Rohi Cholistan Desert

Rohi Cholistan Desert Local tourism
(342)

09/08/2026

حال احوال بارڈر پار بوا نال

یہ ویڈیو انڈیا راجستھان کے ضلع بیکانیر کی ہے

08/08/2026

سرحد کے اُس پار بھی کوئی اپنا ہے…

آج راجستھان کے بیکانیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سرائیکی کی یہ ویڈیو دیکھی جو سوشل میڈیا کے ذریعے سرحد کے اِس پار اور اُس پار بسنے والے سرائیکی بولنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

سچ کہوں تو یہ ویڈیو میں نے ایک بار نہیں، کئی بار دیکھی۔

ہر بار دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوئی۔

خاص طور پر جب نواب خان غمگین کی پھوپھو اپنے مخصوص لہجے میں اپنے دل کا درد شاعری کے انداز میں بیان کرتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے راجستھان کی تپتی ہوئی ریت سے کوئی آواز اٹھ کر سیدھی روہی چولستان کے کسی بوڑھے بزرگ کے آنگن میں جا بیٹھی ہو۔

یہ لہجہ اپنا ہے۔

یہ الفاظ اپنے ہیں۔

یہ درد اپنا ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اجنبی نہیں، ہمارے اپنے گھر کا کوئی بزرگ برسوں بعد سامنے بیٹھ کر بات کر رہا ہو۔

ماں بولی صرف زبان نہیں ہوتی، ماں بولی نسلوں کی یاد ہوتی ہے۔
ماں بولی وہ ڈور ہے جو سرحدوں کے باوجود بچھڑے ہوئے لوگوں کو ایک دوسرے سے باندھے رکھتی ہے۔

1947ء میں ایک لکیر کھینچی گئی۔

اس لکیر نے صرف زمین نہیں بانٹی۔

اس نے گھر بانٹے، خاندان بانٹے، رشتے بانٹے، بستیاں بانٹ دیں۔

اور سب سے بڑھ کر، اس نے ان لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا جن کے بزرگ ایک ہی مٹی پر چلتے تھے، ایک ہی کنویں سے پانی پیتے تھے، ایک ہی میلوں میں جاتے تھے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔

آج جب میں اس ویڈیو میں پریہاڑ برادری کا ذکر سنتا ہوں تو دل میں ایک سوال اٹھتا ہے:

سرحد کے اِس پار بھی پریہاڑ آباد ہیں، سرحد کے اُس پار بھی پریہاڑ آباد ہیں…
نہ جانے ان کے بڑوں کے آپس میں کیسے رشتے رہے ہوں گے؟
نہ جانے کتنی محفلیں اکٹھی سجتی ہوں گی؟
نہ جانے کون کس کے گھر بیٹی بیاہ کر گیا ہوگا، کون کس کا بیٹا تھا، کون کس کا پوتا تھا؟
کون کس کے غم میں بیٹھا ہوگا اور کون کس کی خوشی میں جھوم اٹھا ہوگا؟

آج ایک لکیر نے قوموں کو بھی دو طرف کر دیا۔

پریہاڑ اِدھر بھی ہیں، اُدھر بھی ہیں۔
اور صرف پریہاڑ نہیں…
کتنی ہی دوسری برادریاں، خاندان اور قومیں بھی اِس طرف ہیں اور اُس طرف بھی۔

کیا خبر…

اس پار آج کوئی بوڑھی ماں بیٹھی ہو اور اسے اپنے باپ کا وہ گاؤں یاد ہو جو اب دوسرے ملک میں ہے۔

کیا خبر…

اُس پار کوئی بزرگ آج بھی اپنے کسی بچھڑے ہوئے بھائی کا نام لیتا ہو۔

کیا خبر…

کسی خاندان کی کسی بیٹی کا مائیکے والا گھر آج سرحد کے اِس پار ہو اور اس کی اولاد صرف کہانیوں میں اس گھر کا نام سنتی ہو۔

اور شاید کسی بزرگ نے اپنی اولاد کو آج بھی بتایا ہو:

