19/02/2026
محترم جنید خان صاحب
سیکرٹری، کلائمیٹ چینج، جنگلات، ماحولیات و وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا
السلام علیکم!
آپ کی قیادت میں محکمہ کی جانب سے Spring Plantation Campaign 2026 کا آغاز ہونے جا رہا ہے جو ماحولیاتی تحفظ اور سبز پاکستان کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ 🌳🌲🌴
اس سلسلے ہم شیخ بدین نیشنل پارک (ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر پختونخوا) میں بہار کی پلانٹیشن کرنے کی اور اس سلسلے میں تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔
خاص طور پر ہماری گزارش ہے کہ چھوٹے پودوں یا (seedlings) کی بجائے درمیانے عمر کے پودے ( تقریباً 3-5 فٹ یا اس سے زیادہ اونچے) لگائے جائیں تاکہ درخت جلدی بڑھ سکیں اور ماحول پر تیزی سے مثبت اثر ڈال سکیں۔ یہ حکمت عملی ماحولیاتی فوائد کو جلد حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
یہ مہم ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔💚💚
ہم آپ کی رہنمائی اور منظوری کا منتظر ہیں۔
Thank you. Junaid Khan (Secretary)
Climate Change, Forests, Environment and Wildlife, Khyber Pakhtunkhwa
والسلام دعا گو سادات گیلانی آف شیخ بدین نیشنل پارک
اس کے علاوہ ہم کچھ پلانٹیشن کے حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ کہ چھوٹے پودے لگانا اچھا ہے، لیکن اگر ہم جلدی ماحولیاتی تبدیلی لانا چاہیں یا سر سبز پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں چھوٹے پودوں کی پلانٹیشن کو ترک کر کے درمیانے عمر کے درختوں کی پلانٹیشن کرنی ہوگی تاکہ درختوں کے درمیانے عمر کے لحاظ سے اور کم دیکھ بھال کی وجہ سے ہمیں ماحول پر جلد بہتر اثرات مل سکے۔
ہمارا مشورہ ہے کہ چھوٹے پودوں کی پلانٹیشن کی اس سوچ کو ہمیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور درمیانے عمر کے درختوں 🌲 کی پلانٹیشن لگانے کے شعور کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم جلد کلائمٹ چینج کے اثرات سے اپنے ملک اور لوگوں کو بچا سکیں۔ تاکہ لوگ دیکھیں کہ ماحولیات میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے!
بڑے یا درمیانے عمر کے پودوں کی پلانٹیشن کے فوائد اور ماحول پر اثرات:
بڑے درخت 🌲 کاربن ڈائی آکسائیڈ جلدی جذب کرتے ہیں۔ درمیانے عمر کے درخت لگانے سے جلدی regeneration ممکن ہے، خاص طور پر نیشنل پارکس جیسے شیخ بدین نیشنل پارک میں جہاں ماحولیات حساس اور پانی کی قلّت ہوتی ہے۔ اسلئے ہمیں بڑے پودوں کو ترجیح دینا ہوگی۔ درمیانے بڑے عمر کے درخت پہلے سے ہی بڑے ہوتے ہیں، ان کی شاخیں اور پتے زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے وہ فوری طور پر ماحول پر اثر انداز ہو جاتے ہیں۔
بڑے درخت ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیلاب، گرمی کی لہریں اور خشک سالی بڑھ رہی ہے، جلدی بڑے درخت لگانے سے تیز کلائمیٹ ریلیف مل سکتا ہے۔ درمیانے عمر کے درخت پہلے سے مضبوط جڑیں رکھتے ہیں تناور اور پتے زیادہ رکھتے ہیں، درمیانے عمر کے درخت لگانے سے انسان و حیوانات کو فوری سایہ مل جاتا ہے، صاف ہوا کا رحجان بڑھ جاتا ہے، زمینی کٹھاو رک جاتی ہے اور پرندوں/جانوروں کے لیے habitat بن جاتا ہے۔ اس لیے بڑے درخت زیادہ resilient ہوتے ہیں۔ وہ جلدی establish ہو جاتے ہیں۔
درمیانے یا بڑے درختوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کم محنت کی بدولت پودے بہت کم ضائع ہوتے ہیں۔ بڑے پودوں کی خرید سے پیسوں کی بچت ہوتی ہے۔ اور اصل میں زیادہ درخت زندہ رہتے ہیں۔ بڑے پودوں کی ابتدائی لاگت زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بڑے پودے مہنگے ہوتے ہیں، لیکن ماحول کے لحاظ سے طویل مدتی میں بچت ہوتی ہے۔ بڑے پودوں کے فوری فوائد سے معاشی فوائد بڑھ جاتے ہیں یعنی (سیاحت، لکڑی، پھل وغیرہ) پاکستان کی پچھلی
Billion Tree Tsunami & 10 Billion Tree Tsunami
پروگرامز میں بھی دیکھا گیا کہ جہاں حفاظت اور بہت پودے استعمال ہوئے، وہاں پر ماحولیاتی نظام میں بہتری آئی جس کی بدولت زیادہ کامیابی ملی۔
چھوٹے پودوں کی ماحول میں اہمیت اور بجٹ پر اثرات:
چھوٹے پودے کو بڑا ہونے میں 5-10 سال یا اس سے زیادہ لگتے ہیں۔ چھوٹے پودیں زیادہ بقا کی شرح کے لحاظ سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ یعنی جانوروں کی چرائی، خشک سالی، شدید گرمی، یا پانی کی کمی سے آسانی سے مر جاتے ہیں۔ پاکستان کے پہاڑی اور نیم خشک علاقوں (جیسے شیخ بدین نیشنل پارک) میں چھوٹے پودوں کی پلانٹیشن کی بقاء کم ہوتی ہے۔ چھوٹے پودے کم دیکھ بھال یا ماحولیاتی سختی کی وجہ سے زیادہ تر پودے مر جاتے ہیں جس سے پیسوں کا ضیاع اور وقت کا ضیاع دونوں ہو جاتے ہیں اصل میں بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے پودے لگانے کے بعد 5-10 سال تک علاقہ بالکل خالی نظر آتا ہے، لوگوں کو لگتا ہے کہ مہم ناکام ہو گئی ہے۔