اردو کہانیاں

اردو کہانیاں آپ پڑھ نے کا شوق رکھتے ہیں تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہی?

یہ کیلے کی طرح نظر آنے والا سانپ دراصل (Banana Ball Python) ہے جسے بہت سے لوگ پالتو جانور کے طور پر پالتے ہیں۔ کیا آپ نے...
05/10/2023

یہ کیلے کی طرح نظر آنے والا سانپ دراصل (Banana Ball Python) ہے جسے بہت سے لوگ پالتو جانور کے طور پر پالتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ حشرات الارض میں سے جو کیڑا مکوڑا سبزے میں رہتا ہے وہ سبز ہو جاتا ہے، جو مٹی میں رہتا ہے وہ مٹیالا ہوجاتا ہے، جو چٹانوں میں رہتا ہے وہ چٹانوں سا ہو جاتا ہے اور جو ریت میں رہتا ہے وہ اسی رنگ کا ہوجاتا ہے۔ اس طرح شاید یہ سانپ کیلوں میں رہ رہ کر ہو بہو کیلا ہو گیا۔

اسی طرح جو انسان اچھوں کی صحبت میں رہے گا وہ اچھا ہو جائے گا اور جو بروں کی صحبت میں رہے گا وہ برا ہو جائے گا۔ جو علماء و صلحاء کی صحبت میں رہے گا وہ علم والا اور نیک ہو جائے گا اور جو فاسقوں کی صحبت میں رہے گا وہ بد و شریر ہو جائے گا۔۔۔

قیامت کے دن بری صحبت لے ڈوبے گی اور اس وقت انسان روتا ہوا کہے گا👇
-
"یٰوَیۡلَتٰی لَیۡتَنِیۡ لَمۡ اَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِیۡلًا ﴿۲۸﴾

ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
(الفُرْقَان:28)

یاد رکھیں! ماحول و صحبت تعلیم و تربیت سے زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ فیس بک اور وٹس ایپ بھی صحبت معنوی ہیں یہاں بھی غور کریں آپ کس کی صحبت میں ہیں۔ جس کی صحبت میں رہیں گے وہی رنگ آپ پر چڑھ جائے گا!

شیروں کی صحبت میں کتا بھی بیٹھنا شروع کر دے تو وہ بھی دھاڑنا شروع کر دیتا ہے اور کتوں کی صحبت میں شیر بیٹھنا شروع کر دے تو وہ بھی بھونکنا شروع کر دیتا ہے۔

اس لیئے ! قدم سوچ سمجھ کے اٹھائیں۔

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُ...
05/10/2023

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا:
"سردی نہیں لگ رہی۔۔۔؟؟؟؟"
دربان نے جواب دیا: "بہت لگتی ہے حضور۔۔۔!!!
مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔"
"میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں۔"
دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا،
لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اُس بوڑے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی:
"بادشاہ سلامت۔۔۔!!!
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا
مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔"
*سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کیجئے، خدارا سہاروں کی بساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیں....

آج حضرت علی علیہ السلام کا اک اک قول سناتے جائیں ۔جزاک اللّہ
01/06/2023

آج حضرت علی علیہ السلام کا اک اک قول سناتے جائیں ۔
جزاک اللّہ

مجھے نہیں لگتا اس نسل میں کوئی اس ڈش کو جانتا ہوگا😒
28/05/2023

مجھے نہیں لگتا اس نسل میں کوئی اس ڈش کو جانتا ہوگا😒

28/05/2023

‏قدرت نے انگریزوں کو حُسن دیا
‏یہودیوں کو پیسہ دیا
‏چائنیز کو دماغ دیا
‏اور پاکستان کو ......؟؟ 🤔

