سردی…
سچ پوچھیں تو آج کی سردی ویسی بالکل نہیں رہی۔
میرا بچپن تو گیلی ہوا والی ٹھنڈ کا تھا— صبح اسکول جاتے ہوئے گالوں پر بوندوں کی طرح پڑتی تھی اور لگتا تھا جیسے میٹھی سی خ کی روح تک اتر گئی ہے۔
امی کا بنا ہوا نیلا اونی اسکارف جو یونیفارم کا حصہ تھا
ہائے، کیسی الجھن ہوتی تھی اسے لینے میں!
سوئی جیسے چبھتے تھے، گلے میں پھندا سا لگتا تھا،
اور میں روز کہتی، "امی نہیں چاہیے اور چھوٹا بھائی نیلی ٹوپی سے الجھن کرتا
مگر امی؟
وہ تو دروازے تک آکر بڑے ناز سے اسے میری ٹھوڑی کے نیچے کس کے باندھ دیتیں۔
ان کے ہاتھوں کی وہ گرمی…
آج سمجھ آتی ہے کہ امی صرف سردی نہیں، دنیا کی سختیاں بھی روک رہی تھیں۔
انہیں پتا تھا کہ گرمی ہی زندگی ہے۔
گھر آ کر صحن میں پھیلی ہوئی دھوپ…
اوہ، وہ دھوپ کیسی نعمت تھی
اس میں بیٹھ کر امی کی ابالی ہوئی شکر قندی کھانا—
کیا ہی شاہانہ اسنیک تھا!
ہاتھ جل بھی جائیں تو مزہ آتا تھا،
پھر امی دور سے آواز دیتیں:
"آہستہ کھاؤ، ابھی ابھی اتاری ہے!"
اس دھوپ میں بیٹھے بیٹھے مالٹے چھیلنا،
چھیلتے ہوئے پورا صحن خوشبو سے بھر جانا،
اور پھر آہستہ آہستہ آنکھیں بوجھل ہو کر بند ہو جانا…
وہ سستی، وہ نیند، وہ آرام—
ایسا لگتا تھا جیسے دنیا ہمارے لیے تھم گئی ہو۔
بڑے ہو کر یہ دھوپ شاید واقعی نصیب نہیں ہوئی،
یا شاید مصروفیت نے راستے میں کھڑے ہو کر چھین لی۔
اور دھند؟
جناب، وہ تو پورے سات دن جاڑے کی رانی بنی رہتی تھی۔
سورج اگر جھانکتا بھی تھا تو ایسے جیسے روٹھ کر آیا ہو۔
گلیاں، کھمبے، درخت—
سب دھند کے کمبل میں لپٹے ہوئے۔
کوئلے کی انگیٹھی کی سرخ سرخ چنگاریاں،
جس پر ہاتھ تاپتے ہوئے لگتا تھا جیسے زندگی تھوڑی دیر کو پگھل کر نرم ہو گئی ہو۔
رات کو رضائیوں کا اپنا میلہ لگتا تھا—
پھولوں والی بھاری رضائیاں،
جن میں روئی ٹکڑوں کی شکل میں جمع ہوتی رہتی تھی،
مگر ان کی گرمی؟
واہ… جیسے کوئی آپ کو گود میں اٹھا کر، سینے سے لگا کر سلائے۔
اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے بچپن کوئی زمانہ نہیں،
بلکہ ایک لمبی، مہکی ہوئی، دودھ ملائی جیسی یاد ہے
جو دل کے کسی کونے میں اب بھی گرم دہکتے کوئلے کی طرح رکھی ہے۔
اگر آپ نے یہ پڑھ کر ذرا سا بھی مسکرا لیا ہے
تو سمجھ لیں—
آپ کا بچپن کہیں نہیں گیا…
بس دھند میں لپٹا بیٹھا ہے
اور آپ نے ابھی اس کا ہاتھ تھوڑا سا پکڑ لیا ہے۔
نبیلہ ہارون کوثر