H/Dr Sumaira Lodhi

H/Dr Sumaira Lodhi اگر آپکو کسی قسم کا مرض ہے جس کا علاج کرکر تھک چُکیں ہیں تو مشورے کے لیے کمنٹ میں بتاٸیں اللہ شفادیگا

05/09/2026

کیا آپکو لگتا ہے یہ ایک دن کی بچی ہے ؟؟؟ اس صحت مند بچی پر ڈاکٹرز نے تجربہ کیا کسی کے تجربے نے بچی کی جان
لے لی۔۔۔😭گورنمنٹ ہسپتالوں میں کسی عام شہری کے ذریعے وزٹ کروائیں اور حالات کا جائزہ لیں کہ وہاں معاسوم بچوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے روز ڈھیروں لوگوں کی موت ہو رہی اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔۔ جب DMS یا کسی سنئیر کا وزٹ ہوتا بس اس وقت سنئیر کا ڈر ہوتا اس کے علاؤہ ہسپتال کا عملہ میں چند لوگوں کے علاوہ سب ظلم کر رہے اس میسج کو بس دیکھیں نہیں آگے بھی شئیر کریں تا کہ ملک کے حالات کو بہتر بنایا جا سکے ۔سوچیں ایک ہسپتال
بے نظیر شہید کے نام پر جس میں نرسری میں 140 بچے ہوں اور جن کو بس 4 سٹاف سمبھال رہی ہوں باقی ٹریننگ والی لیڈی ڈاکٹرز اور ڈاکٹرز لوگوں کے بچوں کی زندگی کا سودہ کرتے اپنے تجربے کی زد میں معاسوم بچوں کی جان لے رہے ہیں ؟؟؟ آپ کی فیملی میں بھی کوئی ایسا واقعہ ہوا ہو گا کمنٹ میں ضرور بتائیں۔🖊️😭

01/09/2026

ظلم دنیا پر بڑھتا جا رہا ہے ۔ مگر پاکستان اس وقت ٹاپ پر اس لیے ہے کہ اس پر کسی دوسرے نے نہیں خود اپنے ہی لوگ سمجھ بوجھ سے آری کوئی پوچھنے والا نہیں ۔چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ، شیطانی طاقتیں زور پکڑ چکی ہیں اور ان کی زد میں عقل سے فارغ
مسلمان جو یہ بھول بیٹھے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے اور مرنے کے بعد اصل حقیقی زندگی شروع ہو گی اس حقیقی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اگر کچھ نہیں بھی ملتا تو آمیں بولیں مگر آج ایک جگہ ہسپتال جہاں جان بچانے کے لیے لوگ رخ کرتے ہیں اور جب وہاں ایسا سلوک ہو تو انسان کہاں جاۓ۔۔۔

😭

31/08/2026

یہ حالات ہیں ہمارے ملک کے ہسپتالوں کے ۔۔۔ ایک تو 140 بچوں کی نگہداشت کے لیے صرف اور صرف 4 سٹاف ممبرز اوپر سے آکسیجن کی شورٹج والدین کو ہی اجازت دے دو کیوں بچوں کو رکھ رکھ کر Trainy doctors کے تجربے صحت مند بچوں پر کروا کر انکو موت کا گھات اتارتے ہو ۔۔۔
اس جیسے کتنے بچے ہیں جن کی یہ ڈاکٹرز تجربات کی شکل میں جان لیتے ہیں اور کوئی انکو پوچھنے والا نہیں۔۔۔

06/07/2026

*ابروٹینم Abrotanum* کو *Artemisia Abrotanum*
یا
*جنوبی جھاڑی*
بھی کہتے ہیں۔
ابروٹینم کا مزاج ہے *"اوپر سے بہتر، نیچے سے کمزور"*
یعنی مریض اوپر سے ٹھیک لگے لیکن ٹانگیں، ہاتھ اور جسم کا نچلا حصہ بہت کمزور اور سوکھا ہوا ہو۔