27/05/2023

جس دن بیٹی پیدا ہوتی ہے نا🌸
*"اس دن ماں اپنی کان کی بالیاں اتار کر صندوق
میں رکھ دیتی ہے اور کہتی ہے یہ میں اپنی بیٹی
کو دوں گی
گھر میں سب سے اچھے والی رضائی اس دن سے سنبھالنا شروع کر لیتی ہے کہ یہ میں اپنی بیٹی کو دوں گی
اس طرح کئی چیزیں رکھ رکھ کر جہیز کا صندوق بھرا پڑا ہوتا ہے
مگر ماں ہوتی ہے کہ پھر بھی روز بیٹی کے ابا سے لڑائی کرتی ہے
کچھ پیسے الگ سے دیا کرو بیٹی کی شادی بھی تو کرنی ہے
جبکہ پہلے سے ہی اس بیٹی کے نام کی دو کمیٹی ڈالی ہوتی ہے
اور وہ مزدوری کرنے والا باپ بھی کہتا ہے میں اپنی بیٹی کی شادی ایسے کرو گا دنیا دیکھے گی سب کچھ خرید کر لاؤں گا
ایسے لگتا ہے جیسے اپنی بیٹی کے لیے خود کو بیچ دیں گے
اس ہی لڑکی کے پلڑے میں اگر نصیب كم پڑ جائے تو کیا وہ بھی ماں باپ اس کی جھولی میں لا سکتے ہیں*"
اللہ تعالیٰ ہر بیٹی کے نصیب کو اچھا کرےآمین.

27/05/2023

یا اللہ تو رات کو جس طرح دن میں بدلتا ہے
اسی طرح ہماری پریشانیوں کو آسانی میں بدل دے
آمین
صبح بخیر

26/05/2023

گھر کا ماحول خوشگوار بنانے ، اور سسرال میں اپنی عزت بنانے کے کچھ ٹوٹکے ۔

شوہر کی روٹین یہ بنائیں کہ گھر آئے پر ، وہ پہلے اپنی ماں کے پاس جائے ، بعد میں آپ کے پاس آئے ۔

جب بھی بازار جائیں ، ساس کے لئے کوئی ناں کوئی تحفہ ضرور لے کر لائیں ، چاہے وہ ، لون کا سوٹ ہو ، یا دس روپے کی مونگ پھلی ۔

کپڑے بدلنے لگیں تو اپنے دو پسندیدہ جوڑے ، ساس کے پاس لے جائیں ، ان سے پوچھیں کہ میں ان دونوں میں سے کون سا جوڑا پہنوں ۔ پھر جو وہ کہیں ، وہ پہن لیں ۔

جب جب آپ کے شوہر آپ کے ساتھ کوئی اچھا سلوک کریں ، ساس کے سامنے ، ساس کی تعریف کریں ، کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی بہت اچھی تربیت کی ہے ۔

گاڑی میں بیٹھنا ہو ، تو بڑی محبت کے ساتھ ساس کو فرنٹ سیٹ پر بٹھائیں ، اور ان سے کہیں کہ یہ آپ کا حق ہے ، کیونکہ آپ کی دعاؤں کی وجہ سے ہی ہمیں اللہ نے یہ گاڑی دی ہے ۔

گھر میں کھانا بنانے لگیں تو ساس سے پوچھ لیں کہ آج کیا بنائیں ۔ اکثر وہ یہ معاملہ آپ پہ چھوڑ دیں گی ۔ لیکن اگر وہ کسی خاص چیز کی فرمائش کریں تو وہی پکائیں ۔

کبھی بھی ، کسی کے بھی سامنے ، اپنے میاں ، اپنی ساس اور کسی بھی دوسرے سسرالی رشتہ دار کی برائی نہ کریں ، کیونکہ یہ بھی غیبت ہے ۔ اور غیبت ایسی منحوس چیز ہے ، جو گھروں کے گھر اجاڑ دیتی ہے ۔

اگر کبھی آپ کی ساس اور آپ کے میاں ، اکٹھے بیٹھے باتیں کر رہے ہوں ، تو پوری کوشش کریں ، کہ میاں کو بلا کر ، وہاں سے نہ اٹھائیں ۔

