26/08/2026
شیخ بدین نیشنل پارک ڈیرہ اسماعیل خان سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد تک زیتون 🌳 پودے کی ایک تاریخی داستان
ڈیرہ اسماعیل خان کے رکنِ قومی اسمبلی جناب فیصل امین خان گنڈا پور نے ایک تاریخی نسبت رکھنے والا شیخ بدین کے زیتون درخت سے لی ہوئی شاخ کا پودا پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں شجرکاری کے لیے پیش کیا، جسے 25 اگست 2026ء کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں اپنے ہاتھوں سے لگا کر مون سون شجر کاری مہم کا افتتاح کیا۔ یہ محض ایک پودا نہیں بلکہ اپنے اندر ایک طویل تاریخی سفر سمیٹے ہوئے ہے۔
اس زیتون کے پودے کی نسبت یروشلم کے تاریخی کوہِ زیتون سے بیان کی جاتی ہے۔
روایت کے مطابق 1870ء کی دہائی میں (ریورنڈ ٹی۔ جے۔ ایل۔ مائر) (Rev. T. J. L. Mayer) یروشلم کے کوہِ زیتون پر موجود ایک قدیم زیتون کے درخت کی قلم ڈیرہ اسماعیل خان کے شیخ بدین نیشنل پارک کی پہاڑیوں تک لے کر آئے۔ یہ تاریخی درخت آج بھی شیخ بدین کے پہاڑ پر استقامت سے کھڑا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مادری درخت اُس وقت بھی تقریباً دو ہزار سال قدیم تھا اور اس نے تاریخ کے کئی ادوار، بالخصوص یہودیت، عیسائیت اور اسلام کے عروج و ارتقاء کا زمانہ دیکھا تھا۔
شیخ بدین کی سخت آب و ہوا اور ناموافق حالات کے باوجود وہ ننھی سی قلم جڑ پکڑنے میں کامیاب ہوئی اور وقت کے ساتھ ایک درخت بن گئی۔ یوں یروشلم کے کوہِ زیتون سے آنے والی ایک شاخ نے ڈیرہ اسماعیل خان کی سرزمین پر اپنی نئی زندگی شروع کی۔ اور آج 150 سال سے زائد عرصے بعد، اسی تاریخی نسبت سے جڑا زیتون کا پودا پاکستان کی پارلیمنٹ تک پہنچ چکا ہے۔
25 اگست 2026ء کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں مون سون شجر کاری مہم کے افتتاح کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے یہ زیتون کا پودا لگایا۔ تقریب میں اراکینِ پارلیمنٹ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلیٰ افسران اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی، جبکہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے فیصل امین خان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے یہ زیتون کا پودا شجرکاری کے لیے فراہم کیا۔ سردار ایاز صادق نے شجرکاری کو ماحول کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آب و ہوا زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ہے اور اس کی کاشت کو فروغ دے کر پاکستان خوردنی تیل کے شعبے میں خودکفالت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
یوں ایک ننھا سا زیتون کا پودا یروشلم کے کوہِ زیتون سے شیخ بدین، ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر پاکستان کے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد تک پہنچ کر ایک خوبصورت تاریخی اور ثقافتی سفر کی علامت بن گیا ہے۔ یہ صرف ایک پودا نہیں، بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان کی مٹی سے جڑی ایک ایسی داستان ہے جو تاریخ، فطرت اور پاکستان کے مستقبل کو آپس میں جوڑتی ہے۔
اللّٰہ تعالٰی شیخ بدین نیشنل پارک کے اس پودے کو شاداب رکھے، اسے پروان چڑھائے اور اسے پاکستان میں سرسبزی، خوشحالی اور ترقی کی علامت بنائے۔ آمین۔
Ministry of Climate Change, Govt of Pakistan
Government of Khyber Pakhtunkhwa
Forestry Environment & Wildlife Department Khyber Pakhtunkhwa
D.I.Khan Wildlife Division
Khyber Pakhtunkhwa Culture and Tourism Authority
#پاکستان #زیتون #شجرکاری