"ساڈے اتھاں فلاں رہندا ہا…
فلاں ساڈا بھرا ہا…
فلاں ساڈی بھینڑ ہئی…
فلاں ساڈے ابے دے یار ہن…"

یہ صرف نام نہیں ہوتے۔

یہ پورا ایک جہان ہوتا ہے۔

یہی تو المیہ ہے کہ آج ہم ایک دوسرے کا غم بھی نہیں بانٹ سکتے، خوشی بھی نہیں۔

نہ جنازے پر پہنچ سکتے ہیں۔

نہ شادی میں شریک ہو سکتے ہیں۔

نہ اپنے بزرگوں کی قبریں دیکھ سکتے ہیں۔

نہ وہ گلیاں دیکھ سکتے ہیں جہاں ہمارے دادا کے قدم پڑے تھے۔

نہ وہ کھوہ دیکھ سکتے ہیں جہاں کبھی ہماری دادی پانی بھرتی ہوگی۔

نہ وہ ٹوبہ دیکھ سکتے ہیں جس کا ذکر ہمارے بزرگ آج بھی اپنی یادوں میں کرتے ہیں۔

روہی کے لوگ ٹوبہوں کے نام بھی صرف جگہوں کے نام کے طور پر نہیں لیتے۔

ہر ٹوبہ ایک داستان ہے۔

ٹوبہ لاکھے والا ہو یا روہی کے دوسرے ٹوبے، کھوہ

کسی کے لیے وہ پانی کا مقام ہے، کسی کے لیے بچپن کی یاد، کسی کے لیے قافلے کا راستہ اور کسی کے لیے اپنے بزرگوں کی آخری نشانی۔

ذرا تصور کیجیے…

اگر کبھی سرحد کے دونوں طرف کے یہ لوگ آزادانہ طور پر ایک دوسرے سے مل سکیں، تو کتنی عجیب ملاقاتیں ہوں گی۔

ایک بزرگ دوسرے بزرگ سے پوچھے گا:

"تہاڈا ناں کیا اے؟"

وہ نام بتائے گا۔

پہلا بزرگ کچھ دیر خاموش رہے گا، پھر شاید آنکھوں میں آنسو لیے کہے گا:

"اوئے… تساں فلاں دے پتر او؟
فلاں ساڈے ابی دے نال بہندا ہا!"

اور پھر ایک نام سے دوسرا نام نکلے گا…

فلاں کا بیٹا…

فلاں کا پوتا…

فلاں کی بیٹی…

فلاں کی پوتی…

اور اچانک دو اجنبی خاندانوں کے درمیان صدیوں پرانی رشتہ داری زندہ ہو جائے گی۔

پھر کوئی پوچھے گا:

"تہاڈی وستی دا ناں کیا اے؟"

جواب آئے گا۔

پھر دوسرا کہے گا:

"اوہو! اتھاں تاں ساڈا ٹوبہ ہا…"

اور شاید اس ایک جملے پر دونوں کی آنکھیں بھر آئیں۔

کیونکہ بعض اوقات انسان کو اپنے وطن سے زیادہ وطن کی کوئی چھوٹی سی نشانی رُلاتی ہے۔

کوئی ٹوبہ…

کوئی کھوہ …

کوئی درخت…

کوئی قبرستان…

کوئی پرانی حویلی…

کوئی مٹی کا راستہ…

یا کسی بزرگ کی زبان سے نکلا ہوا ایک نام۔

یہی روہی ہے۔

یہی چولستان ہے۔

یہی وہ وسیع صحرائی خطہ ہے جو آج پاکستان اور ہندوستان کے مختلف حصوں میں بٹا ہوا نظر آتا ہے، مگر جس کی تہذیبی یادداشت سرحدوں سے کہیں پرانی ہے۔

کبھی اس خطے میں ہاکڑہ بہتا تھا۔ آثارِ قدیمہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں ہزاروں سال پہلے آبادیاں اور زراعت موجود تھی۔ بعد میں دریا کا بہاؤ بدل گیا، پانی غائب ہوا، بستیاں بدلیں، مگر انسان اور اس کی تہذیب نے اس ریت میں اپنی نشانیاں چھوڑ دیں۔