ساس کی ہر پسند کی تعریف کریں ۔ اور انہیں یقین دلائیں کہ آپ ، ان کے اعلی ذوق کی معترف ہیں ۔

اپنی ساس کے پاس بیٹھ کر ، ان سے ان کے ماں باپ کی باتیں کیا کریں ۔ ان کے بچپن اور جوانی کے قصے سنا کریں ۔

کبھی کبھی ، ان کے کہے بغیر ان کے پاؤں دبا دیں ۔ ان کے سر کی کنگھی کر دیا کریں ۔

اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے سامنے ، اپنی ساس کی تعریف کرتی رہا کریں ۔

‏پاکستان کو کیسے برباد کیا گیا (ضرور پڑھیں)👇ایک بادشاہ کا گزر ایسے علاقے سے ہوا جہاں لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے ...
18/04/2023

‏پاکستان کو کیسے برباد کیا گیا (ضرور پڑھیں)👇

ایک بادشاہ کا گزر ایسے علاقے سے ہوا جہاں لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے بادشاہ نے حکم دیا عوام کی سہولت کیلئے ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تاکہ ہر چھوٹا بڑا سہولت کیساتھ پانی پی سکے،
بادشاہ یہ کہہ کر آگےبڑھ گیا شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر ‏نہر کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نےمشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جارہا ہے، ضروری ہے کہ اسکی حفاظت کا بندوبست کیاجائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلئے مقرر کیا جائے سنتری کی تعیناتی کے حکم ملنے پر یہ قباحت سامنے آئی کہ گھڑا بھرنے کیلئے ماشکی
‏کا ہونا ضروری ہے اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جاسکتا بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کیساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے ایک اور اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھاکر لانا نہ تو ماشکی کا کام ہے
‏اور نہ ہی سنتری کا اس محنت طلب کام کیلئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہئیں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کرکے رکھیں ایک اور دور اندیش مصائب نے
مشورہ دیا کہ اتنےلوگوں کو رکھ کر کام منظم طریقے سے چلانے کیلئے ان
‏اہلکاروں کا حساب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلئے منشی محاسب رکھنے ضروری ہونگےاکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا اکاؤنٹنٹ متعین کرنا ہونگے ایک اور زو فہم اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ ہر کام اچھےطریقے سے چل ریا ہےتو ان ماشکیوں سنتریوں اور باربرداروں
‏سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا، ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہوجاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور صلح صفائی کون کرائےگا؟ کہ کام بلا تعطل چلا رہے اس لیئے خلاف ورزی اور اختلاف
‏کرنے والوں کی تفتیش کیلئے قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔
ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیے، ایک ڈائریکٹر بھی تعینات کردیا گیا۔
سال بعد بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو
‏اس نے دیکھا کہ نہر کنارے ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آچکا ہے جس پر لگی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں،
عمارت کا دبدبہ آنکھون کو خیرہ کرتاہے عمارت کی پیشانی پر نمایاں انداز میں
”وزارت انتظامی امور برائے گھڑا“
کا بورڈ لگا ہوا ہے بادشاہ اپنےمصاحبین کیساتھ اندر داخل ہوا تو ایک الگ ہی
‏جہان پایا، عمارت میں کئی کمرے میٹنگ روم اور دفاتر تھے ایک بڑے سے دفتر میں آرام دہ کرسی پر ایک پروقار معزز شخص بیٹھا تھا جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات
” ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا“
لکھا ہوا تھا، بادشاہ نے
‏حیرت کیساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب اور اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے زندگی میں نام بھی نہیں سنا تھا۔ وزیر نے جواب دیا: حضور یہ سب آپ ہی کے حکم پر ہوا ہے آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلئے یہاں ایک پانی کا گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔
‏بادشاہ حیرت کیساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا خالی اور ٹوٹا ہوا ہے۔
اور سامنے ایک بورڈ لگا ہے
”گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلئے اپنے عطیات جمع کرائیں“
منجانب:
”وزارت انتظامی امور برائے گھڑا“
‏یہ تھی پاکستان کو برباد کرنے کی وہ کہانی جس پر عوام نے آنکھیں بند کیئے رکھیں ہیں۔
پاکستان دو لخت ہوکر ٹوٹ گیا لیکن ہماری مجرمانہ خاموشی نا اس وقت ٹوٹی نا آج 😢
ایک عام پاکستانی۔

