26/02/2026
کوہاٹ میں لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، دو ملزمان گرفتار
کوہاٹ ، 22 فروری2026 کو رات 8 بج کر 5 منٹ پر کے ڈی اے ہسپتال کے قریب عثمان مسجد کے نزدیک نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے لیڈی ڈاکٹر مہویش جاں بحق ہو گئی تھیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور مقدمہ درج کر کے باضابطہ تفتیش کا آغاز کر دیا۔
مقتولہ کے شوہر محمد حسنین، سکنہ کے ڈی اے، نے ابتدائی بیان میں پولیس کو بتایا کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا، جس کے بعد کیس کو جدید تفتیشی خطوط پر استوار کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں سے چھان بین شروع کی گئی۔
واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئےصوبائ حکومت, صوبائی ہیلتھ سیکریٹری ،انسپکٹر جنرل آف خیبر پختونخواہ پولیس زولفقار حمید ، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ ، وزیر صحت، کمشنر کوہاٹ معتصم باللہ اور ڈی آئی جی کوہاٹ عرفان طارق نے فوری رپورٹ طلب کر لی اور ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کی ہدایات جاری کیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ شہباز الٰہی کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جن میں تفتیشی ٹیم آپریشن ٹیم انفارمیشن ٹیم تھے جن میں ایس پی سٹی، ایس پی انویسٹی گیشن، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر، انویسٹی گیشن اسٹاف اور ایس ایچ او تھانہ کے ڈی اے شامل تھے۔ پولیس ٹیموں نے شبانہ روز محنت کرتے ہوئے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں اور جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ ذرائع کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کر لیا۔
ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ موٹر سایئکل اور رکشہ بھی برآمد کرلیا گیا ہیں
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان حیات گل ولد رضیم گل اور سیف علی ولد سید علی، ساکنان گھمکول کیمپ، واردات میں ملوث ہیں۔ بعد ازاں صوبے کے مختلف اضلاع میں چھاپوں کے سلسلے کو وسعت دیتے کارروائی کی گئی، اور آخرکار حیات گل ولد دیر زین گل اور سیف علی ولد سیف خان سکنان گمکول نمبر 3 کو گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم حیات گل کی لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ زبانی تکرار ہوئی تھی، جس کی رنجش میں آ کر ملزمان نے طیش میں فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا۔
یہ کیس نہایت حساس نوعیت کا تھا۔ اسی دوران ضلع میں دہشت گردی اور امن و امان کی دیگر سنگین صورتحال کے باعث پولیس کو بھاری جانی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن میں ڈی ایس پی لاچی سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کی شہادت شامل ہے۔ ان چیلنجز کے باوجود پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالآخر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان مکمل کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