اسی صحرا میں دراوڑ آج بھی اپنے بلند برجوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

اس کے علاوہ قلعہ بجنوٹ اسلام گڑھ،، موج گڑھ، ڈنگر گڑھ، خیر گڑھ جیسے قلعے اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ یہ سنسان دکھائی دینے والی ریت کبھی قافلوں، تجارت، پانی کے راستوں اور انسانی آمدورفت کا ایک اہم خطہ تھی۔

اور ذرا سوچیے…

ان قلعوں کی دیواروں نے کتنے قافلے دیکھے ہوں گے؟

کتنے مسافر آئے ہوں گے؟

کتنی محبتیں شروع ہوئی ہوں گی؟

کتنی جدائیاں ہوئی ہوں گی؟

کتنے لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے اسی ریت پر چلتے رہے ہوں گے؟

اور آج…

اسی ریت کے بیچ ایک لکیر کھڑی ہے۔

ایک ایسی لکیر جس نے صدیوں پرانے راستوں کو روک دیا۔

مگر انسان کی یاد کو نہیں روک سکی۔

سوشل میڈیا نے آج وہ کام شروع کر دیا ہے جو شاید صدیوں سے دل چاہتے تھے۔

اب بیکانیر کا ایک نوجوان کیمرہ اٹھا کر چولستان سے بات کر سکتا ہے۔

چولستان کا ایک بزرگ راجستھان کے کسی گاؤں میں اپنی ماں بولی کی آواز سن سکتا ہے۔

ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔

ایک دوسرے کا لہجہ سن سکتے ہیں۔

اور شاید ایک دن وہ اپنے بزرگوں کے نام بھی ایک دوسرے سے ملا سکیں گے۔

اور ایک بات دل کی گہرائی سے…

سرحد کے اِس پار ہوں یا اُس پار، ہمارے وہ بزرگ جو آج بھی اپنی ماں بولی میں اپنے دکھ کو شعر بنا کر سناتے ہیں، اپنے غم کو ادب کا لباس پہناتے ہیں، اپنی جدائی کو لوک گیت میں ڈھالتے ہیں اور اپنی خوشی کو جھمر میں بانٹتے ہیں اللہ انہیں سدا آباد رکھے۔

وہ سلامت رہیں۔

وہ اپنی مٹی، اپنی زبان، اپنی روایات اور اپنی ریت کو اسی طرح نسل در نسل اٹھائے چلتے رہیں۔

کیونکہ شاید ہماری اصل دولت یہی لوگ ہیں۔

یہی لوگ ہماری چلتی پھرتی تاریخ ہیں۔
یہی ہماری زندہ کتابیں ہیں۔
یہی ہمارے بزرگوں کی آواز ہیں۔

آج ہمارے بچے شہروں میں بڑے ہو رہے ہیں۔

ان کی زبان بدل رہی ہے۔

ان کے لہجے بدل رہے ہیں۔

وہ شہری زندگی کی تیز رفتاری میں اپنے گاؤں کی وہ مٹی، وہ ریت، وہ ٹوبے، وہ کنویں، وہ قصے، وہ جھمر اور وہ درد بھولتے جا رہے ہیں۔

ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسلیں اپنے ہی بزرگوں کے دکھ کو سمجھنے کی زبان کھو بیٹھیں۔

کیونکہ شہری زبان اگرچہ ترقی کی زبان ہو سکتی ہے، مگر ماں بولی دل کی زبان ہوتی ہے۔

اور ہمارے روہی کے لوگوں کی یہ زبان صرف گفتگو کی زبان نہیں…

یہ محبت کی زبان ہے۔
یہ دکھ بانٹنے کی زبان ہے۔
یہ کسی اجنبی کو اپنا بنانے کی زبان ہے۔
یہ غم کو شعر میں بدلنے کی زبان ہے۔

نواب خان غمگین کی پھوپھو جس طرح اپنے دل کا درد شاعری میں بیان کرتی ہیں، مجھے اس میں اپنی دادی کی آواز سنائی دیتی ہے۔