16/04/2023

ایک سردار جی کے لطیفے نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ مکمل طور پر قائل کر دیا کہ سدا بہار لطیفے دراصل اپنے تصوف کا ایک پوشیدہ پرتو رکھتے ھیں۔

لطیفہ کچھ یوں ھے کہ ایک سردار جی نہایت اھتمام سے چائے پی رھے تھے۔ وہ ایک گھونٹ بھرنے کے بعد چائے کو ایک چمچے سے خُوب ھلاتے ، چمچہ چائے میں پھیر کر ایک گھونٹ بھرتے اور پھر مسکرانے لگتے۔ وہ یہ عمل بار بار دُھراتے رھے۔ ھر گھونٹ کے بعد چائے کو چمچے سے ھِلاتے ، ایک اور گھونٹ بھرتے اور مُسکرانے لگتے۔

نزدیک بیٹھے ایک صاحب نے پُوچھا کہ ، ”سردار جی آپ ھر بار چائے کو چمچے سے ھِلا کر گھونٹ بھرنے کے بعد مُسکراتے کیوں ھیں؟“

تو سردار جی نے کہا کہ ، ”ایک بات آج ثابت ھو گئی ھے، چائے میں اگر چینی نہ ڈالو تو لاکھ اُسے چمچے سے ھِلاؤ وہ کبھی بھی میٹھی نہیں ھو گی“۔

اگر نیک اعمال کی چینی آپ کی حیات میں نہ ھو تو آپ لاکھ عبادتیں کریں ، تسبیح پھیریں ، فیصلہ تو اعمال کی چینی سے ھو گا ورنہ روزِ حشر آپ کی اگلی پُوری زندگی پھیکی ھی رھے گی۔

شاہ حسین اور بابا بلھے شاہ کے اکثر شعروں میں یہی پیغام ھے ، ”کہ اگر عمل مفقُود ھے تو تم پھیکے کے پھیکے رھو گے، کبھی میٹھے نہ ھو گے.

08/04/2023

اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ " بھائی ذرا اﺱ مرغی ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ دے ﺩﻭ "
ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ﻣﺮﻏﯽ ﺭکھ ﮐﺮچلے ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬ ﮔﮭﻨٹے ﺑﻌﺪ ﺁ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ "

ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﺷﮩﺮ ﮐﺎ قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ پر آ گیا ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﯾﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ"
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ " ﯾﮧ مرغی ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ھﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮩﯿﮟ جو آپ کو دے سکوں"
قاضی ﻧﮯ کہا کہ کوئی بات نہیں ، ﯾﮩﯽ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﺎﻟﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ کہ مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽھے "

ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﺎ بھلا ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ھو گا ؟ مرغی تو ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯼ تھی پھر ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ سکتی ھے" ؟
قاضی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ- " ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ اسے غور سے ﺳﻨﻮ ! ﺑﺲ ﯾﮧ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺍﺱ کے مالک ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ تیری مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے - ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ خلاف مقدمہ لے کر ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ہی ﮔﺎ "
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ " ﺍﻟﻠﻪ سب کا ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮐﮭﮯ" اور مرغی قاضی کو پکڑا دی -

قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ نکل ﮔﯿﺎ ﺗﻮ مرغی کا ﻣﺎﻟﮏ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ دکاندار سے ﮐﮩﺎ کہ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ھے ؟
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ " میں نے تو کاٹ دی تھی مگر ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے"

