19/04/2024
سن 2007-2008 میں فرقہ پرستی اور دہشتگردی نے ڈیرہ اسماعیل خان کا روخ اچانک نہیں کیا تھا بلکہ آہستہ آہستہ اپنی جڑیں مضبوط کرتے ہوئے شہر میں تباہی مچا دی تھی کیونکہ جب فرقہ واریت اور دہشتگردی ڈیرہ میں قدم جما رہی تھی تب ہم سب ڈیرہ وال ارام کی نیند سو رہے تھے اور کسی کو فکر نہیں تھی کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے اور پھر جب انکھ کھلی تو پتہ چلا کہ اس آگ میں کوئی ایسا گھر نہیں رہا جس کو اس اگ نے پلیٹ میں نا لیا ہو اور ہر ایک گھر گلی اور کوچہ سے نوجوانوں کے جنازے نکلے۔ اج پھر ایک بار دہشتگردی کا روخ ہمارے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف ہے ائے روز شہر میں حملے ، ٹارگٹ کلنگ اور دھماکہ معمول کا حصہ بن چکے ہیں اور ڈیرہ وال ابھی تک سو رہے ہیں اور کسی کو بھی اس شہر کے مستقبل اور نوجوانوں کی فکر نہیں کہ ایک بار پھر ہمارے نوجوان نسل اور ہمارے شہر کے مستقبل کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور اگر اس بار ڈیرہ والوں نے ایک ہو کر اپنے شہر کے امن اور مستقبل کے لیے وقت پر آواز نا اٹھائی تو ہماری نسلیں تباہ ہو جائیں گی۔ زیر نظر تصویر کچھ دن پہلے درابن روڈ پر ایکسائیز اہلکاروں پر ہونے والے حملہ میں شہید ہونے والی معصوم بچی کی ہے اگر اج اس بچی کی شہادت پر سوال نا اٹھایا گیا تو اپنے بچے اور بچیوں کے کفن دفن کا انتظام کر رکھیں۔ ہم ڈیرہ میں رہنے والی تمام اقوام سے بھرپور اپیل کرتے ہیں کہ شہر میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے خلاف بھرپور اواز اٹھائیں، بھرپور مزاحمت کا راستہ اپنائیں، احتجاج کریں، روڈوں پر نکلیں اور اس ظلم کا راستہ روکیں۔ مزاحمت کی صورت میں 10 ڈیرہ والوں کی جان جائے گی اور مزاحمت نا کرنے کی صورت میں 1000 ڈیرہ والوں کے جنازے نکلیں گے۔ فیصلہ اپکے اپنے ہاتھ میں ہے