06/01/2023
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوا کہ نمرود سے ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اگر تُو خدائی کے دعوے میں سچا ہے تو میرا خُدا سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے مغرب میں غروب کرتا ہے تو اِسے مغرب سے طلوع کر کے دِکھا
یاد کیجیئے آپ نے ضرور سُنا یا پڑھا ہوگا کہ جب حضرت علی علیہ السلام کی نمازِ عصر قضا ہوگئی بوجہ حضورﷺ آپ کی گود مبارک میں سر رکھ کے سوئے ہوئے تھے تو حضورﷺ کو پتہ چلا تو حضورﷺ نے سورج کو مغرب سے طلوع کیا وقتِ عصر پہ لے آئے اور حضرتِ علی علیہ السلام نے نمازِ عصر ادا کی
واقعہ بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کو قرآن کے حِساب سے اور ابراہیم علیہ السلام کی گواہی سے جو سورج کو مغرب سے طلوع کرے وہ خُدا ہوسکتا ہے اب آپ خود اندازہ لگا لیں حضور ﷺ کی شان تو قرآن نے واضع کردی مثال دے کر اور ہاں حضرت علی وہ ہیں جن کے لیے سورج مغرب سے بھی طلوع کیا جا سکتا ہے اور اس میں نہ خدا کو اعتراض ہوا اور نہ حبیبِ خُدا کو اور ہاں قرآن کے حساب سے اس سے بڑھ کے کوئی حجت نہیں
بقلم خود غلامانِ غلام درگاہ کھرڑیانوالہ شریف خاکسار عبدالقادر قادری