# # # *2. اہم فائدے اور علامات*
**نظام** **علامات**
**ہاضمہ** بہت زیادہ بھوک لیکن وزن نہیں بڑھتا۔ پیٹ پھولا ہوا اور سخت۔ دست اور قبض کا باری باری آنا۔ بچوں میں دودھ ہضم نہ ہونا
**سانس** پرانی کھانسی، دمہ، سینے میں گھر گھراہٹ۔ سردی سے تکلیف بڑھنا
**جوڑوں کا درد** گٹھیا، گاؤٹ۔ درد ایک جوڑ سے دوسرے جوڑ میں شفٹ ہوتا رہے۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیاں سوج جانا
**بچے** بہت کمزور اور دبلے بچے۔ سر اور پیٹ بڑا، ٹانگیں پتلی۔ قد نہ بڑھنا۔ دانت نکلتے وقت دست لگ جانا
**جلد** زخم دیر سے بھرتے ہیں۔ جسم میں اندر سے ٹھنڈک محسوس ہونا
# # # *3. ابروٹینم کا مریض کیسا ہوتا ہے؟*
1. *جسم کا سوکھنا* - اوپر سے ٹھیک لیکن ٹانگیں اور بازو سوکھ رہے ہوں
2. *بھوک بہت زیادہ* لیکن پھر بھی طاقت نہ آئے
3. *سردی برداشت نہیں ہوتی*، ہوا لگنے سے تکلیف بڑھتی ہے
4. *چڑچڑا پن*، خاص طور پر بیمار بچے بہت ضدی ہو جاتے ہیں

# # # *4. سائیڈ ایفیکٹس*
ہومیوپیتھک دوا بہت باریک ڈوز میں ہوتی ہے اس لیے سائیڈ ایفیکٹ بہت کم ہیں۔
غلط دوا لینے سے وقتی طور پر وہی علامات بڑھ سکتی ہیں جس کے لیے دوا ہے۔

# # # *5. پوٹینسی اور خوراک*
عام طور پر *6C, 30C, 200C* استعمال ہوتی ہے۔

10/06/2026

ہومیوپیتھک طریقہ علاج پر یقین نہ رکھنے والے یا اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے والے افراد کے لیے ایک مدلل، سنجیدہ اور مثبت تحریر پیش ہے:
​ہومیوپیتھی: علامات کا علاج یا شفا کا ایک قدرتی سفر؟
​آج کی جدید اور تیز رفتار دنیا میں جہاں ہر بیماری کا فوری حل اور اینٹی بائیوٹکس کا استعمال عام ہو چکا ہے، وہاں ہومیوپیتھی پر سوال اٹھنا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ بہت سے لوگ اسے محض ایک "وہم" یا "پلاسیبو ایفیکٹ" (Placebo Effect) سمجھتے ہیں۔ لیکن کسی بھی چیز کو مکمل طور پر مسترد کرنے سے پہلے اس کے بنیادی فلسفے اور کام کرنے کے طریقے کو سمجھنا ضروری ہے۔
​ہومیوپیتھی صرف چند میٹھی گولیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ علاج کا ایک باقاعدہ اور گہرا سائنسدانوں والا طریقہ ہے جو درج ذیل اصولوں پر مبنی ہے:
​۔ جڑ سے علاج
نہ کہ صرف علامات کو دبانا
​روایتی ادویات (Allopathy) اکثر بیماری کی ظاہری علامات (جیسے درد، بخار یا الرجی) کو فوری طور پر دبا دیتی ہیں۔ اس کے برعکس، ہومیوپیتھی بیماری کے مستقل خاتمے کے لیے انسان کے اندرونی مدافعتی نظام (Immune System) کو بیدار کرتی ہے۔ یہ صرف بیماری کا نہیں، بلکہ پورے مریض کا علاج کرتی ہے۔


۔ مثل کا مثل سے علاج (Like Cures Like)
​یہ ہومیوپیتھی کا سب سے بڑا قانون ہے۔ جو قدرتی مادہ ایک صحت مند انسان میں کوئی علامت پیدا کر سکتا ہے، وہی مادہ انتہائی لطیف (Diluted) مقدار میں اس بیماری کو ختم کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے جدید سائنس میں ویکسین کام کرتی ہے— یعنی بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے لیے اسی عنصر کا ہلکا سا استعمال۔

