01/05/2026
پیٹرول بم اور سی این جی بحران — عوام کی زندگی اجیرن!
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوشربا اضافہ، عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 6 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 19 روپے تک اضافہ کر کے مجموعی طور پر نرخ 399 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچا دینا عام آدمی کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے آئے روز پیٹرول بم گرانا نہ صرف معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے بلکہ پہلے سے پسے ہوئے غریب طبقے کی کمر توڑ رہا ہے۔ یہ اضافہ کسان، مزدور، ٹیکسی ڈرائیور اور رکشہ چلانے والے افراد کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔
اسی طرح صوبائی حکومت خیبر پختونخوا سے بھی سوال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے صوبے میں سی این جی (Gas) کی بندش کیوں برقرار ہے؟ اس فیصلے نے غریب طبقے کی روزی روٹی مکمل طور پر متاثر کر دی ہے۔ ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد مجبوری میں پیٹرول استعمال کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے، اور آخرکار اس کا بوجھ بھی عام شہری کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں عوامی ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہیں۔ PTIP مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کی جائے اور خیبر پختونخوا میں سی این جی کی بلاجواز بندش ختم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
عوام مزید مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ حکمران طبقہ زمینی حقائق کو سمجھے اور فوری عملی اقدامات کرے۔
پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرن کے ضلع رہنما وقار خان