14/06/2026
🌟 اسم اعظم کی حقیقت 🌟
سوال:
ایک صاحب آکسفورڈ سے آئے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اسم اعظم کے بارے میں تفصیلاً بتائیں۔
جواب:
دیکھو تم آکسفورڈ جا رہا تھا بہتر ہوتا آپ وہیں پوچھ لیتے (مسکراتے ہوئے) — اسم اعظم کے بارے میں سب سے خوبصورت بات شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی ہے — آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی اسمِ پروردگار ایسے کہے کہ اس کے علاوہ تیرے دل میں کچھ نہ ہو تو وہ اسم اعظم ہے۔
اس کے علاوہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ قرآن میں اسم اعظم سورۃ طٰہٰ اور سورۃ بقرہ میں ہے — سورۃ بقرہ میں جو اسم ہے: ’’اللَّہُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ‘‘ مگر ایک اور اسم ہے جو اس کے parallel کھڑا ہے — بہت بڑا سا اسم ہے یہ، دراصل دو اسماء الٰہی ہیں — اس میں ایک ثَمانِیَہ (آٹھ) ہیں اور دوسرے کے تحت امورِ انتظامیہ ہیں — ایک constructive universe (تخلیقی کائنات) کا اسم ہے اور ایک executive universe (انتظامی کائنات) کا اسم ہے — اور executive کی چونکہ اہمیت زیادہ ہوتی ہے — جیسے اگر ایک شخص پی آئی اے میں آئے تو وہ تھانیدار بننا پسند نہیں کرتا، ہم اکثر کہتے ہیں — اس لیے لوگ executive کے اسماء کو اسم اعظم کہتے ہیں — جو فیکٹ نہیں ہے — فیکٹ دوسرا ہے — وہ اسم ہے:
’’وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَّا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّہُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ‘‘ {البقرۃ:163-164}
یہ اسم اعظم تمام کائنات کا، تمام تخلیق کا ہے — اسی سے خدا نے زمین و آسمان بنائے — اسی سے اللہ نے بادلوں کو ٹھہرایا — اسی سے طے ہوئیں — اسی سے حضرت سلیمانؑ کو ہواؤں کی تسخیر عطا کی گئی — تو یہ تخلیق کے آٹھ پہلوؤں کو cover کرتا ہے — یہ اسم اعظم ہے!
اور دوسرا بھی اسم اعظم ہے — اس میں بھی آٹھ صفتیں ہیں مگر وہ executive گروہ ہے اور اس میں پریکٹیکل چیزیں ہیں: ’’اللَّہُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ‘‘ — اور جو حکمران ہے، مالک ہے، جو حکمران ہے اس کے لیے سونا مناسب نہیں ہے: ’’لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ‘‘ اس کو نیند نہیں آتی — ’’لَّہُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ‘‘ {البقرۃ:255} — اس کا جو کچھ ہے — تمام آیت الکرسی کی جتنی صفات ہیں وہ حکمران کی صفات ہیں — اور جو دوسرا اسم ہے آپ کو بتایا، اُس کی تمام صفات تخلیق کاری کی صفات ہیں — یہی دو تمام اسم اعظم ہیں — یہ طریقہ ہے آپ دونوں پڑھ لیا کرو تین سو بار — کیا پتا آپ کے گھر میں فرشتے house cleaning کے لیے آجائیں — فرشتے زمین پر اتر آتے ہیں — آپ سے ملنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔
پچھلے لیکچر میں میں نے آگے بڑھنے کے لیے ایک نکتہ بیان کیا تھا — قرآن کی تلاوت ایک ایسی چیز ہے کہ اس کی دو صفات ہیں — پہلی صفت یہ ہے کہ صبح کا قرآن حاضر کیا جاتا ہے — ’’إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا‘‘ {بنی اسرائیل:78} — صبح کا قرآن حاضر کیا جاتا ہے — دوسری بات یہ ہے کہ اگر خوبصورت پڑھو تو فرشتے باہر نکل کے سلام دعا بھی لے لیتے ہیں۔
حضرتِ اُسید کے واقعہ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنے بچے کی چارپائی کے پاس قرآن شریف پڑھ رہا تھا — پھر میں نے دیکھا کہ آسمان کے کچھ بادل نیچے آئے ہیں — وہ اتنے نیچے پاس آتے گئے — انہیں ڈر لگا کہ میں ذرا درمیان میں کچھ کرلوں، میرے بچے کو زخمی نہ کردیں — میں نے تلاوت بند کردی — حضور ﷺ نے فرمایا: اُسید! وہ ملائکہ تھے جو تیری خوش الحانی اور تیری خوبصورت تلاوت کی وجہ سے زمین پر اتر رہے تھے — اگر تو تلاوت جاری رکھتا تو یہ بادلوں سے نکل کے تجھ سے مصافحہ کرتے — یہ مت سمجھنا کہ وہ لوگ پرانے تھے، بڑے تھے — اس لیے آج نہیں بلا سکتے — میں بالکل آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں۔
کتاب: رموزِ الٰہیات
مصنف/مولف: سید انجم محمود گیلانی
راوی: پروفیسر احمد رفیق اختر
پیج نمبر: 152 — 155
#رموزالٰہیات, #پروفیسراحمدرفیقاختر, #احمدرفیقاختر, , , , , #روحانیت, ٰہی, , , #سیدانجممحمودگیلانی, , , , , , , ,
#رموزالٰہیات #پروفیسراحمدرفیقاختر #قرآن