۔ مضر اثرات (Side Effects) سے پاک
​جدید ادویات جہاں ایک بیماری ٹھیک کرتی ہیں، وہاں اکثر معدے، جگر یا گردوں پر برے اثرات چھوڑ جاتی ہیں۔ ہومیوپیتھک ادویات اپنی انتہائی باریک اور قدرتی خوراک کی وجہ سے ہر قسم کے زہریلے یا کیمیائی سائیڈ ایفیکٹس سے پاک ہوتی ہیں۔ اسی لیے یہ نوزائیدہ بچوں سے لے کر بزرگوں تک کے لیے یکساں محفوظ ہیں۔
​۔ سستا اور قابلِ رسائی علاج
​مہنگی ترین لیبارٹری رپورٹس اور برانڈڈ ادویات کے اس دور میں، ہومیوپیتھی ایک عام انسان کے لیے انتہائی کم خرچ اور پائیدار علاج ثابت ہوتا ہے۔
​ایک مخلصانہ سوچ:
سائنس کا مطلب ہی مسلسل تحقیق اور کھلے ذہن کے ساتھ مشاہدہ کرنا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں ایسے مریض موجود ہیں جنہیں دائمی امراض (جیسے الرجی، جوڑوں کا درد، جلدی بیماریاں اور نفسیاتی مسائل) میں ہومیوپیتھی سے مستقل شفا ملی، جہاں دیگر طریقے ناکام ہو چکے تھے۔
​کسی بھی طریقہ علاج کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت مریض کا صحت یاب ہونا ہے۔ ہومیوپیتھی کو شک کی نظر سے دیکھنے کے بجائے، اسے ایک بار صحیح طریقہ کار اور ایک ماہر معالج (Physician) کے مشورے سے آزما کر دیکھنا ہی اس کی حقیقت کو سمجھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
​بہت سے ایلوپیتھک (میڈیکل) ڈاکٹرز اپنے مریضوں کو روایتی علاج کے ساتھ کچھ خاص ہومیوپیتھک اور ہربل ادویات تجویز کرتے ہیں، خاص طور پر ان مسائل میں جہاں وہ نرم، قدرتی اور بغیر سائیڈ ایفیکٹس والا علاج چاہتے ہیں۔
ایلوپیتھک ڈاکٹرز عام طور پر جن ہومیوپیتھک ادویات یا جرمن فارمولیشنز (جیسے ڈاکٹر ریکویگ یا شوابے) کا سہارا لیتے ہیں، ان میں چند مشہور نام یہ ہیں:
1۔ چوٹ اور سوجن کے لیے (Pain & Inflammation)
آرنیکا (Arnica Montana): یہ ہومیوپیتھی کی سب سے مشہور دوا ہے جو ایلوپیتھک سرجنز اور آرتھوپیڈک ڈاکٹرز بھی اکثر سرجری، حادثے یا اندرونی چوٹ کے بعد سوجن، درد اور نیل (bruises) کو جلدی ٹھیک کرنے کے لیے تجویز کرتے ہیں۔
ٹرامیول (Traumeel): یہ ایک مشہور جرمن ہومیوپیتھک کمبینیشن (مرہم اور گولیاں) ہے، جسے دنیا بھر کے سپورٹس ڈاکٹرز اور فزیو تھراپسٹ جوڑوں اور پٹھوں کے درد کے لیے استعمال کرواتے ہیں۔
2۔ جگر کی صحت کے لیے (Liver Care)
کارڈوس میرینیس (Carduus Marianus / Milk Thistle): جگر کی چربی (Fatty Liver) یا یرقان کے لیے بہت سے ایلوپیتھک گیسٹرو انٹرولوجسٹ اس پلانٹ بیسڈ ہومیوپیتھک دوا کو جگر کو تقویت دینے کے لیے سپلیمنٹ کے طور پر لکھتے ہیں۔
چلیڈونیم (Chelidonium Majus): جگر اور پتے کے مسائل کے لیے اس کا استعمال بہت عام ہے۔
3۔ ذہنی دباؤ اور نیند کے لیے (Anxiety & Sleep)
پاسی فلورا (Passiflora Incarnata): یہ ہربل/ہومیوپیتھک ٹنکچر ہے جو اعصاب کو سکون دینے اور پرسکون نیند لانے کے لیے استعمال کروایا جاتا ہے تاکہ مریض کو ایلوپیتھک نیند کی گولیوں کا عادی نہ ہونا پڑے۔
4۔ گردے کی پتھری کے لیے (Kidney Stones)
بربرس ولگیرس (Berberis Vulgaris): گردے اور پتے کی چھوٹی پتھریوں کو نکالنے اور اس کے درد کو کم کرنے کے لیے بہت سے جنرل فزیشنز اس ہومیوپیتھک دوا کو ایلوپیتھک درد کش ادویات کے ساتھ استعمال کرواتے ہیں۔
5۔ بچوں کے مسائل اور قوت مدافعت کے لیے (Immunity & Digestion)
انفلوئنزینم (Influenzinum) / بائیو پلازم (Bioplasgen): بچوں کے دانت نکلنے کی تکلیف (جیسے بائیو پلازم نمبر 21) یا بار بار ہونے والے نزلہ زکام کے لیے چائلڈ سپیشلسٹ (Pediatricians) بھی ان نرم ہومیوپیتھک ادویات کا مشورہ دیتے ہیں۔
اہم نوٹ: اگرچہ یہ ادویات بہت محفوظ مانی جاتی ہیں، لیکن ایلوپیتھک ڈاکٹرز عام طور پر مریض کی ہسٹری دیکھ کر یا کسی مستند ہومیوپیتھک فزیشن کے مشورے سے ہی انہیں اپنے علاج کا حصہ بناتے ہیں۔