میری دادی بھی کبھی کبھی اپنا دکھ سیدھے لفظوں میں نہیں کہتیں…

شعر میں کہتی ہیں۔

اور شاید یہی ہماری مٹی کا کمال ہے۔

یہاں درد بھی ادب بن جاتا ہے۔

غم بھی گیت بن جاتا ہے۔

جدائی بھی داستان بن جاتی ہے۔

اور آنکھ کا آنسو بھی کسی شعر کا مصرع بن جاتا ہے۔

اسی لیے میری دعا ہے کہ روہی کے یہ بزرگ، چولستان کے یہ بزرگ، راجستھان کے یہ بزرگ، سرحد کے اِس پار اور اُس پار اپنی ماں بولی اور اپنی تہذیب کو سینے سے لگائے رکھنے والے یہ تمام لوگ سدا آباد رہیں۔

ان کی محفلیں آباد رہیں۔

ان کے لوک گیت آباد رہیں۔

ان کی جھمر آباد رہے۔

ان کے قصے آباد رہیں۔

ان کے ٹوبے آباد رہیں۔

ان کے کنویں آباد رہیں۔

ان کی مٹی آباد رہے۔

اور ان کی زبان…

ہمیشہ زندہ رہے۔

تاکہ ہماری آنے والی نسلیں جب کبھی اپنی جڑیں تلاش کریں تو انہیں کسی کتاب کے صفحے پر نہیں، اپنے ہی گھر کے کسی بزرگ کی زبان میں اپنا ماضی مل جائے۔

وہ پوچھیں:

"دادی اماں! روہی کیسی تھی؟"

اور دادی مسکرا کر کہے:

"پتر… روہی ایویں ہئی، جتھاں ریت وی محبت کریندی ہئی…"

کاش یہ محبت ہماری نسلوں کی میراث بن جائے۔

کاش ہمارے بچے ترقی کے ساتھ اپنی مٹی بھی ساتھ لے کر چلیں۔

کاش وہ شہر میں رہتے ہوئے بھی اپنے گاؤں کا ٹوبہ نہ بھولیں۔

اپنے بزرگوں کا نام نہ بھولیں۔

اپنی ماں بولی نہ بھولیں۔

اپنا دکھ بانٹنا نہ بھولیں۔

اور سب سے بڑھ کر…

اپنا ہونا نہ بھولیں۔

یہ خطہ یوں ہی محبتیں بانٹتا رہے۔

یوں ہی اپنے بچھڑے ہوئے لوگوں کو آواز دیتا رہے۔

یوں ہی اپنی مٹی، اپنی ریت، اپنی زبان اور اپنی تہذیب کا خود وارث رہے۔

اور سرحد کے دونوں طرف بسنے والے ہمارے سب بزرگ سلامت رہیں، آباد رہیں، خوش رہیں، اپنی ماں بولی کو زندہ رکھتے رہیں۔

اللہ ہماری آنے والی نسلوں میں بھی یہ محبت، یہ ادب، یہ درد، یہ برداشت اور یہ اپنی مٹی سے وفا میراث کے طور پر منتقل فرمائے۔

آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
ویڈیو بشکریہ
نواب خان غمگین

از قلم
ہک روہیلا

آپ کا اپنا
محمد کامران اسلم

8 اگست 2026ء
دیارِ غیر
املج ، سعودی عرب

دربار چنن پیر
29/06/2026

دربار چنن پیر

02/02/2026

🩵

30/12/2025

ول ہک واری گھاگھرا واہسی سکھِسوُں اساں ترݨ
روہی رنگلی رنگ لڳ ویسن مال ویسی ول چرݨ
ول ول آسن ہرݨ

خالد نجیب 💙

26/11/2025

خدا کے واسطے آواز اٹھاو
چولستان میں جانور (اونٹ) میں بیماری وبا آی ہے
پرائیوٹ ویکسین کروائ ہے لیکن کوئ رزلٹ نہیں
ہماری آنکھوں سے سامنے جانور مر روے ہیں
حکومت وقت سے گزارش ہے
نوٹس لے

ارداس

جام رفیق چولستانی
Jam Shahid Cholistani

Address

Channan Pir
Channan Pir

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rohi Cholistan Desert posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share