ﻣﺮﻏﯽ ﻭالے نے حیران ھو کر پوچھا : بھلا وہ ﮐﯿﺴﮯ ؟ "ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﮌ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺌﯽ ھے ؟ دونوں میں پہلے نوک جھونک شروع ھوئی اور پھر بات جھگڑے تک جا پہنچی جس پر ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﭼﻠﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ قاضی کے پاس چلتے ھیں " اور چل پڑے -

ﺩﻭﻧﻮﮞ نے ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺟﺎﺗﮯ ھﻮﺋﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﻟﮍ ﺭھﮯ ہیں ، ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ھﮯ جبکہ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮩﻮﺩﯼ - ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﯽ آنکھ ﻣﯿﮟ جا ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ یہودی کی آنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ - ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﮯ کر ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ - ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺩﻭ مقدے ﺑﻦ ﮔﺌﮯ -

ﻟﻮﮒ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺐ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﺍپنے آپ کو چھڑا ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ، ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ھو کر ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼڑھ ﮔﯿﺎ - ﻟﻮﮒ جب ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ لئے ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ تو ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ -

ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ لیا ﺍﻭﺭ سب اس کو ﻟﮯ ﮐﺮ قاضی ﮐﮯ ﭘﺎس ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ -

قاضی مرغی فروش ﮐﻮ ﺩﯾکھ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﻏﯽ ﯾﺎﺩ ﺁ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ اسے ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ -

ﺟﺐ قاضی ﮐﻮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ اس نے سر پکڑ لیا - اس کے بعد چند کتابوں کو الٹا پلٹا اور کہا کہ "ھم تینوں مقدمات کا یکے بعد دیگرے فیصلہ سناتے ھیں" ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ -

قاضی نے پوچھا ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ دعوی ﮐﯿﺎ ھے ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ: ''جناب والا ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﭼﺮﺍﺋﯽ ھے ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے'' - قاضی صاحب ! ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟؟

قاضی: '' ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﻟﻠﻪ اور اس کی قدرت ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ: ''ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ قاضی صاحب''
قاضی: '' ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﺎ بھلا کیا مشکل ھے''

ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ کا مالک خاموش ھو گیا اور اپنا کیس واپس لے لیا -

قاضی: '' ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﻮ ﻻﺅ '' - ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ عرض کیا کہ '' قاضی ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭی ھے ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ''

قاضی ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ: " ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﯾﺖ ﻧﺼﻒ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ آنکھ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ آنکھ ﭘﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ "
ﯾﮩﻮﺩﯼ: " بس ﺭھنے ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﺎ ﮨوں"

قاضی: " ﺗﯿﺴﺮﺍ مقدمہ بھی پیش کیا جائے" -

ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ عرض کیا کہ " قاضی صاحب ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﯿﺎ "

قاضی تھوڑی دیر ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﻻ: " ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭکہ تم لوگ ﺍسی ﻣﯿﻨﺎﺭ پر جاؤ ﺍﻭﺭ مدعی ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺱ مدعی علیہ (ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ) ﭘﺮ اسی طرح ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎ دے جس طرح مرغی فروش نے اس کے باپ پر چھلانگ لگائی تھی"
نوجوان نے کہا: " قاضی صاحب ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺅﮞ گا "

قاضی نے کہا " ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ، میرا کام عدل کرنا ھے - ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ؟؟؟
نوجوان نے اپنا دعوی واپس لے لیا -

**** نتیجہ اگر آپ کے پاس قاضی کو دینے کے لئے مرغی ھے تو پھر قاضی بھی آپ کو بچانے کا ہر ھنر جانتا ھے -

**** اُمید ہے پاکستانی نظامِ عدل کے تناظر میں آپ اس کہانی کا مطلب سمجھ گئے ہوں گے ؟

منقول

Address

Chambar To Tandoallayar Link Road
Chambar
77081

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اردو کہانیاں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to اردو کہانیاں:

Share

Category