10/06/2026

ہومیو پیتھک طریقہ علاج ایک منفرد اور متبادل نظامِ طب ہے، جسے 18ویں صدی کے آخر میں ایک جرمن معالج ڈاکٹر سیموئل ہینیمن نے متعارف کرایا تھا۔ یہ علاج دنیا بھر میں کافی مقبول ہے اور لاکھوں لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔
​اس طریقہ علاج کو سمجھنے کے لیے اس کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
​1. بنیادی اصول (Like Cures Like)
​ہومیو پیتھی کا سب سے بڑا اصول "المثل بالمثل" (Similia Similibus Curentur) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز ایک تندرست انسان میں بیماری کی علامات پیدا کر سکتی ہے، وہی چیز ایک بیمار شخص میں ان علامات کو ختم بھی کر سکتی ہے—بشرطیکہ اسے بہت ہی کم اور ہلکی مقدار (Diluted form) میں دیا جائے۔
​2. انفرادی علاج (Individualized Treatment)
​اس میں صرف بیماری کا نہیں، بلکہ بیمار کا علاج کیا جاتا ہے۔ ہومیو پیتھک ڈاکٹر مریض کی صرف جسمانی علامات ہی نہیں دیکھتا، بلکہ اس کی ذہنی حالت، مزاج، پسند ناپسند، اور طرزِ زندگی کو مدنظر رکھ کر دوا تجویز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی بیماری (جیسے سر درد) کے دو مختلف مریضوں کو الگ الگ دوائیں دی جا سکتی ہیں۔
​3. محفوظ اور سائیڈ ایفیکٹس سے پاک
​ہومیو پیتھک ادویات قدرتی اشیاء (پودوں، معدنیات اور جڑی بوٹیوں) سے تیار کی جاتی ہیں۔ ان کی تیاری میں پوٹینسی (Potentization) کا عمل استعمال ہوتا ہے، جس کی وجہ سے دوا کی مادی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے لیکن اس کی شفا بخش طاقت بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے یہ ادویات عام طور پر محفوظ ہوتی ہیں اور ان کے مضر اثرات (Side effects) نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے بھی انتہائی محفوظ مانی جاتی ہیں۔
​4. بیماری کی جڑ پر کام کرنا
​روایتی ایلوپیتھک ادویات بعض اوقات علامات کو عارضی طور پر دبا دیتی ہیں، جبکہ ہومیو پیتھی کا مقصد جسم کے اندرونی مدافعتی نظام (Vital Force) کو بیدار کرنا ہے تاکہ جسم خود بیماری کے خلاف لڑے اور اسے جڑ سے ختم کرے۔ یہ خاص طور پر دائمی (پرانی) بیماریوں جیسے کہ الرجی، جوڑوں کا درد، جلد کے مسائل اور ذہنی دباؤ میں بہت موثر ثابت ہوتی ہے۔
​ایک متوازن پہلو: > جہاں ہومیو پیتھی پرانی اور پیچیدہ بیماریوں میں بہترین نتائج دیتی ہے، وہاں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ فوری ہنگامی حالات (Emergency) یا سرجری کی ضرورت والے معاملات میں یہ ایلوپیتھی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
​خلاصہ یہ کہ ہومیو پیتھک ایک انتہائی نرم، قدرتی اور گہرا اثر رکھنے والا طریقہ علاج ہے، جو انسان کو مجموعی طور پر شفا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر اسے ایک ماہر اور تجربہ کار ہومیو پیتھک معالج کی زیرِ نگرانی اپنایا جائے، تو یہ صحت کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

