12/05/2026
دو دن پـہلـے چـترال میں بزمِ افضل کـے نام پر ایک محفلِ مشـاعرہ منعقد ہوئی جس میں کئی نامـور شعـراء نے شـرکت کی جن شعـراء کے پاس واقعی علم شعری شـعور اور زبان کی خـوبصورتی موجود تھی، انـہوں نے بــہترین کلام پیش کیا اور سـامعین کے دل جیت لیے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ بھی کــہنا پڑتا ہے کہ کچھ ایسے برائے نام شاعر بھی موجود تھـے جن کا کلام سن کر انسـان کو شاعری سے ہی بدظن ہونے لگتا ہے
ایسا بے معنی، بے وزن اور بے بحــر کلام پیش کیا گیا کہ محسـوس ہوا جیسے کھـوار زبان کے حسن اور وقار کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہو
سب سے زیادہ افسـوس اس بات پر ہوا کہ وہاں موجود بعض شعراء اور سـامعین بغیر سمجھـے ہر کلام پر واہ واہ کرتے رہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ اب معیارِ شاعری نہیں بلکہ شخصیت دیکھی جاتی ہے۔ اگر کوئی مشـہور ہے تو چاہے وہ کتنی ہی بے مقصد باتیں کرے، اسے داد ضرور ملے گی
اگر ہم واقعی اپنی کھـوار زبان، ادب اور شـاعـری سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں سچ بولنا ہوگا اچھی شاعری کی تعریف ضرور کریں مگر کمزور اور بے معیـار کلام کو صرف تعلقـات یا شخصیت کی بنیـاد پر داد دینا ادب کے ساتھ زیادتی ہے۔ کـیونکہ جب معیار ختم ہوجائے تو زبان اور ادب
دونوں اپنا حسن کھـو دیتے ہیں۔
ڈوک یخـدیز