20/06/2026
تحریک خدائی خدمت گار ترناب چارسدہ
کارکردگی رپورٹ
تاریخ: 20 جون 2026
پروگرام:
پیغامِ محرم الحرام و اتحادِ امت کانفرنس
مقام: گورنر ہاؤس پشاور
دعوت: جناب محمد اسرار مدنی
تحریک خدائی خدمت گار ترناب چارسدہ کے شریک ممبران:
صدر: ڈاکٹر حمید خان
نائب صدر: بخاری شاہ
انفارمیشن سیکرٹری: انسپکٹر سلیمان شاہ
گورنر ہاؤس میں محرم الحرام و اتحاد امت کے عنوان سے علما و مشائخ نے محرم الحرام میں قیام امن کیلئے 15 نکاتی قومی بیانیہ پیغام پاکستان کی روشنی میں ضابطہ اخلاق جاری
پاکستان کے جید علما کرام اور تمام مکاتب فکر کے علما نے محرم الحرام کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے تمام علما ، دینی مدارس ، ارباب منبر و محراب اور اساتذہ کرام سے درخواست کی ہے کہ وہ محرم الحرام کے دوران امن ، بین المسالک ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو یقینی بناتے ہوئے اس ضابطہ اخلاق پر عمل کریں ۔ مفتی اسامہ اجمل قاسمی اور گورنر کے پی نے ملی یکجہتی کونسل کے اعلامیہ سمیت ، متحدہ علما بورڈ اور اسلامی نظریاتی کونسل اور پیغام پاکستان کے تمام ضابطہ ہائے اخلاق کی تائید کرتی ہے اور تمام شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ محرم کے مبارک ایام میں امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں ۔۔۔۔۔
اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے راہنماوں ، مفتی اسامہ اجمل قاسمی ، علامہ ہشام الٰہی ظہیر سربراہ جمعیت اہلُ حدیث، محمد اسرار مدنی سربراہ انٹرنیشنل ریسرچ کونسل، پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، مولانا یوسف شاہ سیکرٹری جنرل جمعیت علما اسلام س، پیر محمد جنید انور سجادہ نشین گھمکول شریف، حاجی عبدالجلیل جان، مفتی ابو محمد، بلاگر عمار خان یاسر، علامہ عابد حسین شاکری، مولانا عبدالقدوس نقشبندی , مولانا عبدالحق ثانی امیر جمعیت علما اسلام س، مولانا عبدالقدوس نقشبندی، ڈاکٹر حمید اللہ ، حاجی فرمان علی ، سلیمان شاہ ، ، پیر احسان الحق ، جمعیت علما اسلام ف کے پی کے سیکرٹری اطلاعات حاجی عبدالجلیل جان ، پیر چراغ الدین شاہ صاحب ، مولانا رفیع اللہ قاسمی ، مولانا فضل الرحمن مدنی اور دیگر سینکڑوں علما و مشائخ نے اعلامیہ
پریس کانفنرنس جاری کیا گیا۔
۱- ہر فرد ریاست کے خلاف لسانی، علاقائی، مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصّبات کی بنیاد پر چلنے والی تحریکوں کا حصّہ بننے سے گریز کرے۔ ریاست ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
۲- کوئی شخص فرقہ وارانہ نفرت، مسلح فرقہ وارانہ تنازعہ اور جبراً اپنے نظریات کسی دوسرے پر مسلّط نہ کرے کیونکہ یہ شریعت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور فساد فی الارض ہے۔
۳-کوئی نجی یا سرکاری یا مذہبی تعلیمی ادارہ عسکریت کی تبلیغ نہ کرے، تربیت نہ دے اور نفرت انگیزی، انتہاپسندی اور تشدد کو فروغ نہ دے۔ ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف قانون کے مطابق ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
۴- انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینے والوں، خواہ وہ کسی بھی تنظیم یا عقیدے سے ہوں، کے خلاف سخت انتظامی اور تعزیری اقدامات کیے جائیں گے۔
۵-اسلام کے تمام مکاتب فکر کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے اپنے مسالک اور عقائد کی تبلیغ کریں، مگر کسی کو کسی شخص، ادارے یا فرقے کے خلاف نفرت انگیزی اور اہانت پر مبنی جملوں یا بے بنیاد الزامات لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
۶-کوئی شخص خاتم النبیین حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم، جملہ انبیاء کرام امہات المؤمنین، اہلِ بیت اطہار، خلفاء راشدین اور صحابہ کرامؓ کی توہین نہیں کرے گا۔ کوئی فرد یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے گا نہ ہی توہینِ رسالت کے کیسز کی تفتیش یا استغاثہ میں رکاوٹ بنے گا۔
۷-کوئی شخص کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کرے گا اور صرف مذہبی سکالر ہی شرعی اصولوں کی وضاحت مذہبی نظریے کی اساس پر کرے گا۔ البتہ کسی کے بارے میں کفر کے مرتکب ہونے کا فیصلہ صادر کرنا عدالت کا دائرہ اختیار ہے (مسلمان کی تعریف وہی معتبر ہوگی جو دستور پاکستان میں ہے)۔
۸-کوئی شخص کسی قسم کی دہشت گردی کو فروغ نہیں دے گا، دہشت گردوں کی ذہنی و جسمانی تربیت نہیں کرے گا، ان کو بھرتی نہیں کرے گا اور کہیں بھی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوگا۔
۹-سرکاری، نجی اور مذہبی تعلیمی اداروں کے نصاب میں اختلافِ رائے کے آداب کو شامل کیا جائے گا کیونکہ فقہی اور نظریاتی اختلافات پر تحقیق کرنے کے لیے سب سے موزوں جگہ صرف تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔
۱۰- تمام مسلم شہری اور سرکاری حکام اپنے فرائض کی انجام دہی اسلامی تعلیمات اور دستور پاکستان کی روشنی میں کریں گے۔
۱۱-بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں، خنثیٰ اور دیگر تمام کم مستفیض افراد کے حقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات ہر سطح پر دی جائیں گی۔
۱۲-پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب اور مذہبی رسومات کی ادائیگی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق کریں۔
۱۳-اسلام خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خواتین سے ان کے ووٹ، تعلیم اور روزگار کا حق چھینے اور ان کے تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچائے۔ ہر فرد غیرت کے نام پر قتل، قرآن پاک سے شادی، ونی، کاروکاری اور وٹہ سٹہ سے باز رہے، کیونکہ یہ اسلام کی رو سے ممنوع ہیں۔
۱۴- کوئی شخص مساجد، منبر و محراب، مجالس اور امام بارگاہوں میں نفرت انگیزی پرمبنی تقاریر نہیں کرے گا اور فرقہ وارانہ موضوعات کے حوالے سے اخبارات، ٹی وی یا سوشل میڈیا پر متنازعہ گفتگو نہیں کرے گا۔
۱۵-آزادی اظہار اسلام اور ملکی قوانین کے ماتحت ہے، اس لیے میڈیا پر ایسا کوئی پروگرام نہ چلایا جائے جو فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کا سبب بنے اور پاکستان کی اسلامی شناخت کو مجروح کرے۔
International Research Council for Religious Affairs - IRCRA
Qibla Ayaz
@
https://www.facebook.com/share/p/17vGRHEhPE/?mibextid=wwXIfr
انفارمیشن سیکرٹری
انسپکٹر سلیمان شاہ
تحریک خدائی خدمت گار ترناب چارسدہ