10/06/2026

جسم میں خون کی کمی (جسے طبی زبان میں انیمیا - Anaemia کہا جاتا ہے) اس وقت ہوتی ہے جب خون میں سرخ خلیات (Red Blood Cells) یا ہیموگلوبن کی مقدار معمول سے کم ہو جائے۔ ہیموگلوبن کا کام پورے جسم میں آکسیجن پہنچانا ہوتا ہے، اس لیے اس کی کمی سے جسم کے مختلف اعضاء بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
​خون کی کمی کی صورت میں عام طور پر درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

عام اور ابتدائی علامات
​ہر وقت تھکن اور کمزوری: بغیر کسی سخت کام کے بھی شدید تھکن کا احساس ہونا اور جسم میں توانائی کی کمی محسوس ہونا۔
​رنگت کا پیلا پڑنا: چہرے، جلد، ناخنوں، اور آنکھوں کے اندرونی حصے کی قدرتی سرخی ختم ہو جانا اور ان کا پیلا یا سفید نظر آنا۔
​سانس پھولنا: معمولی سا چلنے، سیڑھیاں چڑھنے یا روزمرہ کے کام کرنے سے بھی سانس کا اکھڑ جانا یا سانس لینے میں دشواری ہونا۔

دل اور دماغ پر اثرات
​سر چکرانا یا سر درد: دماغ کو آکسیجن کی مطلوبہ مقدار نہ ملنے کی وجہ سے اکثر سر بھاری رہنا، درد ہونا یا چکر آنا۔
​دل کی دھڑکن کا تیز ہونا: آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دل کو زیادہ تیزی سے کام کرنا پڑتا ہے، جس سے دھڑکن بے ترتیب یا تیز محسوس ہوتی ہے۔
​ہاتھ اور پاؤں کا ٹھنڈا ہونا: جسم کے آخری حصوں (ہاتھوں اور پیروں) میں خون کی گردش کم ہونے سے وہ اکثر ٹھنڈے رہتے ہیں۔

​ظاہری اور دیگر علامات
​ناخنوں کا کمزور ہونا: ناخنوں کا جلدی ٹوٹ جانا یا ان کی شکل چمچ کی طرح (Spoon-shaped) اندر کو مڑ جانا۔
​بالوں کا گرنا: بالوں کی جڑوں کو غذائیت نہ ملنے کے باعث بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں۔
​عجیب چیزیں کھانے کی خواہش (Pica): بعض اوقات شدید کمی کی وجہ سے مٹی، چاک، برف یا کچی دالیں/چاول چبانے کا دل کرتا ہے۔
​زبان میں سوزش: زبان کا سوج جانا، اس پر چھالے بننا یا اس کی سطح کا بالکل ہموار
(Smooth) ہو جانا۔
​اہم نوٹ: اگر ان میں سے اکثر علامات مسلسل ظاہر ہو رہی ہوں، تو سب سے بہترین اور پہلا قدم
CBC (Complete Blood Count) ٹیسٹ کروانا ہے تاکہ ہیموگلوبن کی اصل سطح کا پتہ لگایا جا سکے اور اسی حساب سے خوراک یا علاج کا تعین کیا جائے۔

جگر کی خرابی یا بیماری کی علامات ابتدا میں بہت معمولی ہو سکتی ہیں، لیکن جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، درج ذیل خاص اور واضح ...
10/06/2026

جگر کی خرابی یا بیماری کی علامات ابتدا میں بہت معمولی ہو سکتی ہیں، لیکن جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، درج ذیل خاص اور واضح علامات سامنے آنے لگتی ہیں:

رنگت کی تبدیلی (یرقان / Jaundice)
​آنکھوں اور جلد کا پیلا ہونا: یہ جگر کی بیماری کی سب سے بڑی اور واضح علامت ہے۔ جگر جب خون میں موجود 'بلیروبن' (Bilirubin) نامی مادے کو صاف نہیں کر پاتا، تو جلد اور آنکھوں کا سفید حصہ پیلا نظر آنے لگتا ہے۔
​گہرے رنگ کا پیشاب: پیشاب کا رنگ گہرا زرد یا چائے کی طرح براؤن ہونا۔
​ہلکے رنگ کا پاخانہ: پاخانے کا رنگ مٹیالہ یا ہلکا ہونا۔

پیٹ اور جسمانی تبدیلیاں
​پیٹ میں سوجن اور درد: پیٹ کے دائیں جانب (جہاں جگر ہوتا ہے) درد یا بھاری پن محسوس ہونا۔ بیماری بڑھنے پر پیٹ میں پانی بھر سکتا ہے جسے 'Ascites' کہتے ہیں، جس سے پیٹ غبارے کی طرح پھول جاتا ہے۔
​پیروں اور ٹخنوں میں سوجن: جسم میں پانی رکنے کی وجہ سے پیروں اور ٹخنوں پر مستقل سوجن آ جانا۔

نظامِ ہضم کی خرابی
​بھوک میں شدید کمی: کھانے کی خواہش بالکل ختم ہو جانا۔
​متلی اور قے: بار بار الٹی آنے کا احساس ہونا یا الٹی آ جانا۔
​وزن کا اچانک گرنا: بغیر کسی کوشش کے وزن میں تیزی سے کمی آنا۔

جلد کی علامات
​شدید خارش: جلد پر کسی بظاہر وجہ یا ریشز کے بغیر مستقل اور تیز خارش ہونا (یہ صفراوی نمکیات کے خون میں جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے)۔
​آسانی سے نیل پڑنا یا خون بہنا: معمولی سی چوٹ پر بھی جلد کا نیلا ہو جانا یا خون کا بہنا جلدی بند نہ ہونا، کیونکہ جگر خون جمانے والے پروٹین بنانا کم کر دیتا ہے۔

عام جسمانی کمزوری
​مستقل تھکن اور بے سستی: بھرپور نیند اور آرام کے باوجود ہر وقت شدید تھکن کا احساس رہنا۔
​دماغی الجھن (Hepatic Encephalopathy): جگر جب زہریلے مادوں کو خون سے صاف نہیں کر پاتا، تو وہ دماغ پر اثر کرتے ہیں۔ اس سے چیزیں بھولنا، توجہ مرکوز نہ کر پانا، نیند کا شیڈول خراب ہونا یا شدید غنودگی چھانا شامل ہیں۔
​⚠️ اہم نوٹ: اگر ان میں سے کوئی بھی علامت (خاص طور پر آنکھوں کا پیلا پن، پیٹ میں سوجن یا گہرے رنگ کا پیشاب) مسلسل ظاہر ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کر کے جگر کے ٹیسٹ
(جیسے LFTs یا الٹراساؤنڈ)
کروانے چاہئیں تاکہ بروقت تشخیص ہو سکے۔

10/06/2026

Address

Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when H/Dr Sumaira Lodhi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category